چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر ہائیکورٹ جسٹس صداقت حسین راجہ کی ریٹائرمنٹ کے سلسلہ میں ہائیکورٹ آزادجموں وکشمیر کی انتظامیہ کی جانب سے پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ججز آزادجموں وکشمیر ہائیکورٹ جسٹس سید شاہد بہار، جسٹس سردار محمد اعجاز خان، جسٹس خالد رشید چوہدری اور سابق جج ہائیکورٹ جسٹس میاں عارف حسین، ایڈووکیٹ جنرل، وائس چیئرمین آزادجموں وکشمیر بار کونسل، رجسٹرار ہائیکورٹ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سیکرٹری قانون، انصاف و پارلیمانی امور، سیکرٹری فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، چیئرمین انوائرمنٹل ٹریبونل، چیئرمین انکم ٹیکس ٹربیونل،ججز احتساب کورٹس، جج الیکشن ٹریبونل، جج سروس ٹریبونل، ممبرآن بار کونسل، سیکرٹری الیکشن کمیشن، سیکرٹری جنرل سپریم کورٹ و ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، صدر سینٹرل بار ایسوسی ایشن، ڈپٹی کمشنر مظفرآباد، ماتحت عدلیہ آزاد جموں و کشمیر کے جوڈیشل آفیسران و قاضی صاحبان نے شرکت کی۔ تقریب آمد پر چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس صداقت حسین راجہ کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ہائیکورٹ کے افسران نے چیف جسٹس صداقت حسین راجہ کو پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے ویلکم کیا گیا اور چیف جسٹس ہائیکورٹ صداقت حسین راجہ کو آزادجموں وکشمیر پولیس کی جانب سلامی دی گئی۔ تقریب سے خطاب میں مقررین نے جسٹس صداقت حسین راجہ کی عدلیہ کے لیے خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس صداقت حسین راجہ نے عام آدمی کو انصاف کی فراہمی، وکلاء اور جوڈیشری کے وقار میں اضافہ کیا اور عدلیہ کے انفراسٹرکچر کی بہتری، جوڈیشل آفیسران کو سہولیات کی فراہمی سمیت عدلیہ کے ملازمین کی فلاح و بہبود کیلئے تاریخی اقدامات اٹھائے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس صداقت حسین راجہ نے کہا کہ بطور چیف جسٹس میری جتنی کامیابیاں ہیں ان سب میں ہائیکورٹ کے ججز صاحبان، وکلاء اور ہائیکورٹ کے افسران اور سٹاف کا کلیدی کردار ہے۔ریٹائرمنٹ پر وکلاء اور عدلیہ کی جانب سے جس انداز میں محبت دی گئی اس پر آپ سب کا مقروض ہو کر جارہا ہے۔ جس انداز سے آزادجموں وکشمیر بھر میں عزت افزائی کی گئی اس پر وکلاء اور ماتحت عدلیہ کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب حق سچ کے ساتھ کھڑے ہوں تو کوئی بھی راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ ہائیکورٹ کے موجودہ ججز دلیر، لائق اور اصول پرست ہیں۔ ہائیکورٹ کے انفراسٹرکچر کے لیے فنڈز کی فراہمی پر تمام وزرائے اعظم اور سیکرٹریز کا بھی شکرگزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے وکلاء کو اللہ نے بہترین صلاحیتیں دی ہیں۔ انہوں نے بھرپور تعاون پر وکلاء اور میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل آزاد جموں وکشمیر شیخ مسعود اقبال نے کہا کہ چیف جسٹس صداقت حسین راجہ حق کے ساتھ رہے اور حق کا ساتھ دیا۔ آپ محبتوں کے سفیر ہیں۔ آپکی وجہ سے وکلاء کی تحریم اور تکریم میں اضافہ ہوا۔
سیکرٹری قانون و انصاف حکومت آزادکشمیر چوہدری سجاد احمد نے کہا کہ دلیری بہادری، اصول پرستی، حق بات پر قائم رہنا چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس صداقت حسین راجہ کی طبعیت کا خاصہ ہے۔ عوام کو بھی چیف جسٹس صداقت حسین راجہ پر بھرپور اعتماد تھا۔ ریٹائرمنٹ پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
وائس چیئرمین بار کونسل عقاب ہاشمی نے کہا کہ اللہ تعالی نے لوگوں کے دل چیف جسٹس صداقت حسین راجہ کی طرف موڑ دیے ہیں، شاندار خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
صدر سینٹرل بار ایسوسی سید انیس الحسن گیلانی نے کہا کہ چیف جسٹس صداقت حسین راجہ جیسے لوگ اپنے کردار کیوجہ سے عہدے کے محتاج نہیں ہوتے، آپ ہمارے دلوں سے کبھی ریٹائر نہیں ہوں گے۔ جسٹس صداقت حسین راجہ وکلاء اور ماتحت عدلیہ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔
جنرل سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سید مہر علی شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس صداقت حسین راجہ نے پسے ہوئے طبقات کو انصاف کی فراہمی کیلئے کلیدی کردار ادا کیا۔
جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن راجہ ظفر عمر خان نے کہا کہ چیف جسٹس نے وکلاء کے مسائل حل کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
رجسٹرار ہائیکورٹ راجہ اطہر علی خان نے تقریب آمد پر چیف جسٹس، ججز ہائیکورٹ اور دیگر مہمانوں کا تقریب آمد پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بھی اپنے خطاب میں چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس صداقت حسین راجہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر ہائیکورٹ انتظامیہ کی جانب سے چیف جسٹس کو تحائف بھی پیش کیے گئے۔ تقریب کے اختتام پر دعا بھی کی گئی۔
*****
News II
مظفر آباد ( پی آئی ڈی ) 5 جون 2025
چیف جسٹس عدالت العالیہ آزادکشمیر جسٹس صداقت حسین راجہ کی ریٹائر منٹ کے اعزاز میں عدالت العالیہ آزادکشمیر میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا ، فل کورٹ ریفرنس کی صدارت چیف جسٹس عدالت العالیہ جسٹس صداقت حسین راجہ نے کی ، فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس عدالت العالیہ آزاد کشمیر سنئیر جج جسٹس سردار لیاقت حسین ، جسٹس عدالت العالیہ آزاد کشمیر سید شاہد بہار ، جسٹس عدالت العالیہ آزادکشمیر سردار محمد اعجاز خان اور جسٹس عدالت العالیہ آزادکشمیر چوہدری خالد رشید نے شرکت کی ، فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس رئٹائرڈ ہائی کورٹ آزادکشمیر میاں عارف حسین،سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان ، قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد ، رجسٹرار عدالت العالیہ آزادکشمیر راجہ اطہر علی خان ،ایڈووکیٹ جنرل آزاد کشمیر شیخ مسعود اقبال ، چیئرمین انکم ٹیکس ٹربیونل شیخ راشد مجید، چیئرمین انوائرمنٹل ٹریبونل راجہ راشد نسیم ، جج آزادجموں و کشمیر الیکشن ٹربیونل حافظ سردار محمد اکرم، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مظفر آباد جہانگیر احمد جرال سیکرٹری قانون ، انصاف و پارلیمانی امور چوہدری محمد سجاد ، سیکرٹری الیکشن کمیشن راجہ محمد شکیل خان، وائس چیرمین آزادجموں و کشمیر بار کونسل عقاب احمد ہاشمی ، ممبران بار کونسل ، جنرل سیکرٹری ہائی کورٹ بار راجہ ظفر عمر ایڈووکیٹ ، جنرل سیکرٹری سپریم کورٹ بار سید مہرعلی بخاری ، صدر سینٹرل بار سید انیس الحسن گیلانی ، سیکرٹری جنرل سینٹرل بار توفیق احمد چوہدری ، نائب صدر سینٹرل بار آسیہ رفیق ایڈووکیٹ ، ڈپٹی کمشنر مظفرآباد مدثر فاروق،جج سمیت وکلاء صاحبان اور آفیسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، اس موقع پر فل کور ٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس عدالت العالیہ آزادکشمیر جسٹس صداقت حسین راجہ نے کہا کہ جب عہدہ سنبھالا تو نظام میں بہتری کے لیے کام شروع کیا ، نظام سے خامیوں کا خاتمہ کیا ، ہمیشہ اپنا آئینی کردار ادا کیا ، فاضل ججز عدالت العالیہ کی مشاورت اور بھرپور معاونت سے پرانے مقدمات کو یکسو کیا ،عدالتی نظام کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق چلانے اور ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں ،جوڈیشل نظام کا حصہ رہتے ہوئے انصاف کے فروغ اور وکلا کی فلاح کے لیے اقدامات اٹھائے ،عدالتی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ایگزیکٹیو کے تعاون پر مشکور ہیں ، میرے جانے کے باوجود عدالت العالیہ کی جملہ پالیسیاں تسلسل کے ساتھ چلتی رہیں گے ، سینئیر جج سردار لیاقت حسین دلیر ، ایماندار اور عدالت آزادی پر یقین رکھنے والے انسان ہیں ،میں نے بطور چیف جسٹس عدالتی نظام میں اصلاحات اور وکلا کے دفاتر کی مکانیت کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ، اینٹی ٹیررازم ، ڈرگز کورٹ اور دیگر معاملات کے لیے حکومت سے مسلسل خط و کتابت جاری رکھی ، انھوں نے کہا کہ انصاف فراہمی میں تاخیر ناانصافی ہے ، حکومت اور اس کے ذیلی اداراجات کا کردار ہمیشہ مثبت رہا ، قانون شکنی ناقابل برداشت عمل ہے ، سستا انصاف ترجیح ہونی چاہیے ، قانون انسان کی فلاح کے لیے ہونے چاہیں، ہمیں ذیلی عدالتوں میں انصاف میں فراہمی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمہ کے لیے کام کرنا ہوگا ، وکلا وقت کی قدر کریں اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی حاصل کریں ، وکلاء عدالتی معاون کے طور پر عدالتوں میں انصاف فراہم کرنے میں کردار ادا کریں گے تو نظام انصاف موثر انداز میں حق داروں کو انصاف مہیا کر سکے گا ، انہوں نے کہا کہ وکلا کا فہم انصاف کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوتا ہے ، 36 سال پیشہ وکالت سے منسلک رہا ، مجھے زندگی بھر ایک خلش رہی کہ ماں نے کہا کہ جج بنوں لیکن جب جج بنا تو ماں نہیں رہیں ، دعا ہے اللہ والدین کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ، سابق چیف جسٹس صاحبان عدالت العالیہ آزاد کشمیر کا سروس کے دوران ہمیشہ بھرپور معاونت پر شکریہ ادا کرتا ہوں ، میں چیف جسٹس آزادکشمیر جسٹس سعید اکرم راجہ اور ججز صاحبان سپریم کورٹ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں ، انھوں نے کہا کہ ایگزیکٹیو کا مشکور ہوں کہ انہوں نے عدالتی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ بھرپور معاونت کی ، فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس عدالت العالیہ سید شاہد بہار نے کہا کہ چیف جسٹس عدالت العالیہ آزادکشمیر جسٹس صداقت حسین راجہ سنجیدہ ، تحمل مزاج اور بہترین انسان ہیں ، وہ آپ رائیٹ اور باریک بین انسان ہیں ، ان کی قانون و انصاف کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ، انھوں نے کہا کہ ان کی نظام انصاف کے لیے خدمات ، بینچ اور بار کے مضبوط رشتے کے قیام کے لیے کلیدی کردار کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ، انھوں نے کہا کہ میں چیف جسٹس صداقت حسین راجہ کو ریٹائر منٹ پر مبارکباد دیتا ہوں اور ان کے بہترین مستقبل کے لیے دعاگو ہوں، ایڈووکیٹ جنرل آزادجموں وکشمیر شیخ مسعود اقبال نے کہا کہ چیف جسٹس آزاد کشمیر کو ریٹائر منٹ کے موقع پر گراں قدر خدمات کی بدولت فل کورٹ ریفرنس پیش کرنا ان کی خدمات کا اعتراف ہے ، چیف جسٹس بار و بینچ کے درمیان مضبوط رشتے کے قیام کے حوالے سے رول ماڈل کے طور پر جانے جائیں گے ، چیف جسٹس ہائی کورٹ نے سروس کے دوران ہمیشہ محبتیں ہی بانٹی ہیں ، آپ کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،سابق جج عدالت العالیہ جسٹس رئٹائرڈ میاں عارف حسین نے کہا کہ جسٹس صداقت حسین راجہ کی پیشہ ورانہ خدمات کو عدالتی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،جسٹس صداقت حسین راجہ کا ویژن قابل ستائش ہے ، چیف جسٹس قانون و انصاف کے نظام میں رول ماڈل کے طور پر یاد رکھے جائیں گے ،فل کورٹ ریفرنس سے صدر سنیٹر بار ایسوسی ایشن سید انیس گیلانی،سیکرٹری جنرل ہائی کورٹ بار ظفر عمر ایڈووکیٹ ، جنرل سیکرٹری سپریم کورٹ بار سید مہر علی شاہ،
وائس چیرمین بار کونسل آزادجموں و کشمیر عقاب احمد ہاشمی نے بھی خطاب کیا اور چیف جسٹس عدالت العالیہ آزاد کشمیر کی انصاف کی فراہمی کے لیے خدمات پر چیف جسٹس آزادکشمیر کو بھرپور انداز میں خراج تحسین بھی پیش کیا ۔فل کورٹ ریفرنس کے اختتام پر ججز صاحبان عدالت العالیہ کی جانب سے چیف جسٹس آزادکشمیر جسٹس صداقت حسین راجہ کو شیلڈز بھی پیش کی گئیں ۔

