وزیرِاعظم آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ 26 جنوری کو بھارت کا یومِ جمہوریہ کشمیری عوام کے لیے یومِ سیاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔اپنے خصوصی بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل جبر، غیر جمہوری اقدامات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں نافذ کیے گئے سخت قوانین اور پابندیاں جمہوری اقدار کی نفی کرتی ہیں۔ وزیرِاعظم نے 5 اگست 2019ء کے بعد کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے نتیجے میں مقبوضہ علاقے میں فوجی محاصرہ مزید سخت ہوا اور شہری آزادیوں پر غیر معمولی قدغنیں لگیں تاہم ہندوستان کی ہندوتوا پالیسی بھی کشمیری عوام کے غیر متزلزل عزم و استقامت کو کمزور نہ کر سکی، انکا کہنا تھا کہ کشمیری اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے بنیادی حقِ خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور اس مقصد کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
