چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں سابق جسٹس چوہدری محمد تاج کی یاد میں فل کورٹ تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں سابق جسٹس چوہدری محمد تاج کی یاد میں فل کورٹ تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم انتہائی اعلی پائے کے وکیل اور جج کی بہترین خدمات پر ان کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں، جسٹس چوہدری محمد تاج کی رحلت سے نہ صرف ان کے اہل خانہ کو نقصان برداشت کرنا پڑا بلکہ ان کی رحلت سے عدلیہ اور قوم کا بھی نقصان ہوا ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور ہر ذی روح نے اس کا مزہ چکھنا ہے انسان کا صرف کردار باقی رہتا ہے، جسٹس چوہدری محمد تاج بھی اپنے کردار کے ساتھ ہم میں زندہ رہیں گے، میرا ان کے ساتھ تعلق رہا مجھے ان کی ہمیشہ معاونت حاصل رہی، ان کے فیصلے آج بھی ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، بطور وکیل ان کی خدمات قابل تعریف ہیں اور بطور جج ان کے فیصلے ہمارے لئے اثاثہ ہیں۔ ان کی گفتگو میں مزاح کا عنصر نمایاں تھا اور انتہائی نفیس خوش گفتار اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ اللہ تعالی ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کا ارتحال انتہائی بڑا نقصان ہے۔

میں وکلاء، جج صاحبان اور پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کا میری والدہ ماجدہ کے انتقال پر جنازے میں شرکت اور تعزیت کے لیے انتہائی شکرگزار ہوں۔موت ایک اٹل حقیقت ہے اور ہر ذی روح نے موت کا مزہ چکھنا ہے، زندگی ایک آزمائش ہے دعا ہے اللہ رب العزت ہم سب کو اس آزمائش میں سرخرو فرمائے۔تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان نیجسٹس چوہدری محمد تاج کی شخصیت، وقار، کردار، سکھانے کے انداز، اور زندگی کے اثرات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس چوہدری محمد تاج نے بطور جج نہ صرف مثالی فیصلے دئے بلکہ ان کے زندگی گزارنے، بولنے اور برتاؤ کرنے کے طریقے بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ انہوں۔ نے کہا کہ ان کی یاداشت غیر معمولی تھی وہ چہرے، نام، کہانیاں اور چھوٹی سے چھوٹی باتیں بھی یاد رکھتے تھیجو ہم میں سے اکثر چند لمحوں میں بھول جاتے ہیں۔ وہ بار کے لیے ایک استاد، بنچ کے لیے وقار اور اپنے ساتھیوں کے لیے وہ راحت اور دانائی تھے۔اور میرے جیسے نوجوان وکلاء کے لییوہ ایک ایسا رول ماڈل تھیجس کی طرف ہم آج بھی دیکھتے ہیں۔آج جب ہم انہیں یاد کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جسٹس تاج جیسے لوگ صرف ایک ادارے کی خدمت نہیں کرتے بلکہ ادارے تشکیل دیتے ہیں۔ ان کے فیصلے آج بھی ہماری رہنمائی کیلئے موجود ہیں۔ تعزیتی ریفرنس میں صدر سنٹرل بار ایسو سی ایشن سید انیس الحسن گیلانی سمیت سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر وکلاء نے شرکت کی جبکہ رجسٹرار سپریم کورٹ مظہر اقبال نے نظامت کے فرائض سرانجام دیے۔ اس موقع پر صدر سنٹرل بار ایسو سی ایشن مظفرآباد سید انیس الحسن گیلانی، سینیر ایڈووکیٹ عبدالرشید عباسی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد سعید خان، راجہ ابرار حسین ایڈووکیٹ، راجہ امجد علی ایڈووکیٹ و دیگر مقررین نے جسٹس چوہدری محمد تاج کی عدالتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے ہمیشہ بطور وکیل اور جج وکلاء کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھا۔جونیئر وکلاء کے لیے رہنمائی کی حیثیت رکھتے تھے۔اس موقع پر وکلاء نے چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان کا فل کورٹ تعزیتی ریفرنس منعقد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔آخر میں مرحوم جسٹس چوہدری محمد تاج، چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی والدہ ماجدہ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

Share This Post

More To Explore