کشمیر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کے زیر اہتمام حکومت آزادکشمیر اور پاک فوج کے اشتراک سے جاری ”یوتھ اینڈ میڈیا ورکشاپ” کے دوسرے روز ڈاکٹر طارق محمود بٹ، ڈائریکٹر ایڈمن کشمیر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ نے کشمیر کی جغرافیائی اور تاریخی اہمیت اور ڈاکٹر مبشر نقوی، پبلک ریلیشن آفیسر جامعہ کشمیر نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پر حاضرین سے خطاب کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر طارق محمود بٹ نے اپنے خطاب میں کشمیر کی جیو پولیٹیکل اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

کشمیر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کے زیر اہتمام حکومت آزادکشمیر اور پاک فوج کے اشتراک سے جاری ”یوتھ اینڈ میڈیا ورکشاپ” کے دوسرے روز ڈاکٹر طارق محمود بٹ، ڈائریکٹر ایڈمن کشمیر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ نے کشمیر کی جغرافیائی اور تاریخی اہمیت اور ڈاکٹر مبشر نقوی، پبلک ریلیشن آفیسر جامعہ کشمیر نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پر حاضرین سے خطاب کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر طارق محمود بٹ نے اپنے خطاب میں کشمیر کی جیو پولیٹیکل اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر مشرق، جنوب، اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم مقام پر واقع ہے، جو اسے ایک منفرد جغرافیائی حیثیت عطا کرتا ہے۔انہوں نے تاریخی تناظر میں بتایا کہ کس طرح کشمیری عوام ڈوگرہ دور میں ظلم و ستم کا شکار رہے۔”ہمارے آباؤ اجداد کو پونے سات روپے میں بیچا گیا، اور کشمیریوں کو 78 قسم کے ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یہاں تک کہ انہیں چنار کے گرے ہوئے پتوں کو جمع کرنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔”ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کی دھرتی ہمیشہ سے صوفیاء کی سرزمین رہی ہے۔ حضرت سید علی ہمدانی، حضرت حمزہ مخدوم، اور حضرت سید جانباز ولی جیسی شخصیات نے یہاں اسلام کا پیغام پہنچایا اور ریاست کے روحانی ورثے کو مستحکم کیا، کشمیر کے ثقافتی اور مذہبی ورثے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیر کو اپنے آئین میں اٹوٹ انگ قرار دے کر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ہمیشہ نظرانداز کیا اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینے سے گریز کیا۔ ورکشاپ کے دوسرے سیشن میں ڈاکٹر مبشر نقوی نے موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے مؤثر اور مثبت استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی 62 فیصد آبادی سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے،کوئی بھی چیز ہمیشہ کے لیے مستقل نہیں ہوتی کووڈ-19 کے دوران، ہم نے اپنی تعلیم کو آن لائن میڈیا پر منتقل کیا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق ڈھل سکتی ہے،سوشل دور حاضر میں میڈیا کو سماجی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ معلومات شیئر کرنے سے پہلے ہمیشہ مواد کی تصدیق کریں اور مستند ویب سائٹس سے حقائق کو چیک کریں۔ ڈاکٹر مبشر نقوی نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کا مؤثر استعمال ہمیں مثبت سماجی تبدیلی لانے میں مدد دے سکتا ہے،انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی آڈیئنس کے مطابق مواد تیار کریں اور ہمیشہ معلومات کو مستند ذرائع سے تصدیق کرنے کی عادت اپنائیں۔مواصلات کے ذرائع روایتی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ تاہم، سوشل میڈیا کی صداقت ہمیشہ یقینی نہیں ہوتی، اس لیے معلومات شیئر کرنے سے پہلے ان کی تصدیق ضروری ہے۔ورکشاپ کے اختتام پر مقررین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

Share This Post

More To Explore