آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز سپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز سپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ایوان میں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف ممبر اسمبلی چوہدری قاسم مجید نے تحریک عدم اعتماد پیش کی جس پر رائے شماری کروائی گئی۔ رائے شماری میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار راجہ فیصل ممتاز راٹھور 36ووٹ لے کر قائد ایوان منتخب ہوگئے جبکہ انکی مخالفت میں صرف 2ووٹ کاسٹ ہوئے۔

اس موقع پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ میں نومنتخب قائد ایوان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔آج ایک جمہوری عمل بطریق احسن مکمل کیا گیا۔ آج کے دن میں آزادکشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ سب نے مل کر آزادکشمیر کا سیاسی ماحول خراب نہیں ہونے دیا۔ ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کی بات خندہ پیشانی سے سنتے ہیں اور ایک دوسرے کی جمہوری اور سیاسی مخالفت بھی اصولوں پر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نومنتخب قائد ایوان کے والد کے ساتھ بھی میرا وقت گزرا جن کا نام آج بھی زندہ ہے۔ نومنتخب قائد ایوان کے لیے ایک مشکل ہدف ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ خوش اسلوبی سے حکومت چلائیں گے۔ آزادکشمیر میں چیف الیکشن کمیشن کی تعیناتی کافی عرصے سے نہیں ہوئی میں نے لیڈر آف اپوزیشن کی حیثیت سے اسکے لیے نام بھی بھیجئے اور بعد ازاں وزیراعظم پاکستان کو خط بھی لکھا۔ اب عدالت العالیہ سے فیصلہ بھی آچکا ہے لیکن تاحال یہ آئینی عہدہ خالی ہے۔امیدہے کہ نئے قائد ایوان اس عہدے پر آئین کے مطابق جلد تقرری عمل میں لانے کے لیے اقدامات کریں گے۔گزشتہ حکومت کے دوران اپوزیشن کو برابر ی کی بنیاد پر فنڈز ملتے رہے۔ جبکہ گزشتہ حکومت میں ریاست مخالف احتجاج بھی ہوئے جن میں کئی لاشیں گریں، سیاسی ماحول خراب ہوا اور اسمبلی اجلاس بھی بہت کم ہوئے۔ میں امید کرتا ہوں ان سب خامیوں پر قابو پاتے ہوئے آئندہ آزادکشمیر میں جمہوری عمل اسکی اصل روح کے مطابق چلایا جائے گا۔ مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کے قائد ایوان کی تبدیلی سے آزادکشمیر کے عوام کو یہ سبق ملتا ہے کہ آئندہ یہاں جب بھی انتخابات ہوں تو کسی ایک جماعت کو منتخب کریں۔ کیونکہ اتحادی حکومت کا یہ تجربہ ناکام ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں توقع کرتا ہوں کہ آئندہ چند دنوں میں چیف الیکشن کمشنر کا تقرر عمل میں لایا جائیگا۔ گزشتہ حکومت نے آئین سے کھلواڑ کیا اور 10ماہ سے چیف الیکشن کمشنر کے آئینی عہدے کو خالی رکھا۔ ہم نے آج پیپلز پارٹی کے حق میں ووٹ دیکر اسے بلیک میلنگ سے بچا لیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان کو مسلم لیگ ن کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ نظام کو چلانے کے لیے ہم نے آپ کا ساتھ دیا تاکہ اس جمہوری نظام پر داغ نہ لگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ اچھے کاموں میں ہم آپ کا ساتھ دیں گے لیکن جب کسی جگہ زیادتی ہوگی تو اس ایوان میں بھی اورسڑکوں پر بھی آپ کو ہماری مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ہم حکومت کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ آج ہم ایک اچھے ماحول کی ابتدا کرنے جا رہے ہیں۔ ماضی میں نظام حکومت کو بری طرح چلایا گیا بجٹ بغیر بحث کے پاس ہوتا رہا۔ قائد ایوان کے والد کا بھی آزادکشمیر کی سیاست میں بڑا حصہ ہے اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ آپ وزارت عظمیٰ کے اس بوجھ کو بطریق احسن چلانے میں کامیاب ہونگے۔ صدر پاکستان پیپلز پارٹی چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ قائد ایوان کا منصب بیشک اللہ تعالیٰ کی عطا ہے میں فیصل ممتاز راٹھور کو قائد ایوان منتخب ہونے پردل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں انکے والد مرحوم ممتاز راٹھور کی کابینہ کا بھی حصہ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان،چیئرمین پیپلز پارٹی، محترمہ فریال تالپورکی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انکے فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں۔ میں جیالا ہوں اور بھٹو ازم کا پیروکار ہوں۔ آج پیپلز پارٹی اس ایوان کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ ہم نے دو حکومتوں کے خلاف دو ضمنی انتخاب جیتے۔ میرے نزدیک حکومتوں سے زیادہ جماعتیں اہم ہوتی ہیں۔ فیصل راٹھور نوجوان وزیراعظم ہیں یہ حکومت پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ہے۔ آپ کوبہت محنت کرنا ہوگی اور بروقت فیصلے لینے ہونے ہونگے تاکہ ماضی کے مقابلے میں اس حکومت کی بہتری نظر آئے۔

سابق وزیرا عظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر الیکشن ایکٹ کے تحت جو ووٹ ڈال رہے ہیں وہ بلے کے نشان پر منتخب ہوے ہیں وہ عدم اعتماد میں ووٹ ڈال رہے ہیں میرے نزدیک وہ فلور کراسنگ ہے میری اپنی رائے یہ ہے کہ یہ غیر قانونی ہے۔میں نے بہت سارے لوگوں کو آتے جاتے دیکھا۔ پاکستان کے ساتھ الیکشن اکٹھے کرنے کی قرارداد پیش ہوئی اور اسمبلی نے اپنے آپ کو تحلیل کردیا پھر آٹھ سال الیکشن نہیں ہوسکے۔ اس نظام کی پہلی اینٹ ہی غلط رکھی گئی تھی۔ آئین کے تحت نئی حکومت کو الیکشن آزادانہ منصفانہ غیر جانبدارانہ کروانے کے لئے اقدامات اٹھانے ہونگے۔اگر انتخابات کو آگے لیجانے کی کوشش کی گئی تو ہم مزاحمت کرینگے۔آئینی عہدوں پر تقرریاں کی جائیں الیکشن کمیشن مکمل کیا جاے ووٹر فہرستوں کو اپڈیٹ کیا جائے۔

سابق وزیراعظم عبدالقیوم نیازی نے کہا کہ اگر سابقہ حکومت کا نظام اچھا چلتا اور گڈ گورننس ہوتی تو آج اسکی تبدیلی کی ضرورت نہ محسوس ہوتی۔ عوام،بیوروکریسی،بلدیاتی نمائندے سب انکی گورننس سے تنگ تھے۔ہم نے بجٹ کے دوران دو مرتبہ ایوان سے واک آوٹ کیا ہمیں بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔قاعدہ معطل کر کے بجٹ پاس ہوتے رہے۔ کسی ممبر اسمبلی کی ضرورت کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر گزشتہ اڑھائی سالوں میں عوام کے مسائل حل ہوتے تو لوگ مظفرآباد کی جانب مارچ نہ کرتے نہ ہی تحریکیں چلتیں۔ انہوں نے کہا کہ جب میں وزیراعظم تھا تو میں نے سب کو برابری کی بنیاد پر ترقیاتی فنڈز دئیے۔ ہم عوام لوگ ہیں۔ ہم نے سسٹم کو بچانے کے لیے اقدامات کیے۔

سابق صدر ووزیر اعظم سردار محمد یعقوب خان نے کہا کہ میں نومنتخب قائد ایوان کو مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ انکی قیادت میں ہمارے آباو اجداد کا مشن تحریک آزادی کشمیر حکومت کی اولین ترجیحی رہے گا۔یہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہے ہر ممبر اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ اس حکومت کو کامیاب کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل راٹھور کی مختصر مدت گزشتہ 10سال پر بھاری ہوگی یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ پیپلز پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ جیالے ڈٹ کر کام کریں۔ اس حکومت کی ہماری ریاست کو ضرورت ہے اس مشکل وقت میں جو لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں وہ اس ریاست کو بچانے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں ہم سب کا مشن ریاست کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔

سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ یہاں جو زیادہ تر قائد ایوان کا ماضی میں تعلق مسلم کانفرنس سے ہی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل راٹھور نوجوان ہیں انکو مشورے کا دروازہ کھولنا چاہیے اور ماضی کے برعکس ون مین شو نہیں کرنا چاہیے۔ مشورہ سنت بھی ہے اور اس سے نظام حکومت میں بہتری آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس قائد ایوان کی تبدیلی کے اس عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہاں نئی پارلیمانی روایات جنم لے رہی ہیں۔ جو ساتھ ہو کر حکومت بنواتے ہیں وہی اپوزیشن میں بھی بیٹھتے ہیں اس لیے مسلم کانفرنس نے اس سارے عمل سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ممبر اسمبلی سردار محمد حسین نے کہا کہ فیصل راٹھور بہترین وزیراعظم ثابت ہونگے۔ ایک نوجوان کو قائد ایوان منتخب کرنے پر میں صدر پاکستان آصف علی زرداری،چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زردری کا شکر گزار ہوں۔ انکی قیادت میں مقبوضہ کشمیر کے آزادی کی جدوجہد مزید تیز ہوگی اور جلد مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہوگا۔ ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی نے کہا کہ آج اس عدم اعتماد کی مخالفت میں صرف دو ووٹ آئے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مخالفت میں ووٹ دینے والوں نے سابق قائد ایوان کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ میں قائد ایوان فیصل ممتاز راٹھور کو مبارکباد دیتا ہوں اور اس عزم کا اظہار کرتا ہون کہ یہ چہروں کی تبدیلی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی ثابت ہوگی۔ ممبر اسمبلی عبدالماجد خان نے کہا کہ میں نومنتخب قائد ایوان کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کرتا ہوں کہ ہمارے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں روا رکھا جائیگا۔ مہاجرین آئین کے تحت منتخب ہو کر اس ایوان میں آئے ہیں اور یہاں بیٹھنا ہمارآئینی حق ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ جو معاہدے کیے ہمیں انکی وضاحت درکار ہے اس حوالہ سے سوشل میڈیا پر مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں اور مختلف مفروضے قائم کیے جا رہے ہیں۔

Share This Post

More To Explore