آزادجموں وکشمیر عدالت العالیہ کے زیر اہتمام “فراہمی انصاف: جدید نقاضے اور مشکلات”کے عنوان سے 12ویں جوڈیشل کانفرنس پیر کے روز منعقد ہوئی۔

آزادجموں وکشمیر عدالت العالیہ کے زیر اہتمام “فراہمی انصاف: جدید نقاضے اور مشکلات”کے عنوان سے 12ویں جوڈیشل کانفرنس پیر کے روز منعقد ہوئی۔ جوڈیشل کانفرنس سے صدر آزادجموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، چیف جسٹس عدالت العالیہ جسٹس صداقت حسین راجہ، جج عدالت العالیہ جسٹس میاں عارف حسین نے خطاب کیا جبکہ ایڈووکیٹ جنرل شیخ مسعود اقبال،سیکرٹری قانون وحید الحسن شاہد،وائس چیئرمین بارکونسل سید اشفاق حسین کاظمی،صدر سپریم کورٹ بار جاوید نجم الثاقب، صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن خالد بشیر مغل اور رجسٹرار ہائی کورٹ چوہدری محمد فیاض ویلکم نوٹ پیش کیا اور شرکائ کو جوڈیشل کانفرنس اآمد پر خوش آمدید کہا ۔ جوڈیشل کانفرنس میں سینئر جج عدالت العالیہ جسٹس سردار لیاقت حسین، ججز عدالت العالیہ جسٹس سید شاہد بہار، جسٹس محمد اعجازخان، جسٹس چوہدری خالدرشید سمیت سیکرٹری صاحبان آزادکشمیر حکومت، ڈسٹرکٹ وسیشن ججز، ضلع قاضی صاحبان ، صدور،جنرل سیکرٹری وممبران بار کونسل، سپریم کورٹ بار،ہائی کورٹ بار،سینٹرل بار،ڈسٹرکٹ وتحصیل بار ایسوسی ایشنز سمیت آزادکشمیر بھر سے وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔جوڈیشل کانفرنس میں گزشتہ چار سالہ کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل رجسٹرارریاض شفیع نے بتایا کہ یکم جنوری2020کو عدالت العالیہ میں کل 9237مقدمات زیر کار تھے۔ سال 2020تا2024کے دوران 46349نئے مقدمات دائر ہوئے۔ اس طرح سال 2020تا 2024کے دوران عدالت العالیہ آزادجموں وکشمیر میں زیر کار مقدمات کی کل تعداد 55586بنتی ہے جن میں سے اس عرصہ کے دوران 38560مقدمات یکسو کیے گے اور سال 2024کے اختتام پر عدالت العالیہ ہیڈ کوارٹر وجملہ سرکٹ ہاء میں 17026مقدمات زیر سماعت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی طرح جملہ ضلعی عدالت ہاء آزادجموں وکشمیر میں یکم جنوری 2020کو 41215 مقدمات زیر کار تھے۔ سال 2020تا2024کے دوران 278808مقدمات دائر ہوئے۔ اس طر ح سال 2020تا2024کے دوران جملہ ضلعی عدالت ہاء آزادجموں وکشمیر میں زیر کار مقدمات کی تعداد 320023بنتی ہے جن میں سے متذکرہ عرصہ کے دوران 276171مقدمات یکسو کیے گئے اور سال 2024کے اختتام پر جملہ ضلعی عدالت ہا آزادجموں وکشمیر میں 43852مقدمات زیر سماعت ہیں۔

صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ ریاست کے تین بنیادی ستون ہیں جو ریاست کے اندر Principle of Trichotomy of Powersکے تحت Mutual Check and Balance رکھتے ہیں اور ہر تین ادارہ جات کو اپنی حدود سے تجاوز کرنے سے روکتے ہیں اور یہی جدید جمہوری و فلاحی ملک کی بنیاد ہے۔ جب بھی ان ادارہ جات نے کسی بھی وجہ سے اپنی حدود سے تجاوز کیا تو ریاست میں انارکی اور طوائف الملوکی پھیلی۔ فلاحی ریاست میں عدلیہ کا کام یہ ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے خاص کر جب ان حقوق کو مقننہ اور انتظامیہ کے اقدامات سے متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔ بلکہ پہلے مرحلے پر مقننہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے قانون سازی کے فرائض سرانجام دے اور عدلیہ ایک دوسرے مرحلے پر انفرادی طور پر ان حقوق کے تحفظ فریضہ سرانجام دے۔انہوں نے کہا کہ ہم ریاست میں آئین، قانون اور انصاف کی بالادستی کے لیے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے تاکہ عام آدمی تک اس کا ثمر پہنچ سکے۔ صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے کہا کہ آزادجموں وکشمیر عدلیہ کی تاریخ شاندار فیصلوں سے مزین ہے۔ آزادجموں وکشمیر عدلیہ نے ہر دور میں عوامی مفاد کے تحت اور قانون کے بنیادی اُصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کیے ہیں۔ بلکہ آزادجموں وکشمیر کی عدلیہ کے ججز صاحبان کے کردار کے ریاست پاکستان کے وکلاء اور ججز شائد ہیں۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم یہ شاندار تاریخ قائم رکھیں موجودہ اور آنے والے ججز صاحبان اس عظیم ورثہ کو سنبھالیں اور اس کو قائم رکھیں۔ قانون کی حکمرانی (Rule of Law)کسی بھی جدید جمہوری معاشرے کا بنیادی وصف ہے۔ اس ضمن میں بھی عدلیہ کا بنیادی کردار ہے۔ صدر نے کہا کہ جدید تقاضوں کے پیش نظر تمام جوڈیشل ریکارڈ اور کارروائی کی Automationایک بنیادی ضرورت ہے جس کی بناء پر غیر ضروری تاریخ گردانی، گواہوں کی بار بار حاضری اور تاریخ پر تاریخ جیسے اُمور کا سد باب ہو گا اور مقدمات کی Fixationمیرٹ پر ہو گی اور بلا جواز تاخیر سے اجتناب ممکن ہو سکتا ہے۔ میری اطلاع کے مطابق چیف جسٹس عدالت العالیہ جسٹس صداقت حسین راجہ نے پہلے سے ہی اس ضمن میں کارروائی شروع کر رکھی ہے اور بہت جلد ہم یہ امید کرتے ہیں کہ آزادجموں وکشمیر کی عدلیہ اس ضمن میں جملہ صوبہ جات پاکستان کی عدلیہ سے سبقت لے جائے گی۔ انصاف کی فراہمی کے لئے وکلاء کے ریفریشر کورسز کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ جدید دنیا کی Jurisprudenceسے واقف ہوں اور جدید ٹیکنالوجی میں بھی مہارت حاصل کریں تاکہ وہ عدالتی کارروائی کی جدت سے ہم آہنگ ہوں اور انصاف کی فراہمی میں عدلیہ کی بھرپور معاونت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ Prosecution Service بالخصوص فوجداری Prosecutionکو بھی جدید طریقے سے بنایا جانا ضروری ہے تاکہ عدالتی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔میں چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر عدالت العالیہ جسٹس صداقت حسین راجہ اور اُن کی جملہ ٹیم کومطلوبہ اہداف حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ریاست میں سالانہ بنیاد پر جوڈیشل کانفرنس کا انعقاد کرانے پر داد تحسین کا مستحق سمجھتا ہوں۔

Share This Post

More To Explore