صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ ریاست کے تین بنیادی ستون ہیں جو ریاست کے اندر Principle of Trichotomy of Powersکے تحت Mutual Check and Balance رکھتے ہیں اور ہر تین ادارہ جات کو اپنی حدود سے تجاوز کرنے سے روکتے ہیں اور یہی جدید جمہوری و فلاحی ملک کی بنیاد ہے۔ جب بھی ان ادارہ جات نے کسی بھی وجہ سے اپنی حدود سے تجاوز کیا تو ریاست میں انارکی اور طوائف الملوکی پھیلی۔ فلاحی ریاست میں عدلیہ کا کام یہ ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے خاص کر جب ان حقوق کو مقننہ اور انتظامیہ کے اقدامات سے متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔ بلکہ پہلے مرحلے پر مقننہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے قانون سازی کے فرائض سرانجام دے اور عدلیہ ایک دوسرے مرحلے پر انفرادی طور پر ان حقوق کے تحفظ فریضہ سرانجام دے۔ ہم ریاست میں آئین، قانون اور انصاف کی بالادستی کے لیے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے تاکہ عام آدمی تک اس کا ثمر پہنچ سکے۔ ان خیالات کا اظہار صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے آج یہاں مظفرآباد میں چیف جسٹس ہائی کورٹ صداقت حسین راجہ کی جانب سے منعقد کی گئی بارہویں جوڈیشل کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر باہویں جوڈیشنل کانفرنس سے چیف جسٹس ہائی کورٹ آزاد کشمیر صداقت حسین راجہ نے کی۔ اس جوڈیشل کانفرنس سے چیف جسٹس ہائی کورٹ آزاد کشمیر صداقت حسین راجہ سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر جسٹس سردار لیاقت شاہین، جسٹس میاں عارف حسن، جسٹس شاہد بہار، جسٹس سردار اعجاز خان، جسٹس چوہدری خالد رشید و دیگر بھی موجود تھے۔ صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ آزادجموں وکشمیر عدلیہ کی تاریخ شاندار فیصلوں سے مزین ہے۔ آزادجموں وکشمیر عدلیہ نے ہر دور میں عوامی مفاد کے تحت اور قانون کے بنیادی اُصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کیے ہیں۔ بلکہ آزادجموں وکشمیر کی عدلیہ کے ججز صاحبان کے کردار کے ریاست پاکستان کے وکلاء اور ججز شائد ہیں۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم یہ شاندار تاریخ قائم رکھیں موجودہ اور آنے والے ججز صاحبان اس عظیم ورثہ کو سنبھالیں اور اس کو قائم رکھیں۔ قانون کی حکمرانی (Rule of Law)کسی بھی جدید جمہوری معاشرے کا بنیادی وصف ہے۔ اس ضمن میں بھی عدلیہ کا بنیادی کردار ہے۔ صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے کہا کہ جدید تقاضوں کے پیش نظر تمام جوڈیشل ریکارڈ اور کارروائی کی Automationایک بنیادی ضرورت ہے جس کی بناء پر غیر ضروری تاریخ گردانی، گواہوں کی بار بار حاضری اور تاریخ پر تاریخ جیسے اُمور کا سد باب ہو گا اور مقدمات کی Fixationمیرٹ پر ہو گی اور بلا جواز تاخیر سے اجتناب ممکن ہو سکتا ہے۔ میری اطلاع کے مطابق جناب چیف جسٹس عدالت العالیہ جسٹس صداقت حسین راجہ نے پہلے سے ہی اس ضمن میں کارروائی شروع کر رکھی ہے اور بہت جلد ہم یہ امید کرتے ہیں کہ آزادجموں وکشمیر کی عدلیہ اس ضمن میں جملہ صوبہ جات پاکستان کی عدلیہ سے سبقت لے جائے گی۔ انصاف کی فراہمی کے لئے وکلاء کے ریفریشر کورسز کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ جدید دنیا کی Jurisprudenceسے واقف ہوں اور جدید ٹیکنالوجی میں بھی مہارت حاصل کریں تاکہ وہ عدالتی کارروائی کی جدت سے ہم آہنگ ہوں اور انصاف کی فراہمی میں عدلیہ کی بھرپور معاونت کر سکیں۔ صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے اس بات زور دیا کہ Prosecution Service بالخصوص فوجداری Prosecutionکو بھی جدید طریقے سے بنایا جانا ضروری ہے تاکہ عدالتی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ آخر میں، میں چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر عدالت العالیہ صداقت حسین راجہ اور اُن کی جملہ ٹیم کومطلوبہ اہداف حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ریاست میں سالانہ بنیاد پر جوڈیشل کانفرنس کا انعقاد کرانے پر داد تحسین کا مستحق سمجھتا ہوں۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
