وزیرخزانہ عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں آزاد کشمیر کے ترقیاتی میزانیہ برائے مالی سال 2025-26ء کے اہم خدوخال پیش کرتے ہوئے کہاکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کی ترتیب و تدوین میں جاریہ منصوبہ جات کیلئے52فیصد جبکہ نئے منصوبہ جات کیلئے48فیصد فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔

وزیرخزانہ عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں آزاد کشمیر کے ترقیاتی میزانیہ برائے مالی سال 2025-26ء کے اہم خدوخال پیش کرتے ہوئے کہاکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کی ترتیب و تدوین میں جاریہ منصوبہ جات کیلئے52فیصد جبکہ نئے منصوبہ جات کیلئے48فیصد فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ مالی سال 2024-25ء کے اختتام تک 76منصوبہ جات مکمل کر لئے جائیں گے جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران167 منصوبہ جات کی تکمیل کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں مجموعی ترقیاتی پروگرام کو قابل عمل حد تک برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26ء میں سماجی شعبہ جات کیلئے مجموعی طور پر34فیصد،پیداواری شعبہ جات کیلئے14 فیصداور انفراسٹرکچر کے شعبہ جات کیلئے52فیصد مالی وسائل فراہم کئے گئے ہیں۔سالانہ ترقیاتی پروگرام میں جاریہ منصوبہ جات کیلئے 25 ارب 21کروڑ روپے سے زائد جبکہ نئے منصوبہ جات کیلئے مجموعی طورپر 23 ارب79 کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔ جس کے خلاف سماجی، پیداواری اور انفراسٹرکیچرکے حکومتی ترجیحات کے مطابق اہم نوعیت کے منصوبہ جات پرعملدرآمد کیا جائیگا۔جس سے سماجی، پیداواری اور معاشی ترقی کو فروغ حاصل ہو گا۔عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیئے500کلومیٹراہم شاہرات کی ری سرفسنگ اور 990 کلومیٹرنئی رابطہ سڑکات کی تعمیر/بہترگی و پختگی اور ری کنڈیشنگ کے منصوبہ جات پرعملدر آمد کی تجویز ہے۔لوکل گورنمنٹ کے زیر انتظام دیہی علاقوں میں عوام کو بنیادی اور فوری ضروریات کی فراہمی کے لیئے مجموعی طور پر 5ارب روپے کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کیا جائیگا۔آزاد کشمیر میں چین سے بطورگرانٹ موصول شدہ 150واٹرفلٹریشن پلانٹس کی تنصیب اور پہلے سے نصب شدہ 150واٹرفلٹریشن پلانٹس کی اوورہالنگ کے لئے 45کروڑ سے زائد کے 2منصوبہ جات شروع کیے گئے ہیں نیز مظفرآباد شہر میں سالڈویسٹ مینجمنٹ کے لئے جدید مشینری کی خرید کے لئے36کروڑ 12لاکھ روپے سے زائد کا منصوبہ منظور کیاگیا ہے۔ مہاجرین مقیم پاکستان کی آباد کاری کیلئے1 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن سے کالونیوں کی تعمیر کیلئے خرید اراضی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کیا جائیگا۔آئندہ مالی سال کے دوران عوام کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی، مرمتی، بحالی اور بہترگی کیلئے منصوبہ جات منظور کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں سعودی ڈویلپمنٹ فنڈکے مالی تعاون سے 22میگا واٹ جاگراں۔IV اور 48میگا واٹ شونٹر کے منصوبہ جات پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ گرڈ اسٹیشن سماہنی،سہنسہ،پٹہکہ اور جبی کے قیام کا عمل جاری ہے جبکہ حویلی/فارورڈ کہوٹہ میں گرڈ کے قیام کا منصوبہ زیر تجویز ہے۔علاوہ ازیں رواں مالی سال2024-25ء میں 3.2میگاواٹ چھم فال اور 3.22میگاواٹ نڑدجیاں ہٹیاں بالا کے منصوبہ جات مکمل کیئے جاچکے ہیں۔آئیندہ مالی سال کے دوران560ایچ ٹی،2010ایل ٹی پولز بمعہ175کلومیٹر لائن اور345ٹرانسفامرز کی تنصیب عمل میں لائی جاکر 30ہزار نئے کنکشنز فراہم کیئے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ترقیاتی ادارہ جات مظفرآباد، باغ، راولاکوٹ، کوٹلی او رمیرپور کی حدود میں سڑکوں، پارکس کی تعمیرکے منصوبہ جات پر کام جاری رہے گا جن کے لئے مجموعی طور پر34کروڑ 50 لاکھ روپے کی فراہمی کی تجویز ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیئے مالی سال 2025-26ء میں شعبہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے زیر انتظام مجموعی طور پر ایک ارب20کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویزہے۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ پولیس کی تحقیقاتی استعداد کار بڑھانے کیلئے خدمت مراکز، کرائم سین انوسٹٹیگیشن اور سیف سٹی کے منصوبہ جات زیر عمل ہیں۔نیز پولیس کی کارکردگی بڑھانے کے لئے26کروڑ روپے سے چار بکتربند گاڑیاں بھی رواں مالی سال میں خرید کی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ مظفر آباد، راولاکوٹ اور میرپور میں آئی ٹی ایکسیلنس مراکز قائم کئے جا رہے ہیں تاکہ بے روزگار نوجوانوں کومزید تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں۔ جس سے خود روزگاری کے مواقع میسر آسکیں۔نیز آزاد کشمیر کی تحصیلوں میں لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن اور 16تحصیلوں میں ٹیلی ہیلتھ مراکز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کے ہائیر سیکنڈری سکولز اور ہائی و مڈل سکولز کی عمارات کی تعمیر، اضافی مکانیت اور سہولیات کی فراہمی کیلئے مالی سال 2025-26کے دوران ایک ارب 96کروڑ روپے کی رقم مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔آزاد کشمیر میں ڈویژن کی سطح پر کالجز کی نئی عمارات کی تعمیر کیلئے تین منصوبہ جات شامل کئے جا رہے ہیں جن کیلئے 1ارب71 کروڑ روپے کی رقم مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔عوام کو معیاری خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ڈویژنل سطح پر تین موبائل فوڈٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں جو کہ فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔آئندہ مالی سال کے دوران آزاد کشمیر ٹیوٹا (TEVTA)کے زیر انتظام تقریبا14ہزار نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جائے گی نیزنوجوانوں کو کاروبار کے لئے بلاسود قرضہ جات کی ادائیگی کے لئے”وزیراعظم یوتھ لون پروگرام“ لاگتی 1ارب روپے کا آئندہ مالی سال 2025-26؁ء میں اجراء کئے جانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہاکہ مالی سال 2025-26ء کے دوران اخوت اسلامک مائیکروفنانس کے اشتراک سے بلاسود قرضوں کی فراہمی کا نیا مرحلہ بھی شروع کیے جانے کی تجویز ہے جس کی مالیت75کروڑ روپے سے بڑھا کر1ارب روپے کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ آئیندہ مالی سال کے دورانSustainable Development Goals (SDGs) کے حصول کے لئے آزادکشمیرمیں SDGیو نٹ کا قیام عمل میں لایا جارہاہے۔انہوں نے کہاکہ بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے محکمہ صحت عامہ کے ترقیاتی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے6ارب روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔علاوہ ازیں مختلف ضلعی و تحصیل ہسپتالوں میں ایمرجنسی ادویات کی خرید کیلئے40کروڑ روپے مختص کئے جانے کی بھی تجویز ہے۔وفاقی حکومت کے تعاون سے ٹھوٹھہ ہسپتال کے قیام کے لیے 40کروڑ روپے مختص کیے جانے کی بھی تجویز ہے۔حکومتی ترجیحات کی روشنی میں 51کروڑروپے کی لاگت سے مختلف تعلیمی ادارہ جات کے طلباء /طالبات کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے30بسیں خرید کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں، منصوبہ میں حاصل شدہ بچت لاگتی2کروڑ90لاکھ روپے سے مزید2بسیں بھی خرید کی گئی ہیں۔

Share This Post

More To Explore