چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر /چئیرمین لا کمیشن جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں لا کمیشن کا پانچواں اجلاس سپریم کورٹ کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔

چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر /چئیرمین لا کمیشن جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں لا کمیشن کا پانچواں اجلاس سپریم کورٹ کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔ سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان اور جج سپریم کورٹ جسٹس خالد یوسف چوہدری نے خصوصی دعوت پر لا کمیشن کے پانچویں اجلاس میں شرکت کی۔چیف جسٹس عدالت عالیہ جسٹس سردار لیاقت حسین (ممبر)،سابق کمشنر راجہ ظفر حسین(ممبر) ، سابق رجسٹرار ہائی کورٹ امیراللہ خان مغل(ممبر)، سیکرٹری قانون ڈاکٹر ادریس عباسی (سیکرٹری/ممبر)کے علاوہ لاکمیشن کے ممبر ایڈووکیٹ جنرل آزاد جموں و کشمیر کی تقرری نہ ہونے کی وجہ سے چوہدری کلیم افسر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے نمائندگی کی ۔ اجلاس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ شرکائے اجلاس کے مختصر تعارف کے ساتھ ہی چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان اور تمام اراکین لا کمیشن کو اجلاس میں خوش آمدید کہا اور پانچویں اجلاس میں خصوصی دعوت قبول کرنے پر سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کی کا شکریہ ادا کیا۔ سیکرٹری قانون نے لا کمیشن کے گذشتہ اجلاسوں میں کئے جانے والے فیصلوں اور ان پر پیش رفت کے بارہ میں اجلاس کو بریف کیا جن میں ماحولیاتی ٹربیونل، ایم ڈی اے ٹربیونل، کنزیومر کورٹس کے قیام ، آزاد جموں و کشمیر میں پراسیکیوشن کا نظام وضع کرنے ، لائرز پروٹیکشن ایکٹ ، ڈرگ کورٹ کو فعال کرنے کے سلسلہ میں متعلقہ اداروں کی جانب سے کی جانے والی کاروائی پر اطیمنان کا اظہار کرتے ہوئے جملہ امور پر پیش رفت کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ چئیرمین لا کمیشن نے گزشتہ اجلاسوں میں کئے جانے والے فیصلوں اور سفارشات پر عمل درآمد کے سلسلہ میں اطیمنان کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری قانون اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے کی گئی کارروائی کو سراہا۔چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر (چئیرمین لا کمیشن) نے آزاد جموں و کشمیر میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام اور اس کی افادیت، ضرورت اور اہمیت پر زور دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ آزاد کشمیر میں ادویات کا معیار جانچنے کے سلسلہ میں کوئی باقاعدہ ادارہ نہیں ہے۔۔شہریوں کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلہ میں مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں ڈرگ کورٹ کو فعال کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے ادارہ کا وجود لازمی ہے جو ریاست کے شہریوں کے لئے معیاری اور مؤثر ادویات کی فراہمی کویقینی بنائے۔ ادویات کی لیبارٹری ٹیسٹنگ اور کوالٹی کو جانچنے کے لئے فوری اقدامات وقت کا تقاضا ہیں۔۔ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے محکمہ قانون کو ہدایت کی کہ اس سلسلہ ضروری اقدامات اٹھاتے ہوئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے لئیے ایک مسودہ قانون مرتب کرتے ہوئے قانون ساز ادارہ کو ارسال کیا جائے۔ اجلاس میں الیکشن لاز کو ایجنڈا آئٹم نمبر 2 میں زیر غور لایا گیا ۔ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور لوکل باڈیز کے انتخابات میں الیکشن ٹربیونل کے فیصلہ کے خلاف اپیل کے فورم کو زیر غور لایا گیا۔ اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ الیکشن کی عزرداریوں میں دائری مقدمہ کا طریقہ کار نہایت مشکل ہے۔۔ ٹیکنیکل گراؤنڈ پر انتخابی عزرداریوں کا فیصلہ کرنے میں طویل عرصہ گزر جاتا ہے ۔۔اس سلسلہ میں سول کورٹ میں دعویٰ دائر ی کے طریقہ کار کو مد نظر رکھتے ہوئے آسان طریقہ کار وضع کرنے کے لئے میکنزم کو زیر غور لایا جائے۔ اس سلسلہ میں پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں رائج طریقہ کار سے بھی رہنمائی لی جا سکتی ہے۔۔علاوہ ازیں اجلاس میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ لوکل باڈیز کی عزرداریوں پر الیکشن ٹربیونل کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں براہ راست اپیل کے بجائے فرسٹ اپیلیٹ فورم کا تعین کیا جائے تاکہ سیکنڈ اپیل سپریم کورٹ میں ہو۔ اجلاس میں دیوانی اور فوجداری عدالتوں میں مقدمات کی سماعت اور دو رکنی عدالتی نظام ، عائلی مقدمات میں مقررہ مدت کے اندر فیصلے یقینی بنانے کے لئے عدالتی نظام میں مزید بہتری کے لئے اقدامات کو بھی زیر غور لایا گیا اور اس سلسلہ میں مزید اقدامات اٹھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ اجلاس کے آخر میں چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر /چئیرمین لا کمیشن نے ایک بار پھر سے سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان اور اراکین لا کمیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لاکمیشن کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا۔

Share This Post

More To Explore