سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ خضدار بس حملہ نے پشاور میں سکول پر حملے کی یاد تازہ کردی،معصوم بچوں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے

سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ خضدار بس حملہ نے پشاور میں سکول پر حملے کی یاد تازہ کردی،معصوم بچوں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے، فیلڈ مارشل کا اعزاز قوم کی جانب سے سپہ سالار کی بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کرنے پر تحفہ ہے خود ساختہ نہیں۔ہندوستان پاکستان میں دہشتگردی کے مکروہ واقعات میں ملوث ہے، یہاں کے شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کروارہا ہے گزشتہ روز سندھ میں نظامانی صاحب کا قتل کروایا گیا، پاکستان سے شکست کے بعد ہندوستان بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قانون ساز اسمبلی میں قراردادوں پر اظہار خیال کرتے ہوے کیا۔ راجہ محمدفاروق حیدرخان نے کہاکہ ہندوستان کی فوج بی جے پی کے انتہا پسندوں کا مرکز ہے، گاے کا بچھڑا بھی اس کا دودھ پیتا ہے پیشاب نہیں پیتا۔ہندوستان کا وزیراعظم متعصب ہندو ہے، ہندوستان کے ساتھ جنگ میں اس وقت کے جنرل عاصم منیر اور آج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں شاندار کامیابی حاصل کی،جبری طور پر دنیا بھر میں مقیم پروفیشنلز، طلبا کی شہریت منسوخ کرنا مسلمہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پروفیسر نتاشہ کول کو پاکستانی شہریت دی جاے۔انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کے سربراہ ظہیر الدین بابر سدھو کو توسیع ملنے پر بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ پوری قوم کی خواہش تھی۔پاک بحریہ بھی مستعد رہی، ہندوستان کا بحری بیڑہ قریب نہیں آیا اگر آتا تو اس کا بھی بندوبست کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہاکہ دشمن کو اس کی توقع سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا،ہندوستان اس کے اعداد و شمار نہیں پیش کرسکتا،صرف مقبوضہ کشمیر میں 3 جہاز گرے دو ہندوستانی حدود میں بھی تباہ ہوے جو پہلا رافیل گرا وہ وہی تھا جس پر ہندوستان کے وزیر دفاع نے مرچیں اور لیموں لگایا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اس جنگ نے حکمت عملی ہی تبدیل کردی ہے۔آپریشن بنیان المرصوص مربوط حکمت عملی کے تحت کیا گیا۔ہندوستان کو حربی اور سفارتی محاذ پر شکست ہزیمت اٹھانا پڑی۔ہندوستان کی فوج میں انتہا پسند ہیں جنہوں نے مساجد کو نشانہ بنایا، پاکستان نے کسی بھی مذہبی مقام کو نشانہ نہیں بنایا۔انہوں نے کہاکہ انڈین میڈیا دہلی کے پاس سے بیٹھ کر پاکستان پر قبضہ کے دعوے کررہا تھا یہ ان کہ سوچ کی عکاسی ہے۔پہلگام واقعہ انٹیلی جنس ناکامی نہیں یہ ڈرامہ سارا خود ہندوستان نے کیا ہے۔دنیا کے اندر یہ تاثر تھا کہ روایتی جنگ میں پاکستان مقابلہ نہیں کرسکتا۔ لیکن اللہ کے فضل سے پاکستان نے ثابت کیا کہ کنونشنل وار میں ہم کسی سے کم نہیں، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ پوری قوم نے جنرل عاصم منیر کو یہ اعزاز دیا ہے۔ائیرمارشل ظہیر الدین بابر کو توسیع ملنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آرمڈ کنفلکٹ اور سفارت کاری میں پاکستان نے فتح حاصل کی پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا سواے اسرائیل کے کسی نے بھی ہندوستان کا ساتھ نہیں دیا۔انہوں نے کہاکہ انشاء اللہ 10 مئی کو یوم فتح ہر سال منائیں گے۔خرابی میں بھی ایک تعمیر کی صورت ہوتی ہے ہمیں یقین ہے اب کشمیر کا معاملہ آگے بڑھے گا۔ سندھ طاس معاہدے کے تینوں دریا کشمیر سے نکلتے ہیں۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ وسیع البنیاد مذاکرات ہوں جن سے پہلے ہندوستان انتہا پسندانہ توسیع پسندانہ سوچ ترک کرے اور علاقے کی چوکیداری اور کھڑپینچی کا خیال دل سے نکالے۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کی بات ہندوستان کرتا ہے تو جعفرآباد ایکسپریس، سمجھوتہ ایکسپریس کی بات بھی اب ہوگی آج کو معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا اس پر بھی بات ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ 1965 میں ہندوستان مشرقی پاکستان میں کوئی کاروائی نہیں کرسکا لیکن اس کے بعد اس نے سازش کے تحت وہاں حالات خراب کیے، ہمیں اردگرد نظر رکھنا ہوگی،1971 میں کل 73 ہزار لوگ تھے جن میں 36 ہزار فوجی 28 ہزار سویلین تھے, ہندوستان اپنے زخم چاٹ رہا ہے،ہندوستان یہ زخم بھولے گا نہیں۔ شہدا کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان نے بیرون ممالک میں جو وفد بھیجا نہایت بہترین کاوش ہے۔انہوں نے کہاکہ50 سال سے زائد عرصہ وہاں گزارنے کے بعد خواتین کو واپس بھیجنا کس قدر انسانیت سوز ظلم ہے،لوگوں کے گھروں کو ڈائنامائٹ لگا کر اڑایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان سے بات چیت شروع کرنے سے پہلے آزادکشمیر کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا ہوگا، کشمیری اس مسلے کے بنیادی فریق ہیں۔

Share This Post

More To Explore