آزاد جموں و کشمیر پریس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سکروٹنی و کیٹگری کمیٹی کا دوسرا اہم اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سردار اعجاز خلیق خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وائس چیئرمین پریس فاؤنڈیشن سردار ذوالفقار علی نے بطور ایکس آفیشو ممبر شرکت کی، جبکہ ممبران محمد شبیر اعوان، سید عباس گردیزی اجلاس میں شریک ہوئے۔ کمیٹی کے دیگر اراکین طاہر مسعود اور مرزا اسلم نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اجلاس میں سابقہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان ادارہ جات کو جنہیں گزشتہ فیصلے کی روشنی میں باضابطہ مکتوب ارسال کیے گئے تھے، ان میں سے چند کی جانب سے تاحال جواب موصول نہ ہونے پر دوبارہ یاد دہانی کے خطوط ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تمام اخباری اداروں سے ان کے نمائندگان کی سٹیشن وائز تفصیل طلب کی جائے تاکہ صحافیوں کی مقامی سطح پر موجودگی اور خدمات کا مؤثر اندراج کیا جا سکے۔ ساتھ ہی اس امر پر زور دیا گیا کہ پریس فاؤنڈیشن کے تمام ممبران کے لیے ایک جامع فارم ڈیزائن کیا جائے، جس میں ان کے ذاتی، پیشہ ورانہ اور لواحقین کی مکمل تفصیل درج ہو تاکہ مستقبل میں فلاحی سہولیات کی فراہمی مؤثر انداز میں ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس میں اس اہم معاملے پر بھی سنجیدہ گفتگو کی گئی کہ ای او بی آئی (EOBI) کے تحت پاکستان کی طرز پر آزاد کشمیر میں کام کرنے والے ورکنگ جرنلسٹس کو بھی پنشن کی سہولت دی جائے۔ اس مقصد کے لیے آزاد کشمیر میں شائع ہونے والے تمام رجسٹرڈ اخبارات اور نیوز ایجنسیز کو اس اسکیم میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی، تاکہ ریاست کے سینئر صحافیوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر چیئرمین کمیٹی سردار اعجاز خلیق نے اپنے خطاب میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کی جانب سے وائس چیئرمین پریس فاؤنڈیشن سردار ذوالفقار علی کی تحریک پر پریس فاؤنڈیشن کی سالانہ گرانٹ میں 100 فیصد اضافے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سدھنوتی کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے پریس فاؤنڈیشن کیلئے سدھنوتی میں ایک کنال اراضی مختص کرنے کی منظوری دی۔سردار اعجاز خلیق نے کہا کہ ریاستی صحافیوں کا کردار ہمیشہ تاریخی رہا ہے، چاہے وہ تحریک آزادی کشمیر ہو، تحریک تکمیل پاکستان ہو یا ملک میں کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا، آزاد کشمیر کے صحافیوں نے ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ “آزاد کشمیر کے صحافیوں نے محدود وسائل کے باوجود عالمی سطح پر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہاں کی صحافت، عوام کی طرح جرات مند، غیرت مند اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے۔”انہوں نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں مسلح افواج پاکستان کی شاندار عسکری فتح کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی کامیابی میں آزاد کشمیر کے عوام اور ریاستی میڈیا نے بھی مورال بلند کرنے، حقائق اجاگر کرنے اور دشمن کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔چیئرمین کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آزاد کشمیر کے ورکنگ جرنلسٹس، وائس چیئرمین سردار ذوالفقار علی کی قیادت میں ریاست، افواجِ پاکستان، قومی سلامتی، تحریکِ آزادی کشمیر اور تحریکِ تکمیل پاکستان کے بیانیے کو مؤثر انداز میں اُجاگر کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ صحافت صرف خبروں تک محدود نہ رہے بلکہ قومی بیانیے کا ترجمان اور دفاعی مورچہ بھی بنے — جس میں ریاستی صحافت اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی عہدہ برآ ہو رہی ہے۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
