سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر کے تناظر میں ’’ویژن کشمیر: پاتھ وے ٹو پیس اینڈ اسٹیبلیٹی‘‘ کے عنوان سے ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔

سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر کے تناظر میں ’’ویژن کشمیر: پاتھ وے ٹو پیس اینڈ اسٹیبلیٹی‘‘ کے عنوان سے ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ قائم مقام صدر آزادجموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر نے تقریب سے خطاب کیا جبکہ تقریب سے وزیراعظم آزاد کشمیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا ، تقریب میں سیاسی، سفارتی، ادبی اور میڈیا حلقوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور ماہرین نے شرکت کی اور مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر سینٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز ڈاکٹر اسما شاکر خواجہ نے خطاب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے مربوط فکری و سفارتی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ مسئلے کے تاریخی، قانونی اور انسانی حقوق کے پہلوؤں کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا جائے اور سکالرز کی مستند تحقیق کو پالیسی کا حصہ بنانا چاہیے ۔سیمنار سے خطاب میں چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون نے کہا کہ کشمیر شہداء کی وراثت ہے اور اس حوالے سے قومی بیانیے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے انگنت قربانیاں دے چکا ہے جبکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگیوں، قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد حریت قیادت کو پابندِ سلاسل رکھا گیا ہے جو کہ سنگین جرم ہے جس پر بھارت کی سخت باز پرس کی جانی چاہیے ، انہوں نے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم رکوانے کے لیے کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں ایک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے بغیر خطہ میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ، ماہرِ بین الاقوامی امور محترمہ نائیلہ کیانی نے کہا کہ ڈیجیٹل رائٹس بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ بندش اور ڈیجیٹل قدغنوں نے معیشت، تعلیم اور اظہارِ رائے کو شدید متاثر کیا ہے۔ بھارت ڈیجیٹل بیانیے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور ڈیجیٹل وار کے ذریعے تعصب کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شناخت کے تحفظ اور بہتری کے لیے ایک واضح روڈمیپ ترتیب دینا ہوگا۔ڈائریکٹر آئی ڈی ڈی ڈی ایس اور سینئر ایسوسی ایٹ آئی پی ایس ڈاکٹر فرید رسول نے کہا کہ 5 اگست کے بعد مسئلہ کشمیر کی نوعیت اور چیلنجز میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ میڈیا اور انسانی حقوق کی گنجائش محدود ہو چکی ہے جبکہ بھارتی میڈیا جانبداری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے شخصی آزادیاں متاثر ہوئی ہیں اور بیرونِ کشمیر مقیم کشمیریوں کے اہلِ خانہ کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ڈائسپورہ کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوتوا ایجنڈے کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنا ضروری ہے۔سابق وزیر حکومت فرزانہ یعقوب نے کہا کہ جمہوری احتجاج ہر معاشرے کا بنیادی حق ہے اور کشمیری عوام کو اپنے سیاسی حقوق کے اظہار کی مکمل آزادی ملنی چاہیے۔ڈائریکٹر ساؤتھ ایشیا ٹائمز سلمان جاوید نے کہا کہ موجودہ حالات میں پورے نظام کو نئے سرے سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انفارمیشن وار فیئر اور ٹیکنالوجی کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ ہمیں محض کرائسس مینجمنٹ کے بجائے مسئلے کے مستقل حل کی طرف جانا ہوگا۔ہمیں او آئی سی سمیت دیگر عالمی فورمز پر اس مسئلہ کئ افادیت کو اجاگر کرنا ہو گا ، جدوجہد حقیقی اور مؤثر ہونی چاہیے، سفارت کاری کو موقع دینا ضروری ہے تاہم اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کی زمینی حقیقت کا مکمل ادراک ہونا چاہیے۔چیئرمین جہلم ویلی کیمپس ڈاکٹر امتیاز اعوان نے کہا کہ ہم سب کو کشمیر کاز کا سفیر بننا ہوگا اور حقائق کو منطق اور استدلال کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سکالرز کی تحقیق کو پالیسی سازی میں شامل کرنا اور تھیوری اور پریکٹس کے درمیان خلا کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ڈائریکٹر لبریشن سیل سردار علی شان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے اور مستقبل کے لائحۂ عمل کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا کو مسلسل حقائق سے آگاہ رکھنا ہوگا۔

Share This Post

More To Explore