قائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر نے آسیہ اندرابی اور انکی ساتھی کشمیری خواتین کی سزا کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، نائیدہ نسرین کو سزا دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، دہلی کی عدالت کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ حریت قیادت کو دبانے کیلئے کالے قوانین کا استعمال ناقابل قبول ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے یو اے پی اے کو بنیادی حقوق کے خلاف قانون قرار دیا اور کہا کہ آسیہ اندرابی اور ساتھیوں کو 30 سال سزا بھی کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے کشمیریوں پر مظالم کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔ چوہدری لطیف نے کہاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔ انہوں نےکہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا، عالمی برادری آسیہ اندرابی اور دیگر رہنماؤں کی فوری رہائی میں کرادد ادا کرے۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
