ترجمان محکمہ زراعت کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری زراعت (وقت) کی جانب سے کسی بھی جونئیر آفیسر کو بالا اسامی کا چارج تفویض نہیں کیا گیا بلکہ محکمہ زراعت میں ناظمین زراعت ( تحقیق، توسیع، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر) کی ریٹائرمنٹ کے باعث خالی ہونے والی اسامیوں کا چارج کام چلاؤ کی خاطر نظامت اعلی زراعت کے سینئر موسٹ آفیسران جو کہ ان اسامیوں پر ترقیابی کے اہل تھےکو تفویض کیا گیا تاکہ محکمانہ امور متاثر نہ ہوں۔ سیکرٹریٹ زراعت کی جانب سے بھی انہی آفیسران کی بطور ناظمین زراعت باقاعدہ ترقیابی کیلیے قرطاس کار محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کو ارسال کئے گئے۔ اس حوالہ سے جملہ پراسس بمطابق قواعد عمل میں لایا گیا ہے۔ اس حوالہ سے میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ کسی آسامی کا چارج جونیئر آفیسر کو دیا گیا ہے۔ ترقیابیاں اور اضافی چارج تحت قواعد ہی عمل میں لائی جاتی ہیں۔ قواعد کے مغائر کسی بھی آفیسر کی نہ تو کوئی ترقیابی عمل میں لائی گئی ہے اور نہ ہی اضافی چارج دیا گیا ہے۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
