ترجمان پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق روز نامہ سٹیٹ ویوز اسلام آباد مظفر آباد میں شائع شدہ خبر مورخہ 08 جون 2025ء کے تحت 48 میگاواٹ شونٹر ہائیڈل پراجیکٹ کی کنسلٹنسی میں خفیہ ڈیلز اور بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے

ترجمان پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق روز نامہ سٹیٹ ویوز اسلام آباد مظفر آباد میں شائع شدہ خبر مورخہ 08 جون 2025ء کے تحت 48 میگاواٹ شونٹر ہائیڈل پراجیکٹ کی کنسلٹنسی میں خفیہ ڈیلز اور بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے جو کہ خلاف حقائق اور مفروضوں پر مبنی ہے۔ 48 میگاواٹ شونٹر ہائیڈل پراجیکٹ کی کنسلٹنسی کے ٹینڈر ز کا کام تاحال زیر کار ہے، ابھی تک کسی بھی کنسلٹنٹ کو کام الاٹ نہ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں بمطابق ریکارڈ وضاحت محکمانہ موقف پیش خدمت ہے۔پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے زیر انتظام 48 میگاواٹ شونٹر اور 2 میگاواٹ جاگراں فیز IV ہائیڈل پر اجیکٹس کی Consultancy کا کام تحت قواعد پاکستان انجینئر نگ کونسل ،(AJK Public Procurment Regulatory Authority (AJK) (PPRA اور بالخصوص ڈونر ایجنسی سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ (SFD) کی گائیڈ لائنز کی روشنی میں تحت ضابطہ قومی و بین الاقوامی اخبارات (روزنامہ ڈان لاہور، دی نیوز اسلام آباد، روزنامہ جنگ و نوائے وقت) کے علاوہ AJK PPRA کی ویب سائیٹ پر بروئے اشتہار نمبر 5755-5754 مورخہ 31 جنوری 2025 ء کوحکومتی ہدایات کی تعمیل میں جملہ اشتہارات محکمہ اطلاعات کے ذریعے مشتہر کروائے گئے۔بالا ہر دو پرا جیکٹس کے اشتہارات مورخہ 31 جنوری 2025کو شائع ہوئے، جبکہ زیر بحث اخباری خبر میں یہ تاریخ مورخہ 19 فروری 2025 درج کی گئی ہے جو کہ درست نہ ہے ۔ بمطابق ریکارڈ Submission of Technical Proposals for Pre-Qualification Document(PQD) کیلئے مورخہ 14 مارچ 2025 مقر رکی گئی۔ بعد ازاں مختلف معروف کنسلٹنٹس نے تحریری طور پر Technical Proposals جمع کروائے جانے کی تاریخ میں توسیع کیلئے استدعا کی، جس کیلئے باضابطہ طور پر ڈونر ایجنسی SFD کی رضا مندی کے بعد Technical Proposals کی Submission کیلئے 07اپریل 2025 تعین کی گئی۔مقررہ تاریخ تک شونٹر اور جاگراں۔IV پراجیکٹ کیلئے بالترتیب 22 اور 21 معروف نیشنل و انٹرنیشنل کنسلٹنگ فرمز کے حق میں تحت ضابطہ Pre-Qualification Documents جاری کیے گئے۔ یہاں پر یہ بھی تحریر کرنا ضروری ہیکہ PQD پاکستان انجینئر نگ کونسل کے Standard Format کے علاوہ ڈونر ایجنسی SFD سے با ضابطہ طور پر منظور شدہ ہیں۔ PQD ڈاکومنٹس جملہ فرما کنسلٹنس کو Hard & Soft شکل میں فراہم کئے گئے، جن میں جملہ شرائط واضح طور پر درج تھیں۔ اسطرح اخباری خبر میں یہ دعوی کرنا کہ ٹینڈرز میں شامل کئی شرائط کو خفیہ رکھا گیا تا کہ ایک مخصوص کمپنی کو فائدہ دیا جا سکے قطعی طور پر غلط اور مغائر حقائق ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہیکہ ڈونر ایجنسی (SFD) کیجانب سے Pre-Qualification ڈاکومنٹ میں یہ اہم شرط عائد کی گئی تھی کہ کنسلٹنٹس کے Joint Venture میں سعودی کنسلٹنسی فرم کو شامل کیا جائے، اسطرح اس پر اسیس / شرائط کو کسی طور پر بھی خفیہ رکھا نہیں جاسکتا تھا۔ علاوہ از مقررہ تاریخ مورخہ 07 اپریل 2025ء تک شونٹر اور جا گراں۔IV پراجیکٹس کیلئے بالترتیب 07 اور 04 کنسلٹنٹس نے اپنے اپنے JVs کیسا تھ Technical Proposals جمع کروا ئیں،جن کی باقاعدہ Technical Evaluation کے بعد ہر دور پراجیکٹس کے لیے جملہ کنسٹلٹنس کو پری کوالیفائی کیا گیا ۔ جس کا نتیجہ تحت قواعد اے جے کے PPRA کی ویب سائیٹ پر Publish کیاگیا۔ اور مطابقاً ڈونر ایجنسی SFD اور اکنامک افیئرز ڈویژن حکومت پاکستان کو بھی تحریری طور پر آگاہ کیا گیا۔اسی تسلسل میں مورخہ 23 اپریل 2025ء کو جملہ پری کوالیفائیڈ کنسٹلٹنٹس کو ( Request For proposal) RFP ڈاکومنٹس جاری کیے گئے ۔ یاد رہے کہ RFPڈاکومنٹس بھی باضابطہ ڈونر ایجنسی SFDسے منظور شدہ اور گائیڈ لائنز کے مطابق ہیں ۔ Technical & Financial Proposals جمع کروانے کی آخری تاریخ (بعد از توسیع) مورخہ 22 مئی 2025 مقرر کی گئی۔ مورخہ 06 مئی 2025 ء کو دفتر PDO میں Pre-Bid میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ منعقدہ میٹنگ میں جملہ Consultants کی Queries/Observations کو Address کیا گیا۔ میٹنگ کی روائیداد جاری شدہ ہے، جو کہ بوقت ضرورت ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ اسطرح اخبار کا یہ موقف اور یہ تاثر دینا کہ پری بڈ میٹنگ میں فراہم کردہ معلومات نا مکمل اور گمراہ کن تھیں اور جس کمپنی کو کامیاب قرار دیا گیا، وہ پری بڈ میٹنگ کے منٹس میں کہیں درج نہیں، قطعی طور پر غلط اور مغائر حقائق ہے۔ در حقیقت تا حال کسی بھی کنسلٹنٹ کو حتمی طور پر منتخب کیا ہی نہیں گیا ہے۔ شونٹر پراجیکٹ کیلئے ابھی تک کسی بھی کنسلٹنٹ کی حتمی سلیکشن نہ ہوئی ہے، جو کہ PPRA قانون پر عملدر آمد کرنے اور تحت ضابطہ ڈونر ایجنسی کی Vetting /منظوری کے بعد عمل میں لائی جائیگی۔ محکمہ PDO کے آفیسران کی ملی بھگت کا الزام قطعی طور پر غلط اور گمراہ کن ہے، جہاں تک اس پراسیس کی شفافیت کا تعلق ہے، PDO کسی بھی مرحلہ پر اور کسی بھی فورم پر جملہ ریکارڈ پیش کرنے کیلئے تیار ہے۔

Share This Post

More To Explore