سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت بدھ کے روز آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں ممبر اسمبلی احمد رضا قادری نے پاک فوج کے شہدا،وزیر حکومت سردار فہیم اختر ربانی کے بھائی، ممبر اسمبلی عبدالماجد خان کے بھائی ڈاکٹر عبدالحلیم خان، ڈاکٹر زاہد ودیگر فوت شدگان کے لیے فاتحہ خوانی کروائی۔اجلاس میں سپیکر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے بحریہ فاؤنڈیشن اسکول کے طلبہ کو قانون ساز اسمبلی کی کارروائی براہِ راست ملاحظہ کرنے پر خوش آمدید کہا۔ سپیکر اسمبلی نے قائد ایوان اور قائد حزبِ اختلاف سے مشاورت کے بعد مجلسِ قائمہ کے اراکین کی کمیٹیوں کی منظوری دی، جن کو آج ہی نوٹیفائی کردیا جائے گا۔شہری ٹریفک کے حوالہ سے سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر کے توجہ دلاؤ نوٹس دارالحکومت مظفرآباد میں ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں ممبران اسمبلی خواجہ فاروق احمد، راجہ محمد فاروق حیدرخان، پروفیسر تقدیس گیلانی، سردارجاوید ایوب، سید بازل علی نقوی اور نثارہ عباسی شامل ہیں۔ کمیٹی شہری مسائل بالخصوص ٹریفک، پارکنگ اور تعمیرات سے متعلق سفارشات مرتب کرے گی۔ سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔
مظفرآباد(پی آئی ڈی) مورخہ 24 دسمبر2025
موسٹ سینئر وزیر آزاد کشمیر میاں عبدالوحید نے ممبر اسمبلی محترمہ امتیاز نسیم کی جانب سے بہار کے وزیر اعلی ٰکی جانب سے مسلمان معصوم بیٹی کا حجاب کھینچنے پر مذمتی قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ امتیاز نسیم کی یہ قرارداد اجتماعیت کے جذبات ہیں، ہم بطور امت اس معاملہ پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں، یہ فقط بہار کی معصوم بیٹی کا معاملہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کا معاملہ ہے، کسی مذہب کو دوسرے کی تضحیک کا حق نہیں ہونا چاہیے، ہم اس معاملہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سیعالمی سطح پر نوٹس لے، وزیر خوراک جاوید اقبال بڈھانوی کی جانب سے غلطی سے سرحد پار کرنے والی نکیال سیکٹر کی خاتون کو بھارت کی جانب سے بے جا قید کی مذمتی قراردادپر اظہار خیال کرتے ہوئے موسٹ سینیر وزیر آزاد کشمیر میاں عبدالوحید نے کہا کہ معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے اس معاملہ میں قرارداد کے ساتھ وفاقی حکومت کو معاملہ پر بھارتی جیل میں غیر قانونی قید کے متعلق خط بھی ارسال کیا جائے گا۔
مظفرآباد(پی آئی ڈی) مورخہ 24دسمبر2025
وزیر خزانہ و ان لینڈ ریونیو چوہدری قاسم مجید نے قانون ساز اسمبلی اجلاس کے دوران سابق وزیر اعظم آزادکشمیر وممبر اسمبلی راجہ فاروق حیدر خان کی جانب سے بینک آف آزاد جموں وکشمیر کے صدر کی تعیناتی کے متعلق سوال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بینک آف آزاد جموں وکشمیر کے شیڈول نہ ہونے کی وجہ سے صدر کی تعیناتی کا معاملہ زیر التوا ہے۔ بینک آف آزادجموں و کشمیر کے صدر کی تعیناتی کے لیے آزادجموں و کشمیر بنک کا شیڈول ہونا لازم ہے جس پر ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں،حکومت آزاد کشمیر نے اس ضمن میں بینک آف اے جے کے کو شیڈول بینک بنانے کے لیے 10 ارب روپے بطور ایکویٹی فراہم کردئے ہیں، بینک آف آزاد جموں وکشمیر کے شیڈول بینک بنتے ہی قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے صدر کی تعیناتی کردی جائے گی، انہوں نے کہا کہ آزادجموں و کشمیر بنک کے لیے پاکستان میں شاخ کے قیام کے لیے بلڈنگ نوٹیفائی کر دی گئی ہے جبکہ آزادجموں وکشمیر بنک کے لیے سافٹ وئیر کا کنٹریکٹ بھی ایوارڈ کر دیا گیا ہے۔
ممبراسمبلی خواجہ فاروق احمد کی جانب سے کیے گئے سوال کے جواب میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر صحت سید بازل علی نقوی نے کہا کہ یہ درست ہیکہ آزاد کشمیر کے ہسپتالوں کیلئے دو سال قبل 24 عدد ایمبولینسز / گاڑیاں خرید کی گئی تھیں متذکرہ ایمبولینسز / گاڑیاں اس وقت نظامت اعلیٰ صحت عامہ آزاد کشمیر کے سینٹرل میڈیکل سٹور ڈپو اسلام آباد میں پارک شدہ ہیں میسرز ٹیوٹا آزاد موٹرز میر پور کے خلاف اس حوالہ سے ریفرنس احتساب بیورو آزاد جموں و کشمیر میں زیر کار ہونے کی وجہ سے منظور شدہ 1-PC کے مطابق متعلقہ ہسپتال ھاء / ادارہ جات کو اجرائیگی عمل میں نہیں لائی گئی۔ایمبولینسز / گاڑیاں احتساب بیورو آزاد جموں و کشمیر کی طرف سے نظامت اعلیٰ صحت عامہ کے سینٹرل میڈیکل سٹور ڈپو اسلام آباد میں ضبط کی ہوئی ہیں۔ اسطرح معاملہ احتساب بیورو آزاد جموں و کشمیر میں زیر کار ہے اور محکمہ صحت عامہ کی طرف سے محکمہ قانون سے راہنمائی کی روشنی میں ایمبولینسز / گاڑیوں کو واگزار کرنے کے لئے احتساب کورٹ میں کیس دائر کیا ہوا ہے گاڑیاں واگزار ہونے پر Conversion/Fabrication کے بعد محکمہ صحت عامہ کے ہسپتال ھاء / ادارہ جات کو PC-1کے مطابق اجراء کی جائیں گی۔
مظفرآباد(پی آئی ڈی) مورخہ 24دسمبر2025
سینئر موسٹ وزیر/ وزیر قانون و انصاف میاں عبدالوحید نے ممبر اسمبلی خواجہ فاروق احمد کی جانب سے دارالحکومت میں کرش پلانٹس کی بندش کے حوالے سے توجہ دلاو نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کرش پلانٹس کے حوالے سے اعلی عدلیہ کے فیصلے کی روشنی میں ٹی او آرز کا تعین کرے گی۔ حکومت اس حوالے سے کرش پلانٹس کے ماحول پر اثرات اور معاشی مسائل کو بھی مد نظر رکھے گی،وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ کرش پلانٹس کو انوائرمنٹل این او سی سے مشروط کرنا چاہیے، ایسے تمام مقامات جہاں کرش پلانٹس کے لیے محکمہ ماحولیات این او سی جاری نہیں کرتا ایسے مقامات کو لیز نہیں دیں گے۔وزیر پی ڈی او چوہدری رشید نے کہا کہ پی اینڈی کے پاس اس حوالے سے سٹڈی موجود ہے اس سٹدی کے اعداد کو سامنے رکھ کر کریشنگ کے لیے سائنس کا تعین کیا جاسکتا ہے۔وزیر خوراک جاوید اقبال بڈھانوی نے کہا کہ آزادکشمیر میں غیر قانونی کرش پلانٹس بڑا خطرہ ہیں، ایسے پلانٹس کی بندش ضروری ہے کوٹلی نکیال روڈ پر بھی غیر قانونی کرش پلانٹ موجود ہے، یہ پلانٹس عوامی صحت پر مضر اثرات کا سبب بن رہے ہیں، ڈولومائیٹ کی کنسٹریکشن بھی غیر معیاری ہوتی ہے، اس حوالے سے قانون ساز اسمبلی کی ایک کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے جو انوائرمینٹ ڈیپارٹمنٹ کی اجازت کے ساتھ کرش پلانٹس کو نوٹس جاری کریں۔ ممبر اسمبلی محترمہ نثارہ عباسی نے کہا کہ جنگلات کی غیر ضروری کٹائی اور کرش پلانٹس کی وجہ سے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، دارالحکومت میں انسانی صحت متاثر ہو رہی ہے غیر قانونی ہے، عوام کو محض کم لاگت میں کرش مہیا کرنے کیلئے کرش پلانٹس کو لگانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کرش پلانٹس کی بندش ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ایسے پلانٹس ماحول کے لیے خطرناک ہیں، غیر ضروری زمین کا کٹاؤ ہوتا ہے جبکہ ڈولومائیٹ کی کرش بھی غیر معیاری ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ ایسے کرش پلانٹس کی جوازیت نہیں ہونی چاہیے۔
سابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کی جانب سے بھمبر میں انتقامی تبادلہ جات، اضافی چارج سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سینئر موسٹ وزیر میاں عبدالوحید نے کہا کہ تبادلہ جات سروس کا حصہ ہیں، جب کمانڈ تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات نیچے تک دیکھے جاتے ہیں، موسٹ سینئر وزیر نیسابق وزیر اعظم انوار الحق کے توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھمبر میں جھوٹی ایف آئی آر کامعاملہ ایک واقعہ ہے ایک ذمہ دار شخصیت کی جانب سے یہ معاملہ قانون ساز اسمبلی کے فلور پر اٹھایا گیا ہے اس معاملہ کا نوٹس لے کر مسئلے کا تدارک کریں گے، عدالتی فیصلے کے مغائر اضافی چارج نہیں دیا جائے گا،1122 کے جاتلاں سے آفس کے خاتمہ کے معاملہ کو دیکھیں گے اور معاملہ کے حل کے لیے اقدام اٹھائیں گے۔
ممبر قانون ساز اسمبلی حسن ابراہم کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحید نے کہا کہ پبلک سروس کمیشن کو فعال کرنے کے لیے پیش رفت جاری ہے، یہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے اس کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں ہاؤس کو یقین دلاتے ہیں کہ پبلک سروس کمیشن کو فعال کرنے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔
وزیر صحت عامہ آزاد کشمیر سید بازل علی نقوی نے ممبر اسمبلی نثارہ عباسی کی جانب سے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی غفلت، اوقات کار میں غیر حاضری اور سہولیات کے فقدان کے حوالے سے توجہ دلاو نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی حاضری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا، اس حوالے سے شعبہ حادثات، او پی ڈی و اور دیگر شعبہ جات میں ڈاکٹرز کی دستیابی کی نگرانی کی جائے گی، ممبران اسمبلی اپنے حلقہ جات میں ڈاکٹرز اور بنیادی طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے متعلق مسائل کی نشاندہی کریں محکمہ صحت عامہ 24 گھنٹوں کے اندر شکایات کا ازالہ کرے گا، انہوں نے کہا کہ عوام کی صحت ہماری اولین ترجیح ہے، سرکاری اداروں بالخصوص ہسپتالوں پر عوامی اعتماد کو بہرصورت بحال کریں گے، عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کریں گے اور ہسپتالوں میں عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔
٭٭٭٭٭٭
مظفرآباد (پی آئی ڈی)24دسمبر 2025
سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدار ت آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خوراک، اے جے کے ٹیوٹا و کوٹلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی جاوید اقبال بڈھانوی ،ممبران اسمبلی سردار حسن ابراہیم اور محترمہ امتیاز نسیم کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئی جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔ وزیر خوراک، اے جے کے ٹیوٹا و کوٹلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی جاوید اقبال بڈھانوی کی جانب سے پیش کر دہ قرارداد میں کہا گیا کہ سیز فائر لائن، نکیال سیکٹر کے سرحدی گاؤں موہڑہ بھوئل سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ خاتون مہناز دختر محمد اسماعیل کھو کھر جو شادی شدہ ہے اور اپنے والدین کے گھر آئی ہوئی تھی، ذہنی توازن ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے مورخہ 15 دسمبر 2025ء کو غلطی سے منحوس خونی لکیر/ سیز فائر لائن کر اس کر گئی۔ جس کی اطلاع انڈین میڈیا کی طرف سے ملی کہ وہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں انڈین فورسز کی تحویل میں ہے۔ جس کی وجہ سے مذکورہ کا خاندان شدید ذہنی پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہے۔یہ ایوان حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ مذکورہ خاتون کی بازیابی کے لئے فوری اقدامات کیئے جائیں۔ ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم خان کی جانب سے پیش کر دہ قرارداد میں کہا گیا کہقانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی افواج کی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بڑے پیمانے پر ظالمانہ کارروائیاں جاری ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ منظم انداز میں ظلم و جبر کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انڈین فوج نے جموں کے کئی علاقوں کھٹوعہ، سانبہ، اودھم پور، کشواڑ اور پونچھ میں محاصرے اور گھر گھر تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ بھارتی فوج، پولیس، بارڈر سیکیورٹی فورس، سینٹرل ریزرو پولیس کی مشترکہ ٹیمیں جموں سری نگر ہائی وے، قصبوں اور دیہات میں وسیع پیمانے پر تلاشی کے نام پر عام عوام کو مار پیٹ بھی کر رہے ہیں۔ جس سے روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہے۔یہ ایوان ہندوستان کے جابرانہ ہتکنڈوں کی بھر پور مذمت کرتا ہے اور اس عزم کا اعادہ کر تا ہے کہ جب تک مقبوضہ جموں و کشمیر ہندوستان سے آزادی حاصل کر کے پوری ریاست جموں و کشمیر کا الحاق رائے شماری کے ذریعے پاکستان سے نہیں ہو جاتا اس وقت تک کشمیریوں کی جدوجہد جاری و ساری رہے گی۔یہ ایوان حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کرتاہے کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور بھارت کے مکروہ عزائم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم کی جانب سے پیش کر دہ ایک اور قرارداد میں کہا گیا کہ یہ اجلاس بنگلا دیش میں عثمان ہادی اور محمد مطالب کی شہادت کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ عثمان ہادی بنگلا دیش میں بھارتی بالا دستی اور بنگلہ عوام کو غلام بنانے کے خلاف جدو جہد میں صف اول کے راہنماء کے طور پر سامنے آئے تھے۔ بنگلا دیش کے اسلامی تشخص اور حسینہ واجد کے بنگلہ عوام کے خلاف اقدامات کو انہوں نے چیلنج کیا اور دیگر طلباء سے مل کر اپنی لازوال جدو جہد کی بناء پر حسینہ واجد اور بھارتی بالا دستی کو اکھاڑ پھینکا۔ بھارت یہ کیسے برداشت کر سکتا تھا۔ اس نے را کے ذریعے موساد کی طرز پر اس عظیم طالبعلم را ہنماء کو شہید کر دیا۔ شہید کی جلائی ہوئی شمع روشن ہے۔یہ ایوان حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بنگلا دیش کے راہنماؤں کی حفاظت یقینی بنانے میں اقوام متحدہ کے ذریعے اپنا کردار ادا کرے۔یہ ایوان اس بات کا بھی مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان وزارت خارجہ کے ذریعے عثمان ہادی کی شہادت اور بھارت کی سازش کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ اس سے پہلے بھی بھارت نے سکھ لیڈرز کو قتل کرنے کی سازش کی ہے۔ بھارت کو اس طرح بے لگام نہیں چھوڑا جا سکتا۔ دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرنا ہوگا۔ بنگلا دیش ہمارے جسم کا حصہ ہے اور ہم اپنے جسم کے حصے کو فراموش نہیں کر سکتے۔ بھارت کو عثمان ہادی کی شہادت کا جواب دینا ہو گا اور یہ ایوان حکومت پاکستان سے بھی یہ مطالبہ کرتا ہے کہ بنگلہ دیش سے دفاعی معاہدہ کیا جائے تا کہ اگر کل ہمارے بھائی پر دشمن حملہ کرے تو ہم اس کا دفاع آگے بڑھ کے کر سکیں۔
ممبر اسمبلی محترمہ امتیاز نسیم کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ قانون سازاسمبلی آزادجموں وکشمیر کا یہ اجلاس بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ایک سرکاری تقریب کے دوران مسلمان ڈاکٹر خاتون کے نقاب کھینچنے پر، اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔اس معزز ایوان کی رائے میں بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ کا یہ طرز عمل ان کی ہندواتوا ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جوکہ مسلمانوں سمیت بھارت میں بسنے والے تمام اقلیتوں کے لئے نوشتہ دیوار ہے اوریہ واقعہ بھارت کے انتہاء پسند ہندوؤں کی مسلم دشمنی اور تنگ نظری کا واضح ثبوت ہے۔ بھارت جو سیکولرازم کا دعوی کرتا ہے اس کا بھیانک چہرہ مزید کھل کر دنیا کے سامنے آگیا ہے۔ قبل ازیں نئی دہلی میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے سابق رکن انجینئر رشید پر حملہ اور اس کے منہ پر سیاہی پھیکنے کا واقعہ بھارتی ہندوتوا ذہنیت کی ایک زندہ مثال ہے۔ بھارت میں راشڑیہ سیوک سنگھ، بجرنگ دل، شیوسینا اور ” را” دہشت گرد تنظیمیں ہیں اوربھارت میں مسلمانوں سمیت بسنے والی تمام اقلیتیں ان کے رحم و کرم پر ہیں۔اس معزز ایوان کی رائے میں بھارت جو مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کرگیا تھا اور اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ریاست جموں و کشمیر میں اقوام عالم کے سامنے استصواب رائے کروانے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج78سال گزرنے کے باوجود بھی بھارت اقوام عالم کے سامنے کیئے گئے وعدے سے نہ صرف انکاری ہے بلکہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کویونین ٹیرٹری قرارد دے کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ یہ ایوان اقوام متحدہ، عالمی برادری، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور دنیا کی تمام مہذب اقوام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور ریاست جموں وکشمیر میں استصواب رائے کروانے کے لئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں تاکہ کشمیر یوں کو اپنا پیدائشی حق، حق خود ارادیت مل سکے۔

