وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ ہمارا مقابلہ غربت، بے روزگاری اور افلاس سے ہے، ہم نے سیاسی انتقام کے بجائے رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیا۔ اللہ نے کامیابی دی تو جشن اور فائرنگ کے بجائے اللہ کا شکر ادا کیا۔ جو اعلان کیا اس پر عملدرآمد کیا، آج حویلی میں اربوں روپے کے منصوبے زیر عمل ہیں۔ مجھے کسی عہدے یا الیکشن کی نہیں بلکہ حویلی کی ترقی کی فکر ہے۔ ماضی میں حویلی کا ووٹ کمزور ووٹ تصور کیا جاتا تھا جبکہ آج حویلی کا ووٹر ریاست کا طاقتور ترین ووٹر ہے۔ مجھ پر بھمبر سے تاو بٹ تک کی ذمہ داری ہے، مصروفیات کیوجہ سے اہلیان حویلی کو وقت نہیں دے سکا۔ بطور وزیراعظم ایسے وقت میں ذمہ داری سنبھالی جب ریاست میں سیاسی حالات نزاع کا شکار تھے اور سیاسی جماعتیں محدود ہو چکی تھیں۔ جب اللہ کے فضل سے یہ منصب سنبھالا تو جہاں گیا لوگوں نے محبت سے استقبال کیا، سیاسی سرگرمیاں بحال ہوئیں اور عوام و حکومت کے درمیان رابطہ دوبارہ قائم کیا گیا۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وہ کام کیے جو گزشتہ چار سال سے التواء کا شکار تھے، آج عوام کا اعتماد بحال اور بے چینی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ عوام کو ماضی اور حال کا موازنہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ماضی کی حکومت میں جب ایک پرائمری سکول نہیں بن سکا ایل او سی حویلی میں یونیورسٹی لیکر آیا۔ آئندہ الیکشن میں پاکستان پیپلزپارٹی دوبارہ حکومت بنائیگی اور تعمیر و ترقی کا سفر جاری رہیگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حویلی ممتاز آباد اپنی رہائش گاہ پر اہلیان حویلی کے ساتھ منعقدہ عید ملن پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ اہلیانِ حویلی کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں، اس تقریب کا مقصد عوام سے براہِ راست ملاقات اور اپنی حکومت کے گزشتہ تین سے چار ماہ کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالتے وقت وسائل کی کمی اور مسائل بے شمار تھے، اللہ کا کرم ہے کہ وزیراعظم بن کر ابھی اپنے والد کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے نہیں پہنچا تھا کہ وزیراعظم پاکستان سے حویلی کے لیے 5 ارب روپے کا دانش سکول منظور کروایا جو ایچی سن کالج کے معیار کا ادارہ ہے اور حویلی کا مستقبل اس سے جڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل او سی پر جہاں مقبوضہ کشمیر میں بھی یونیورسٹی نہیں، وہاں حویلی میں یونیورسٹی قائم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حویلی کا دیرینہ مسئلہ گرڈ اسٹیشن کا تھا آج اس کا افتتاح کر دیا ہے۔ بھیڈی میں ایک میگاواٹ ہائیڈل پراجیکٹ دیکر اس علاقے کو روشن کیا، خورشید آباد میں 1 ارب 27 کروڑ کا ہائیڈل کا منصوبہ جاری ہے، بھیدی لسڈنہ روڈ کی ڈی ڈبلیو پی ہو چکی، لسڈنہ حویلی روڈ کو کشادہ کرکے 18 فٹ کریں گے۔ ممتاز آباد اور خورشید آباد تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال اور ٹاؤن کمیٹیوں کے نوٹیفکیشن ہو چکے، میونسپل کارپوریشن کہوٹہ کے بعد 40 کروڑ کے سپورٹس اسٹیڈیم اور دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز حسین راٹھور کی وجہ سے حویلی کو شناخت اور پہچان ملی۔ ممتاز راٹھور کو 9 ماہ کی حکومت ملی لیکن لوگ آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں، 36 سال بعد بھی ان کا نام زندہ ہے اور ان کی حکومت کے اثرات لوگوں کے دلوں میں موجود ہیں۔ 36 سال بعد ممتاز راٹھور کے بیٹے کو اسی منصب پر فائز ہونے کا موقع ملا جو اللہ کی خاص کرم نوازی ہے۔ ممتاز راٹھور کے 9 ماہ حکومت کے آغاز کے تھے جبکہ میرے 8 ماہ حکومت کے آخری ہیں۔ تاو بٹ سے بھمبر تک عوام کا اعتماد بحال کرنا اور کارکردگی دکھانا میری ذمہ داری تھی اور ہے۔ وزیراعظم نے ماضی بطور خاص حویلی کی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت یاد کریں جب یہاں سیاست اس نہج پر پہنچ چکی تھی کہ عزتیں محفوظ نہیں تھیں، ووٹ نہ دینے پر راستے بند کیے جاتے تھے اور باعزت لوگوں کا جینا مشکل ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب گزشتہ الیکشن میں محمود گلی سے انتخابی مہم کے دوران داخل ہوئے تو دو لٹکتی لاشوں کا منظر تھا، اور لوگوں کو سیاسی طور پر شدید انتقام کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ خود بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بنے اور جیل گئے، لیکن 2021 کے انتخابات جیتنے کے بعد انہوں نے جیت کے جشن میں فائرنگ کے بجائے اللہ کا شکر ادا کرنے کی روایت ڈالی اور اس وقت کی تقریر بھی اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے اپنے حامیوں کو کسی جشن کے بجائے اللہ کا شکر ادا کرنے اور رواداری کو فروغ دینے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ 2021 کے بعد کوئی ٹارگٹ کلنگ یا سیاسی انتقام کا واقعہ پیش نہیں آیا، یہ کامیابی اہلیان حویلی اور شہداء کی قربانیوں کی بدولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حویلی کا ووٹر آج ریاست کا سب سے طاقتور ووٹر بن چکا ہے اور ہر ووٹر وزیراعظم کی طاقت رکھتا ہے۔ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ہمیں اپنے ماضی کو یاد رکھنا ہوگا، جب اس حلقے میں انتخابات کے دوران قتل و غارت ہوتی تھی اور لوگوں کو شدید انتقام کا نشانہ بنایا جاتا تھا، لیکن جب سے اللہ نے ہمیں موقع دیا ہم نے بھائی چارے اور رواداری کی فضاء قائم کی، ساڑھے چار سال میں کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ رفاقت چوہدری کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں لیکن کسی بے گناہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا، رفاقت چوہدری کا تعلق میری جماعت سے تھا، مجھے کہا جاتا ہے کہ آپ کے پاس طاقت اور اختیار ہے آپ ایکشن لیں لیکن ہم کسی بے گناہ کو نشانہ نہیں بنا سکتے، اس قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جو مجرم ہوگا وہ بچ نہیں سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2021 کا الیکشن جیتنے کے بعد اسی شام کو عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی آواز بنیں گے اور حقیقی معنوں میں نمائندگی کا حق ادا کریں گے اور صرف 26 دن بعد کشمیر کونسل کی نشست بھی حویلی کے لیے حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ 2021 کا الیکشن جیتنے کے بعد اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی عوام کی آواز بلند رکھی، بعد ازاں ایک کولیشن حکومت کا حصہ رہے جس میں سیاست کمزور ہوگئی تھی ان حالات میں بھی حویلی کو یونیورسٹی دی جب ریاست کے کسی حلقے میں ایک پرائمری سکول تک نہیں بن سکا تو آپ کے نمائندے نے اپنا حق ادا کرنے کی پوری کوشش کی جس کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست میں بدامنی، نفرت اور احتجاج کا سلسلہ بڑھا تو ایک عوامی حکومت کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اور دیگر متعلقہ حکام نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے بطور وزیراعظم میرا انتخاب کیا گیا جو کہ ایک بہت بڑا اعزاز تو تھا لیکن اس کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی تھی۔ وزیراعظم فیصل ممتازراٹھور نے کہا کہ یہ ان کے لیے ایک امتحان تھا، وسائل محدود تھے لیکن عزم اور عوام کا اعتماد ساتھ تھا۔ گزشتہ 8 ماہ میں عوامی اعتماد بحال کیا، ریاست بھر کے دورے کیے، ترقیاتی عمل کو بحال کیا اور ریاست بھر کے دورے کر کے لوگوں کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے۔ مظفرآباد میں مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے انویسٹمنٹ کانفرنس منعقد کروائی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی پیکج کے تحت حویلی میں بھی ضرورت کی بنیاد پر ادارے قائم اور اپ گریڈ کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ میں نے جو وعدہ کیا اس کو پورا کیا، ہاں کسی کی تقرری کا معاملہ رہ گیا ہو گا لیکن حویلی کے ہر گھر میں روزگار فراہم کرنے کا عزم ہے اور یہ منصوبے اسی کی نوید ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام کے اعتماد اور ممتاز راٹھور کی قربانیوں کی بدولت وہ اس منصب تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے شکایت ملی کہ لوگ دور دراز سے مجھ سے ملاقات کے لیے آتے ہیں لیکن انہیں بعض اوقات دشواری کا سامنا کرنا پڑتا یا ملاقات نہیں ہو سکتی تو میں نے فیصلہ کیا کہ ہر منگل کو وزیراعظم ہاوس میں عوام کے لیے ملاقات کا دن مختص کر دیا جبکہ کشمیر ہاوس اسلام آباد میں ہفتے کا دن عوام سے ملاقات کے لیے مختص کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ غربت، بے روزگاری اور مسائل سے ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ چار ماہ میں ہر دن ایک نئی کامیابی کی خبر ملے گی، اور عوام کے تعاون سے مسائل حل کیے جائیں گے۔وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی آئندہ انتخابات میں حکومت بنائے گی۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
