وزیراطلاعات، اوقاف و مذہبی امور آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر چوہدری محمد رفیق نئیر نے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی سربراہی میں قائم پاکستان پیپلزپارٹی آزاد جموں وکشمیر کی عوامی حکومت کے 100 ایام پورے ہونے پر مختصر عرصہ کی مثالی حکومتی کارکردگی بارے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے مختصر عرصے میں ایسے عملی اور دوررس فیصلے کیے ہیں جن کے مثبت اثرات پورے خطے میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ سیاسی نظام کی بحالی، میرٹ کے فروغ، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی، کئی سالوں سے زیر التوا مسائل کے حل سمیت سروس ڈلیوری میں بہتری اور عام آدمی کی مشکلات کم کرنے کیلئے عوامی حکومت نے جو تاریخی اقدامات کیے ہیں انکی وجہ سے عوام کا سسٹم پر اعتماد بحال ہوا ہے اور ریاست سے بے چینی کی کیفیت کا خاتمہ ہوا ہے ۔ وزیراطلاعات نے کہا کہ حکومت نے انفراسٹرکچر کی بہتری کو ترجیح دیتے ہوئے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی توسیع اور ری کنڈیشننگ کے منصوبوں کا آغاز کیا۔ تاریخی اوورسیز کنونشن، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے معاہدے پر عملدرآمد، صحت کارڈ، انٹرنیٹ سروس کی بہتری کیلئے فائیو جی سروسز شروع کرنے کیلئے عملی اقدامات، عوامی مسائل حل کرنے کیلئے پے در پے کابینہ اجلاس، تمام حلقوں میں ترقیاتی فنڈز کی فراہمی سمیت کئی سالوں کی محرومیوں کا ختم کرنے کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں۔ چوہدری محمد رفیق نئیر نے کہا کہ بلدیاتی نظام کی مضبوطی کے لیے نئی ٹاؤن کمیٹیوں کے قیام اور اپ گریڈیشن کے اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں بعض میونسپل کمیٹیوں کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دینے اور نئی نیابتوں کے قیام کے اعلانات شامل ہیں۔ شہری سہولیات کی بہتری کے لیے اسٹریٹ لائٹس، واٹر سپلائی اسکیموں اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ منصوبوں کی منظوری بھی دی گئی ہے۔صحت کے شعبے میں حکومت نے متعدد ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کا اعلان کیا ہے۔ کوٹلی ڈسٹرکٹ ہسپتال کو 250 بیڈ تک توسیع دینے، ڈی ایچ کیو میں اضافی بیڈز فراہم کرنے اور نیلم ڈسٹرکٹ ہسپتال کو 100 بیڈ تک بڑھانے کے فیصلے کیے گئے ہیں۔ میرپور میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال کے قیام اور مختلف اضلاع میں سٹی اسکین مشینوں کی فراہمی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ تعلیم کے میدان میں نئے ڈگری کالجز اور یونیورسٹی کیمپس کے قیام، ہائیر سیکنڈری سکولوں کی منظوری اور طلبہ کا تعلیمی سیشن متاثر نہ ہونے دینے کیلئے خالصتا میرٹ کی بنیاد پر 300 سے زائد لیکچررز کی ایڈہاک تقرری عمل میں لائی گئی ہے۔ طلبہ یونین کی بحالی اور تعلیمی بورڈز کے قیام کی منظوری کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔انہوں نےکہا کہ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں اربوں روپے کی لاگت سے فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھانے کے تاریخی منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ٹیلی کام سیکٹر کے لیے رائٹ آف وے چارجز کے خاتمے اور 5 جی سروسز کے بروقت اجرا کے لیے پالیسی اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ دور دراز علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سہولیات کی فراہمی کے لیے پی ٹی اے نے سروے شروع کر دیا گیا ہے۔اوورسیز کشمیریوں کےمسائل کے حل کے لیے تاریخی اوورسیز کنونشن کے انعقاد اور ان سے متعلقہ مسائل کی جلد یکسوئی کے لیے علیحدہ عدالت کے قیام، انکی شکایات کے ازالے کے لیے ویب پورٹل اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ون ونڈو آپریشن کے قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔انہوں نےکہا کہ حکومت نے فلاحی اقدامات کے تحت کم از کم ماہانہ اجرت چالیس ہزار روپے مقرر کرنے، گریڈ ون ملازمین کی مستقلی، ڈرائیورز کے گریڈ میں اضافے، چھوٹے ملازمین کو اضافی تنخواہ دینے اور ہیلتھ کارڈ کے اجرا جیسے فیصلے کیے ہیں۔ بجلی کے بقایاجات کی معافی، پنشن تفاوت کے خاتمے اور معذور افراد کے لیے وظائف و کوٹہ بڑھانے کے اقدامات بھی منظور کیے گئے ہیں۔ احتجاجی واقعات میں شہید افراد کے لواحقین کے لیے مالی امداد اور سرکاری ملازمت فراہم کردی گئی ہیں۔وزیراطلاعات چوہدری محمد رفیق نئیر نے کہا کہ حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے سنجیدہ اور متحرک ہے اور تمام اعلانات پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے مربوط مانیٹرنگ نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت آزاد جموں و کشمیر کو ترقی، خوشحالی اور بہتر طرز حکمرانی کی نئی سمت فراہم کرے گی اور مختصر مدت میں کیے گئے اقدامات آنے والے برسوں کی بنیاد ثابت ہوں گے۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
