ناظم آزاد جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بڑی ادبی شخصیات پیدا ہوئی۔

ناظم آزاد جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بڑی ادبی شخصیات پیدا ہوئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان سب ہستیوں کو یاد رکھیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے شعرا کرام نے نہ صرف مزاحمتی شاعری کی بلکہ تمام اصناف میں اپنا نام پیدا کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مظفرآباد کے شعرا سے مشاورتی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس نشست میں مخلص وجدانی، ریٹائرڈ سیکرٹری حکومت عطا اللہ عطا، ناز مظفرآبادی،محمد طارق بٹ، ڈاکٹر آمنہ بہار، ڈاکٹر غلام حسن بٹ، چوہدری محمد رفیق، صائم راست، عبدالعزیز زخمی و دیگر نے شرکت کی۔ ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان نے ناظم آزاد جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی کا چارج سنبھالنے کے فوری بعد باغ سے مشاورت کا اغاز کیا۔ آزاد جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی کے مقاصد ایکٹ میں دیئے گئے ہیں ہم اس دائرہ کار میں رہ کر کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں تعاون کا جذبہ خوش آئند ہے۔ ”تقریب سپاس افواج پاکستان“میں بھی عوام نے بھرپور تعاون کیا اور سٹریٹ لائبریری پروگرام میں بھی عوام کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسالہ تہذیب کو ہم ایک مکمل تحقیقی اور تخلیقی مجلہ بنائیں گے۔آزاد جموں و کشمیر میں اردو، کشمیری، گوجری، پہاڑی، شینا, پشتو، ڈوگری، پنجابی، کنڈل شاہی اور دیگر بولی جانے والی زبانوں کے فروغ کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کو تاریخی طور پر ادب، شاعری اور علمی سرگرمیوں کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ خطہ اردو، کشمیری و دیگر زبانوں میں ادب کی بھرپور روایت رکھتا ہے۔ یہاں کے اسکالرز، ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں نے نہ صرف مقامی ثقافت کو اجاگر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت بنائی۔ مثال کے طور پر امیر کبیر سید علی ہمدانی، عظیم صوفی شاعر شیخ العالم (نورالدین رشی)، للہ عارفہ، حبہ خاتون، غلام احمد مہجور اور جدید دور میں کرشن چندر، عبدالعلیم صدیقی، آغا حشر کاشمیری، ساغر صدیقی، سید غلام ثقلین نقوی، زاہد ہاشمی، علامہ اقبال، غنی کاشمیری، سید غلام حسین کاظمی، چراغ حسن حسرت، رومی کشمیر میاں محمد بخش، ڈاکٹر صابر آفاقی، افتخار مغل، احمد شمیم، نذیر انجم، پروفیسر عبد العلیم صدیقی، آزر عسکری، سعید شاہ بخاری، عبدالحفیظ سالب، سعادت حسین منٹو، محمد دین تاثیر، پطرس بخاری، شورش کاشمیری، رحمان راہی، آغا شاہد علی قزلباش، محمد عبداللہ ملنگ، ملکہ پکھراج، امجد رشید، زاہد کلیم اور دیگر نے ادب کو نئی جہتیں دیں۔ ان شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اکیڈمی مخصوص دن منائے گی۔ اسی سلسلہ میں حضرت شاہ ہمدان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے 18 جون کو سیمینار کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

Share This Post

More To Explore