صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہاہے کہ پہلگام واقعہ کو بنیاد بنا کر بھارتی حکومت نے جارحیت کی راہ اپناتے ہوئے ”آپریشن سندور” کے نام سے پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں ایک مرتبہ پھر ناپاک عزائم کا مظاہرہ کیا، تاہم، دشمن کو یہ اندازہ نہ تھا کہ اس بار اُس کا سامنا صرف سرحدی دفاع سے نہیں، بلکہ ایک چٹان جیسی سیسہ پلائی دیوار اورغیر متزلزل قوت سے ہوگا۔پاک فوج نے اپنے روایتی عزم، غیر معمولی حکمتِ عملی اور جرات و بہادری کے مظاہرے کے طور پر ”آپریشن بنیانِ مرصوص” کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کو ایسی تاریخی اور عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا کہ بھارتی افواج ان زخموں کو مدتوں تک چاٹتی رہیں گی مگر پھر بھی ان زخموں سے خون رستا رہے گا۔ پاک فوج کی فتح محض ایک عسکری فتح نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے مضبوط ارادے، دفاعی صلاحیت اور دانشمندانہ قیادت کا واضح ثبوت تھا۔ پاک فوج کی فتح نے پوری دنیا میں پاک فضائیہ کی دھاک بٹھا دی ہے۔آج سہنسہ میں ایک بار پھراہلیانِ سہنسہ نے میرے تاریخ ساز استقبال سے یہ ثابت کر دیا کہ سہنسہ میرے لیے محض ایک مقام نہیں، بلکہ میرا دوسرا گھر ہے۔ اہلِ سہنسہ سے میرا اور میرے خاندان کا رشتہ صرف محبت، عقیدت اور احترام پر قائم نہیں، بلکہ یہ ایک دیرینہ تعلق ہے جو سالوں نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہے۔ انشاء اللہ، یہ تعلقِ محبت و اخلاص آئندہ بھی اسی گرمجوشی اور وفاداری کے ساتھ قائم و دائم رہے گا۔میں جب وزیر اعظم تھا تو میں میرپور میں انڈسٹریل زون کا قیام عمل میں لایا جس سے نہ صرف بے روزگاری پر قابو پانے میں مدد ملی بلکہ آزادکشمیر بھر میں کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا جبکہ میں نے ٹیکس فری زون قائم کیا تاکہ سرمایہ کاروں کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں لیکن اب صورتحال اس کے برعکس ہے اور میں اس صنعتی زون کو دوبارہ فعال کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کروں گا۔ اسی طرح میرپور، مظفرآباد، مانسہرہ موٹروے پر بھی کام جلد شروع کیا جائے اس موٹروئے کی تعمیر سے جہاں عوام کی سفری مشکلات آسان ہوں گی وہاں پر یہ موٹروے دفاعی اعتبار سے بھی کارگر ثابت ہو گی اس کے علاوہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت میرپور میں سی پیک بزنس سنٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جائے۔ سہنسہ کی سرزمین سے ہم مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور دلیر عوام کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کی جدوجہدِ آزادی میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، آپ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ظلم کی طویل رات اب اپنے انجام کے قریب ہے۔ انشا ء اللہ، تحریکِ آزادی کشمیر جلد ہی منزلِ مراد کو پہنچے گی۔ وہ دن دور نہیں جب آزادی کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ کشمیر کی فضاؤں میں طلوع ہوگااور ظلم و جبر کے سائے ہمیشہ کے لیے مٹ جائیں گے۔ہم اپنے کشمیری بھائیوں سے عہد کرتے ہیں کہ ان کے لہو کی حرارت، ان کی آواز کی گونج اور ان کے عزم کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہونے دیں گے۔ان خیالات کا اظہار صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے سہنسہ ناون کے مقام پر ایک تاریخ ساز جلسہ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ عام کی صدارت وزیر مال چوہدری محمد اخلاق نے جبکہ میزبانی کے فرائض چیئرمین ضلع کونسل کوٹلی عبدالغفور جاوید نے سرانجام دئیے۔جلسہ عام سے وزیر مال چوہدری محمد اخلاق،وزیر بہبود آبادی، آبپاشی و سمال ڈیمز سردار محمد حسین، وزیر پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن چوہدری محمد رشید،وزیر سیاحت و آثار قدیمہ سردار فہیم اختر ربانی،وزیر فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ چوہدری یاسر سلطان،چیئرمین ضلع کونسل کوٹلی عبدالغفور جاوید اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران لائن آف کنٹرول پر دشمن کی بلااشتعال گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے بہادر شہریوں کو ہم خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور اُن کی یہ قربانیاں محض مقامی سانحے نہیں، بلکہ ملی غیرت، قومی استقامت اور ارضِ وطن سے وابستگی کی روشن علامت ہیں۔ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول کے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے گا اور متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔حکومت ان شہداء کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ان کے دکھوں کا مداوا کیا جائے گا۔مودی حکومت کی ہندوتوا پالیسیوں نے بھارت کے سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور مختلف ممالک کے مبصرین اس حقیقت کا اعتراف کر رہے ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف ریاستی جبر ایک خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ روز بہ روز اس میں شدت آ رہی ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گرفتاریاں اور اظہارِ رائے پر پابندیاں معمول بن چکی ہیں۔ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں جتنا ظلم بڑھا رہی ہے، کشمیری عوام میں آزادی کا جذبہ اتنی ہی شدت سے پروان چڑھ رہا ہے۔تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کے لیے بھارت نے تمام تر ریاستی ہتھکنڈے استعمال کر لیے، مگر ناکامی ہر بار اس کا مقدر بنی۔ کشمیری عوام آج بھی جرات و استقامت کی تصویر بنے، آزادی کے اپنے حق کے لیے سینہ سپر ہیں۔ ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے دوہرے معیار اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو اُن کا جائز حق حقِ خودارادیت دلانے میں کردار ادا کرے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر خطے کے امن کے لیے ایک بنیادی رکاوٹ ہے۔ اس تنازع نے نہ صرف لاکھوں کشمیریوں کی زندگیاں متاثر کی ہیں بلکہ جنوبی ایشیا کو بھی مسلسل عدم استحکام کا شکار رکھا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ امن صرف بندوقوں کی خاموشی سے نہیں بلکہ انصاف پر مبنی حل سے قائم ہوتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں،میں نے سفارتی محاذ پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی کوششیں مسلسل جاری رکھی ہوئی ہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات میں کشمیری عوام کو بطور اصل فریق شامل کیا جائے۔ ان کی شمولیت کے بغیر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوں گے۔
*٭٭٭٭٭*
*صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے سہنسہ ناون کے مقام پر جلسہ عام کی جھلکیاں*
صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے اعزاز میں سہنسہ کی عوام،سول سوسائٹی اور دیگر مکتبہ فکر کی جانب سے ناون کے مقام پر ایک عظیم الشان جلسہ کا اہتمام کیا گیا،
جلسہ عام آمد پر اہلیان سہنسہ نے اپنے محبوب قائد کا والہانہ انداز میں تاریخی استقبال کیا،
اس موقع پر صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری زندہ باد، بیرسٹر سلطان تیرے جانثار بے شمار،بے شمار، کشمیریوں کا حقیقی ترجمان بیرسٹر سلطان بیرسٹر سلطان،ساڈی جند ساڈی جان بیرسٹر سلطان بیرسٹر سلطان کے فلک شگاف نعروں سے ناون کی فضائیں لرز اٹھیں۔
اس موقع پر صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری پر انتہائی خوبصورت اور جذباتی انداز میں گل پاشی کی گئی، انہیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے
اس موقع پر گھوڑوں کے روایتی رقص کا اہتمام کیا گیا اور ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں نے بھنگڑے ڈالے،
صدر ریاست جب پنڈال میں پہنچے تو پنڈال میں بیٹھا ہر شخص صدر ریاست کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب و بے قرار تھا
جیسے ہی صدر ریاست جلسہ گاہ جلوہ افروز ہوئے لوگوں نے کھڑے ہو کر فرط جذبات سے لبریز ہو کر صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا بے مثل و بے تمثیل استقبال کیا،
جلسہ عام میں حلقہ سہنسہ کی تمام یونین کونسلوں سے عوام جلوسوں کی شکل میں شریک ہوئے،جلسہ عام میں سہنسہ کی عوام،وکلا، انجمن تاجران، میڈیا نمائندگان،خواتین سمیت دیگر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی۔
صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود نے جب خطاب کا آغاز کیا تو تمام افراد نے پر جوش انداز میں کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا
اوورسیز کمیونٹی نے بڑی تعداد میں صدر ریاست کا خطاب سوشل میڈیا کے ذریعے لائیو سنا۔

