وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں میں دہشتگردوں کے ایک نیٹ ورک کو پکڑا ہے

وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں میں دہشتگردوں کے ایک نیٹ ورک کو پکڑا ہے ، اس دہشتگرد نیٹ ورک کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں ، اس نیٹ ورک کی پشت پناہی میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں کا کردار واضح نظر آرہا ہے ، آزاد کشمیر میں بیرون ممالک یورپ ، گلف ریاستوں اور امریکہ سے فیک اکاونٹس کے ذریعے نفرت انگیز پروپیگنڈہ تقسیم درتقسیم کو بڑھانے کے لیے کیا جارہا ہے ، ان اکاؤنٹس کی سپانسرشپس کون کررہا ہے ؟ ہمیں معلوم ہے اس سوشل میڈیا مہم کے پیچھے ہندوستان ہے ، ایک وقت ایسا تھا کہ ہم پڑوسی ملک کی اصطلاح استعمال کرتے تھے میں نے یہ اصطلاح ایک دن بھی استعمال نہیں کی ، میں نے ہندوستان کا نام لیا تو راج ناتھ سنگھ نے میرا نام لیا ، اگر ہم دشمن کا نام لینے کے لیے بھی ڈپلومیٹک اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو پھر مجھے مؤقف میں کمزوری نظر آتی ہے، ہندوستان ہمارا ازلی دشمن ہے اور پھر اس ہندوتوا کے فلسفہ پر موجودہ ہندوستانی حکومت نے تو 32کروڑ کے لگ بھگ مسلم اقلیت کو ریاستی اپنی دہشتگردی کا نشانہ بنایا ہوا ہے ، اسرائیل کی فلسطین میں ڈاکٹرائن اور مودی کی ہندوستان میں ڈاکٹرائن کو دیکھ لیں ؟ مہذب دنیا اس لیے خاموش ہے کہ دنیا کے معاشی مفادات ہیں، اگر مہذب دنیا خاموش ہے تو مسئلہ مہذب دنیا کا نہیں ہے؟ مسئلہ میرا ہے ، میں نے انگلی کٹوا کر شہادت حاصل نہیں کرنی ، میں نے گردن کٹوا کر شہادت حاصل کرنی ہے ، آزادکشمیر میں کچھ دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں جن پر ہم کام کررہے ہیں اور اس حوالے سے ہمیں بروقت احساس بھی ہو گیا تھا ، ہم نے انسداد دہشتگردی پر کام شروع کیا ہے ، اب اس جنگ کا آغاز ہواہے ، اس جنگ کو ذہنی اور فکری طور پر ہم نے لڑنا ہے ، اس ( انسداد دہشتگردی) کے لیے ہمیں قربانیاں دینا پڑیں گی اور یہی اس کی ایک قیمت ہے ۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے Dawn Newsکے پروگرام “خبر سے خبر” میں میزبان افتخار شیرازی سے گفتگو کے دوران کیا ۔وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا کہ میری پولیس کمیونیٹی پولیسنگ کے لیے ہے کیونکہ اس لیول کے دہشتگردی کے تھریٹس اس سے قبل آزادکشمیر میں نہیں تھے ، اب جو بین الاقوامی دنیا میں ایک نیا گٹھ جوڑ بن رہا ہے جیسا کہ چین اور امریکہ کے بلاکس ، وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ان اتحادوں کی مختلف “ڈائمنشنز” ہیں ، ان سب چیزوں کو آپ نے سمجھنا ہے ، اس سارے منظرنامے کو زہن میں رکھتے ہوئے آپ کو فوری ہنگامی اقدامات اٹھانے ہیں ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط کرنا ہے ، انٹیلیجنس کے نظام کو مربوط بنانا ہے ، سیاسی ہم آہنگی کو ہر ممکن حد تک فروغ دینا ہے، اگر سب مل جل کر اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کی کوشش کریں گے تو یقینی طور پر کامیابی مل سکتی ہے ، ہمارا پولیسنگ کا نظام دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے تیار ہی نہیں کیا گیا ، اب اس جانب توجہ مبذول کی گئی ہے اگر چہ وقت کم ہے لیکن ہمیں 24 گھنٹے کام کر کے ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے ، میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اس قومی بیانیے کی ایک پرائس ہے وہ قیمت ہمیں بطور قوم بھی ، بطور حکومت بھی اور مجھے بطور حکمران بھی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے ، اگر آپ مشکلات کے تصورات سے فرار حاصل کریں گے تو پھر کیا دشمن آپ کو معافی دے گا ؟ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ آپ نے خود فرمایا کہ بلوچستان سے لے کر خیبر پختونخوا تک اور ساتھ آزاد کشمیر کو بھی کشت وخون کا میدان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ؟ مسلمان کے جذبہ ایمانی کی بنیاد فقط ایک جملے پر ہے کہ “ طاقت کا منبع “ اللہ کی ذات ہے ، میری جان مالک الملک اللہ تعالی کے قبضہ قدرت میں ہے اور اگر یہ جملہ درست ہے تو پھر باقی دنیا سے کیا ڈرنا ہے ؟انتہائی نامساعد حالات میں جب ہر طرف کانٹے ہی کانٹے ہیں ، جب پاؤں کے تلوؤں سے لے کر سر کے بالوں تک ہر عضو لہو لہان ہے لیکن آزاد کشمیر کا جو انفراسٹرکچر ہے اور ڈویلپمنٹ کا جو پورٹ فولیو ہے اس کی رفتار پہلے سے دوگنی کر دی گئی ہے ، وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ یہی وہ اصل کام ہے جو میں نے کیا ہے ، 3 روپے فی یونٹ بجلی اور 2000 روپے من آٹا دینے کے بعد 71 ارب کا خسارہ برداشت کررہے ہیں ، گزشتہ مالی سال میں تو وفاقی حکومت نے میری مدد کر دی لیکن اس سال تیسرے کوارٹر کے خاتمہ تک ایک پیسا وفاقی حکومت سے نہیں لیا ہے ، انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری کا مظاہرہ کیا گیا ، اپنے ریکرننگ بجٹ سے اپنے نان دویلپمنٹ بجٹ کو کنٹرول کیا ، اس وجہ سے بہت سارے دوستوں کی چیخیں نکل گئیں ، مثال کے طور پر وزیراعظم ہاؤس کے نصف سے زیادہ بجٹ کو سرنڈر کیا ، اس کی مثال وفاق یا صوبوں میں کہیں اور نہیں ملے گی ، میرے پاس کوئی صوابدیدی سٹاف موجود نہیں ہے ، کوئی نئی گاڑی نہیں خریدی گئی ، 400کے قریب گاڑیاں نیلام کردی گئیں ، میں اکاؤنٹنٹ جنرل سے اس طرح حساب کتاب کرتا ہوں جس طرح گھر کی بیگم اپنے بجٹ کو دیکھتی ہے کہ 15 دن گزر گے اب کیا کرنا ہے ؟ ہر ہفتے کے حساب سے میں نے یہ فائنانشل ڈسپلن نافذ کر کے رکھا ہوا ہے ، تمام تر سیاسی ناہمواریوں کے باوجود، مافیاز کے ٹکراؤ کے باوجود ، بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کی تمام تر مکاریوں کے باجود ، اور پھر اس غیر فطری اتحاد کی وجہ سے بھی جس میں ہم سب نے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑے ہوئے ہیں ان تمام تر نامساعد حالات کے باوجود اللہ تعالیٰ کے کرم کے صدقے اس نظام اور اس کی فعالیت کو ایک دن کے لیے بھی کمزور نہیں پڑنے دیا ۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ دشمن کو آپ اپنی مرضی اور پلاننگ کے ساتھ نشانہ بناتے ہیں ، ردعمل کے طور پر اگر آپ دشمن کو نشانہ بنائیں تو نقصان ہوتا ہے ، آپ کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری بھی کرنا ہوتی ہے ، اپنی معاشی صورتحال کو بھی دیکھنا پڑتا ہے ، کئی بار میڈیا کے کہنے سے “ہٹ” نہیں ہوتا ، جب “ہٹ” ہوتا ہے تو دشمن کی چیخیں بتاتی ہیں کہ “ہٹ” ہوا ہے ، اعلانات کی ضرورت نہیں ہوتی ، انہون نے کہا کہ انشاء اللہ آپ دیکھیں گے کہ کچھ عرصے بعد جب بھارت کی مقبوضہ کشمیر سے لے کر لال قلعے تک چیخیں سنائی دیں گی تو پھر آپ کو میرے ان جملوں کی حقانیت ثابت ہوتی نظر آئے گی ۔

Share This Post

More To Explore