سپیکر آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت قا نون ساز اسمبلی کے اجلاس میں

سپیکر آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت قا نون ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم وممبرا سمبلی راجہ محمد فاروق حیدر خان،وزیراطلاعات پیر محمد مظہر سعید شاہ اور وزیر بحالیات جاوید اقبال بڈھانوی جانب سے قراردادیں ایوان میں پیش کی گئی جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔

وزیر اطلاعات آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیرپیر محمد مظہر سعید شاہ کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس بھارتی وزیر داخلہ کے سندھ طاس معاہدے کی بحالی کو مکمل طور پر مسترد کرنے سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ انتہا پسند مودی حکومت کے وزیر داخلہ کا یہ بیان بین الا قوامی معاہدوں کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی اور سنگین بے حسی کا مظاہرہ ہے۔ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الا قوامی معاہدہ ہے جس کا ضامن ایک بین الا قوامی ادارہ ہے۔ اس طرح کا بیان ریاست ہندوستان کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتا ہے جو کھلے عام اپنے قانونی وعدوں سے انحراف کرتی ہے۔ یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا غیرذمہ دارانہ اور انسانیت دشمن فعل ہے اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ریاستی اصولوں کے منافی ہے۔ یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے پانی کی بندش جنگی اقدام تصور ہو گا۔ یہ اجلاس مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستانی مظالم پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ہندوستان کے ملوث ہونے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی اداروں سے ہند و توا نظریات پر مشتمل ہندوستانی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتا ہے۔

وزیر اطلاعات آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیرپیر محمد مظہر سعید شاہ کی جانب سے پیش کردہ ایک اور قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس القدس غزہ میں گزشتہ سالہا سال سے اسرائیل اور ان کے ہمنواؤں کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل اور ان کے ہمنواوئں کی طرف سے اسلامی ممالک بالخصوص فلسطین، ایران، عراق، یمن اور شام سمیت تمام مسلم ممالک میں صیہونی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے امت مسلمہ کو آپریشن بنیان المرصوص کی طرح متحدومتفق ہو کر اسلامی، اخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ظالم سے بغاوت اور ہر مظلوم کی مدد کا اجتماعی ماحول بنانے کیلئے موثر کردار ادا کریں تا کہ معرکہ حق کی طرح کامیابی امت کا مقدر بنے۔یہ ایوان مقبوضہ کشمیر میں جاری ہندوستان کے مظالم اور کشمیریوں کے گھر وں کو مسمار کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ نیز ہندوستان کے وزیر داخلہ کے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ہر ز ہ سرائی کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس کو آبی دہشت گردی تصور کرتا ہے۔یہ ایوان ہندوستان کے عالمی معاہدوں کی شدید خلاف ورزی ہٹ دھرمی اور غیرسنجیدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔یہ ایوان اسرائیل اور ان کے ہمنواو?ں کے حالیہ حملوں کو ” ظالمانہ حملے ” عالمی قانون کی شدید خلاف ورزی اور جنگی جرائم قرار دیتا ہے۔یہ ایوان وزارت خارجہ پاکستان اور حالیہ او آئی سی کا نفرنس استنبول ترکی میں ایران کے حوالے سے جو قرارداد پیش کی گئی، وہ امت مسلمہ کے اتحاد، خطے میں امن وامان اور خود مختاری کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کی ہم بھر پور حمایت کرتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے اس حالیہ صورتحال کے تناظر میں جاری کیا گیا بیان پاکستان کی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ جس میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان کا موقف امت مسلمہ کے اتحاد اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پرمبنی ہے۔ یہ ایوان اس موقف کی تائید اور حمایت کرتا ہے۔لہذا یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان، وزارت خارجہ، او آئی سی اور اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے امت مسلمہ کے در میان اعتماد، تعاون اور امن قائم رکھنے کے لیے موثر کردار ادا کریں اور ایران سمیت تمام اسلامی ممالک کے ساتھ تعمیری مکالمے اور سفارتی روابط کو فروغ دیا جائے۔ نیزغزہ اور ایران پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔

سابق وزیراعظم و ممبر اسمبلی راجہ محمد فاروق حیدر خان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبل کا یہ اجلاس حریت لیڈر سید شبیر احمد شاہ جو اس وقت بھارتی جیل نماز میں قید و بند کی صورت برداشت کرنے کے علاوہ Prostate cancer کے مرض میں مبتلا ہیں۔ سید شبیر احمد شاہ نے بھارتی حکام کو دہائی طور پر یہ کہا ہے کہ عرصہ دو سال سے مجھے اپنے اہل خانہ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ مزید برآں کہ انہوں نے احتجاجا علاج کروانے سے بھی معذوری کا اظہار کیا ہے۔یہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ بطور UNO Resolution Signatury اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا جائے کہ انہیں اپنے اہل خانہ سے ملنے کی اجازت دی جائے اور علاج معالجہ کے حوالہ سے ضروری اور فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔

وزیر بحالیات جاوید اقبال بڈھانوی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبل کا یہ اجلاس چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹوزرداری جن کو حکومت پاکستان نے سفارتی مشن کاسربراہ بنا کر بھیجا تھا۔ انھوں نے بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر سمیت پاکستان کے دیگر مسائل کو شاندار طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ بلال بھٹو زرداری نے امریکہ، برطانیہ کے اندر جاکر بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا جس پر ہم سب ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ آج کا یہ اجلاس قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی سلام عقیدت پیش کرتا ہے۔ جنھوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا کر پاکستان اور امت مسلمہ کا سر فخر سے بلند کیا۔ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی وجہ سے آج ہماری قیادت بھارت کے حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی ہیاور اس بنیاد پر ہم نے حالیہ جنگ میں فتح حاصل کی، آج کا یہ اجلاس چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل حافظ منیر کی جرات مندانہ قیادت کو بھی سلام عقیدت پیش کرتا ہے۔ جنھوں نے جرات کا مظاہر ہ کرتے ہوئے پیشہ وارانہ مہارت کی بنیاد پر پاکستان اور افواج پاکستان کو فتح ولائی۔ آج کا یہ اجلاس بھارت اور اسرائیل کی جارحیت کی بھر پور مذمت کرتا ہے، اور پاکستان اور ایران کو بھر پور جواب دینے اور جنگ جیتنے پر مبارکباد پیش کرتا ہے۔

Share This Post

More To Explore