کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام کشمیر وویمن الرٹ فورم کے تعاون سے “مسئلہ کشمیر اوراقوام متحدہ کا کردار” کے موضوع پر خواتین کیلئے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام کشمیر وویمن الرٹ فورم کے تعاون سے “مسئلہ کشمیر اوراقوام متحدہ کا کردار” کے موضوع پر خواتین کیلئے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل پرویز ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی ذمہ داری اور فرض ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی آواز بنیں کیونکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی آواز کو بھارت نے بندوق کے زور پر دبا رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت 10 لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے بھارت نے اس فوج کے ذریعے کشمیریوں کے تمام حقوق غصب کر رکھے ہیں۔ اس وقت حریت قائدین سمیت 5 ہزار کشمیری بھارت کی مختلف جیلوں میں قید ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں ان گرفتار کشمیریوں کا قصور یہ ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں۔ بھارت نے اسرائیل طرز پر مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں اس میں وہ کامیاب نہیں ہو گاکشمیریوں نے متحد و منظم ہو کر بھارت کے تمام تر حربوں کو ناکام بنانا ہے بھارت کشمیریوں کو نظریاتی اور فکری طور پر تقسیم کرنے کی سازش کر رہا ہے ہم نے بھارت کے اس ہتھکنڈے کو بھی ناکام بنانا ہے۔کسی بھی حوالے سے کشمیریوں کا تقسیم ہونا بھارت کے مفاد میں ہے۔ پاکستان پوری دنیا میں واحد ملک ہے جو کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کر رہا ہے۔پاکستان کا موقف ہی کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی جاری جدجہد آزادی کا واحد وکیل ہے۔آزاد کشمیر کے عوام کل جماعتی حریت کانفرنس کی کال پر آج یوم حق خودارادیت کی ریلی میں بھرپور شرکت کریں اور بھارت سمیت دنیا کو بتائیں کہ حق خودارادیت کے مطالبے پر ساری کشمیری قوم یک جان ہے۔بھارت تحریک آزادی کشمیر کو کمزور کرنے کے لئے تمام تر ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔کشمیریوں نے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کر کے ان ہتھکنڈوں کو ناکام بناناہے۔ ورکشاپ سے کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر کے سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ، ڈائریکٹر کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان، کشمیر وویمن الرٹ فورم کی چیئرپرسن محترمہ سمیعہ ساجد، راضیہ اشرف ایڈووکیٹ، ذیشم ممتاز، آمنہ ظہور اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ ورکشاپ مین مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان نے کہا کہ کے پی آر آئی آزاد کشمیر کا پہلا تھینک ٹینک ہے جو مسئلہ کشمیر کے آئینی، سیاسی اور قانونی پہلوؤں پر ریسرچ ورک کر رہا ہے اور آزاد کشمیر کے اندر ریسرچ کلچر کے فروغ کے لئے کوشاں ہے۔ ادارہ کے زیراہتمام انٹرنیشنل جرنل آف کشمیر سٹیڈیز کے نام سے تصدیق شدہ ریسرچ جرنل بھی شائع کیا جا رہا ہے۔ادارہ سالانہ انٹرن شپ پروگرام کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر ورکشاپس، سیمینارز بھی منعقد کر رہا ہے۔ خواتین ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان نے مسئلہ کشمیر کے آئینی، سیاسی، تاریخی اور جغرافیائی پہلوؤں اور تنازعہ کے حل میں اقوام متحدہ کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے جس کی قانونی حیثیت ہے۔ جب تک یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں موجود ہے کوئی ملک اس مسئلے کو ختم نہیں کر سکتا۔ اقوام متحدہ نے کشمیر یوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کر رکھا ہے اور کوئی ملک کشمیریوں سے یہ حق چھین نہیں سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اس وقت کشمیر کو کھلی انسانی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ جدوجہد آزادی میں مصروف کشمیریوں کی آواز بھی قید ہے۔ ایسے حالات میں آزاد کشمیر کے عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز بنیں اور دنیا کو حقائق سے آگاہ کر کے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کریں۔ اس وقت ہم پر فرض ہے کہ ہم اس پار کے مجبور اور بے بس بھائیوں کی آواز بنیں اور خود کو مسئلہ کشمیر سے جوڑے رکھیں۔ حق خودارادیت کے مطالبے پر ساری کشمیری قوم متفق ہے۔ ہم نے اسی اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔کشمیری جس قدر متحد و منظم ہو ں گے اسی قدر ان کی منزل بھی قریب آئے گی۔بھارت اس وقت کشمیریوں کی فکر اور رائے کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہا ہے ہم نے ہندوستان کی اس خطرناک سازش کو پوری قوت کے ساتھ ناکام بنانا ہے۔۔5 اگست 2019کے بعد بھارت اسرائیل طرز پر کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ تمام تر حربوں کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکے گا نہ کشمیر ی اسے کامیاب ہونے دیں گے۔

Share This Post

More To Explore