وزیر اطلاعات آزاد جموں وکشمیر چوہدری رفیق نئیر نے کہا کہ یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد نہ صرف ہماری خارجہ پالیسی، بلکہ ہمارے قومی بیانیے کا مستقل حصہ ہے۔ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق، حقِ خودارادیت اور بین الاقوامی انصاف کا امتحان ہے۔ آج کے ڈیجیٹل اور گلوبلائزڈ دور میں اطلاعات، میڈیا اور بیانیہ سازی کی اہمیت غیر معمولی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ بدقسمتی سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی جبر کے ساتھ ساتھ سچ کی آواز کو دبانے کے لیے منظم اطلاعاتی پابندیاں، میڈیا بلیک آؤٹ اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف عالمی صحافتی اقدار کی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوریت کے دعوؤں پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہم حقائق پر مبنی بیانیے، ذمہ دار صحافت اور بین الاقوامی میڈیا انگیجمنٹ کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کو زندہ اور مؤثر انداز میں اجاگر کرتے رہیں گے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر ہی تحریک تکمیل پاکستان ہے۔ آج دنیا بھر میں مقیم پاکستانی اور آزاد کشمیر کے عوام، اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا پیدائشی حق،حقِ خودارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
