ہندوستانی حکومت کی جانب سے نازی طرز فکر اور ہندوتوا پالیسی کے تحت پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا تھا

ہندوستانی حکومت کی جانب سے نازی طرز فکر اور ہندوتوا پالیسی کے تحت پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا تھا، لیکن آپریشن ”بنیان مرصوص” کے ذریعے پاکستان نے واضح پیغام دیا کہ اس کی مسلح افواج ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں اور سفارتی سطح پر کامیاب خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان دنیا بھرمیں ایک ذمے دار ریاست کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان Integrated Force کے بجائے Integrated Technology پر یقین رکھتا ہے تاکہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار ایگزیکٹو ڈائریکٹر سینٹر فار پیس اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز ڈاکٹر اسمہ شاکر خواجہ نے CISS-AJK کے زیر اہتمام, نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز NIMA پاکستان کے اشتراک سے یومِ تکبیر کے موقع پر The Indo-Pacific Strategy and the Nuclearization of Indian Ocean: Strategies Implementation” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تین روزہ ورکشاپ 26 تا 28 مئی جاری رہی جس میں ماہرین تعلیم، فیکلٹی ممبران، اسکالرز اور طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ سیمینار سے ڈاکٹر بابر بلال حیدر وائس پریزیڈنٹ NIMA، کموڈور (ر) راحیل مسعود سینیئر ریسرچ فیلو NIMA، کمانڈر (ر) انیس ایم خان سینیئر ریسرچ ایسوسی ایٹNIMA، ڈاکٹر فصیحہ صفدر NIMA, ڈاکٹر روبینہ وسیم اسسٹنٹ پروفیسر NUST، سینٹر فار پیس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز ازاد کشمیر سے زوہیب الطاف ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر،شہزاد اکرم ریسرچ افیسر نے بریفنگ دی۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر بابر بلال حیدر، نائب صدر NIMA، نے بھارت کی بدلتی ہوئی بحری حکمت عملی پر تنقیدی نگاہ ڈالی اور وضاحت کی کہ یہ بحرِ ہند کے سیکیورٹی ڈھانچے کو کس طرح تبدیل کر رہی ہے۔ کموڈور (ر) راحیل مسعود نے اس پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے سمندری جوہری منطق اور خطرات پر اظہارِ خیال کیا۔ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر CISS AJK، زوہیب الطاف نے میدانِ جنگ میں ابھرتی ٹیکنالوجی کے کردار پر بات کی، اور حالیہ پہلگام حملے کو بطور کیس اسٹڈی پیش کیا، جو بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں رونما ہوا۔ سیمینار میں اسٹریٹجک مقابلے کے اکثر نظرانداز کیے جانے والے پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی، جن میں سمندری جوہری سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات اور انڈو-پیسیفک میں ابھرتی ہوئی بڑی طاقتوں کی کشمکش شامل ہے۔مقررین نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ صبر، تحمل اور حکمت سے دشمن کے مکروہ عزائم کا جواب دیا ہے۔ پاکستان کسی بھی جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر لمحہ تیار ہے۔بدلتے ہوئے تنازعات اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو سمجھنا اب صرف سفارتکاروں کی ذمہ داری نہیں رہی بلکہ یہ طلبہ، محققین، اور سول سوسائٹی کا بھی فرض بن چکا ہے۔

Share This Post

More To Explore