وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر فیصل ممتازراٹھور نے کہا ہے کہ اوورسیز کشمیری ریاست کا قیمتی اثاثہ ہیں اور حکومت آزاد کشمیر ان کے ساتھ روابط مضبوط بنانے، ان کی تجاویز سے استفادہ کرنے اور انہیں ریاست کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر فیصل ممتازراٹھور نے کہا ہے کہ اوورسیز کشمیری ریاست کا قیمتی اثاثہ ہیں اور حکومت آزاد کشمیر ان کے ساتھ روابط مضبوط بنانے، ان کی تجاویز سے استفادہ کرنے اور انہیں ریاست کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔اوورسیز کشمیریوں کا اس خطہ کی تعمیر و ترقی میں نہایت اہم کردار ہے۔ اوورسیز کشمیریز کنونشن کا مقصد اوورسیز کو ریاست کی ترقیاتی سرگرمیوں میں شامل کرنا، انکے تجربات اور صلاحیتیں بروئے کار لانا، اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ایک ایسا مربوط نظام بنایا جائے جس میں اوورسیز کو آزاد خطہ میں محفوظ سرمایہ کاری میں شراکت کے ساتھ ساتھ ایسے مثبت اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ ان کے مسائل کے حل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز کشمیریز کنونشن بارے اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔ وزیراعظم فیصل ممتازراٹھور نے کہاکہ حکومت آزادکشمیر کے زیراہتمام اوورسیز پاکستانیز فاونڈیشن کے تعاون سے منعقد ہونے والا اوورسیز کنونشن آزاد کشمیر کے لیے نہایت اہم ایونٹ ہے جس کے ذریعے بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو ریاست کی ترقی،سرمایہ کاری کے مواقع اور حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کیلئے سہولیات سے آگاہ کیا جائے گا۔وزیراعظم نے کہاکہ حکومت اوورسیز کے مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔اس تاریخی اوورسیز کنونشن سے منسلک اقدامات میں اوورسیز کشمیریوں کی سہولت کیلیے خصوصی علیحدہ عدالت کا قیام،اوورسیز کشمیریوں کے مسائل اور شکایات کے بروقت حل کیلیے وزیراعظم آزادکشمیر ویب پورٹل کا قیام جو وزیراعظم پاکستان کے ویب پورٹل سے منسلک ہو گا،سرمایہ کاری کیلیے ون ونڈو آپریشن کا قیام جیسے بڑے اقدامات شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ اوورسیز کنونشن میں پینل گروپ ڈسکشن،پالیسی ڈائیلاگ ہونگے،پینل ڈسکشن میں اوورسیز کشمیریوں کو درپیش جملہ مسائل کے حوالے سے شعبہ وائز اوورسیز کے نمائندے،بزنس مین،بیوروکریٹس اور سول سوسائٹی کے نمائندے ڈسکشن کریں گے جس کے بعد سفارشات تیار کی جائیں گی اور ایک جامع پالیسی مرتب کی جائے گی۔اس اوورسیز کنونشن میں محکمہ جاتی سطح پر سرمایہ کاری کیلیے انفارمیشن ٹیکنالوجی،انرجی اینڈواٹرریسورسز،انڈسٹریز سیاحت،منرل میں سرمایہ کاری کیلیے proposalsبھی موجود ہونگی تاکہ سرمایہ کاروں کو Attract کیا جا سکے۔وزیراعظم نے کہاکہ میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دوستوں کو بھی اس کانفرنس میں مدعو کرتا ہوں اور ان سے گزارش کرتا ہوں کہ راستے بند کرنے کے بجائے ہمارے ساتھ مل کر عوام کے لیے روشن مستقبل کی نئی راہیں ہموار کریں۔ انہوں نے کہاکہ اس کنونشن کو کامیاب بنانے کے لیے تمام محکمہ جات نے دن رات محنت، باہمی تعاون، مربوط حکمت عملی اور ٹیم ورک کے تحت مشنری جذبے سے کام کیا ہے۔وزیراعظم نے اس امید کااظہار کیا کہ اوورسیز کشمیریز کنونشن تعاون، ترقی اور تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک سنہری موقع ثابت ہوگا۔

Share This Post

More To Explore