وزیر اطلاعات آزادکشمیر پیر محمد مظہر سعید شاہ کی جانب سے متفقہ قرارداد پیش کی گئی” جنوری 1949 ء کو اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں پہلی مرتبہ کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کو تعلیم کیا۔

وزیر اطلاعات آزادکشمیر پیر محمد مظہر سعید شاہ کی جانب سے متفقہ قرارداد پیش کی گئی” جنوری 1949 ء کو اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں پہلی مرتبہ کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کو تعلیم کیا۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس 05 جنوری 1949ء کی اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اہل کشمیر کے حق خودارادیت کی تائید میں قراردادوں کو ایک تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے یہ ایوان عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ ان قرار دادوں پر عملدرآمد کروایا جائے تا کہ جنگ بندی لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں بستے والے کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق حق خود ارادیت دلایا جائے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کا پرامن حل ہی خطے میں امن و سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کا واحد حل ہے۔جناب سپیکران قرار دادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے کشمیری مسلسل بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین نافذ ہیں، لاکھوں سویلین لوگ شہید کیئے جاچکے ہیں، ارب ھا، ڈالر کے حساب سے کاروبار اور جائیدادیں تباہ ہو چکی ہیں۔ ہزاروں حریت پسند جیلوں میں ہیں اور مقبوضہ کشمیر کی اکثریتی قیادت جیلوں میں بند ہے۔ جعلی مقدمات اور نمائشی عدالتی کاررورائی کے ذریعے کشمیریوں کا بدترین استحصال کیا جا رہا ہے۔یہ اجلاس اس عزم کا اظہار کرتا ہے ہے کہ تمام تر منفی بھارتی ہتکھنڈوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود اہل کشمیر اپنی آزادی اور حق خودارادیت کے حصول کی جدو جہد جاری رکھیں گے۔یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ نے کشمیر کے نام کو بدلنے کی جو بات کی ہے، اس کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور ہندوستان کی فاشسٹ حکومت کو متنبہ کرتا ہے کہ ایسی حرکتوں سے باز رہے۔ یہ ایوان سمجھتا ہے کہ یہ کشمیریوں کی شناختپر حملہ ہے۔شاندار ماضی اورجناب سپیکرکشمیری کسی صورت بھی کشمیرکا نام تبدیل نہیں کرنے دیں گے۔ یہ ہمار کے تابناک مستقبل کی علامت ہے۔ آج کا یہ اجلاس جنگ بندی لائن کے دونوں اطراف پر بسنے والے کشمیریوں کو یقین دلاتا ہے کہ ہم اپنی شناخت کا بھی تحفظ کریں گے اور اپنی آزادی کی جد و جہد بھی جاری رکھیں گے۔جناب پیکر!آج کا یہ اجلاس APHC کے کنوینٹر جناب غلام محمد صفی اور حریت کا نفرنس کی دیگر قیادت کو یہ یقین دلاتا ہے کہ ہم سب ایک آواز ہو کر اقوام متحد ہ سے ان قراردادوں پر عملدرآمد کروائیں گے۔جناب پیکر اس موقع پر یہ ایوان امید کرتا ہے کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول اور آزادی کی منزل کو پانے کے لئے اپنا فعال کردارا ادا کرتا رہے گا۔ “جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔وزیرلوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی فیصل ممتاز راٹھور کی جانب سے پیش کردہ قرارداد”آج کا یہ اجلاس پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم پیپلز پارٹی کے بانی چیئر مین قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی یوم ولادت پر ان کے کارناموں جن میں ایٹمی پروگرام کا حصول، متفقہ آئین اور جمہوریت کا تحفہ ختم نبوت کا مناحل کرنے پر اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ قائد انقلاب محترمہ بے نظیر بھٹو کی دہشت گردی اور لاقانونیت کے خلاف قومی جنگ میں جام شہادت نوش کرنے پر معزز ایوان کی جانب سے متفقہ خراج عقیدت اور چیئر مین بلاول بھٹوزرداری کو بطور وزیر خارجہ اقوام متحدہ سے لیکر بھارتی شہر گو ہا میں مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف اختیار کرنے پر بھی تحسین پیش کرتا ہے۔ یہ معزز ایوان شہداء کشمیر شہداء فلسطین کی عظیم قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف سرحدوں کی محافظ شہدا ء افواج پاکستان کی طرف سے پیش کیئے جانے والے جانوں کے نذرانوں کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ان کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل آصف منیر سے تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔” قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کے اجلاس میں مشتر کہ قرارداد منجانب چوہدری قاسم مجید وزیر امور منگلا ڈیم منگلا ڈیم ہاؤسنگ اتھارٹی، راجہ فیصل ممتاز راٹھور وزیر لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی، سردار محمد جاوید وزیر فشریز، وائلڈ لائف و ترقیاتی ادارہ مظفر آباد و نثار انصرابدالی وزیر صحت عامہ نے مشترکہ قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سکیورٹی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے محکوم مظلوم عوام کو استصواب رائے کے ذریعے حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جو ہنوز پورا نہیں کیا جاسکا۔ 05 جنوری 1949ء کو ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام کو ان کا پیدائش حق، حق خوداریت دینے کا جو وعدہ کیا گیا تھا اس پر عمل درآمد کیلئے اہل کشمیر ریاست جموں و کشمیر کے دونوں اطراف پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت دنیا بھر میں یوم حق خوداریت منا کر عالمی برداری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، ریاستی دہشت گردی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبذول کروانے کے لئے بھر پور ملی یجہتی سے جلسے جلوس، ریلیاں نکال کر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور انکی قیادت کے دو غلے چہرے اور ہندوستان کی بنیاد پرست پالیسوں کو بے نقاب کرتی ہے۔لہذا، اس معزز ایوان کے اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ حریت کانفرنس کے رہنماؤں کی گرفتاریوں، یاسین ملک کے خلاف بدترین کارروائیوں کو رکوانے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کیلئے متفقہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لئے اہم قومی حساس نوعیت کے مسئلہ کو زیر بحث لایا جائے نیز پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی یوم ولادت پر ان کے کارناموں جن میں ایٹمی پروگرام کا حصول، متفقہ آئین اور جمہوریت کا تحفہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ قائد انقلاب محترمہ بے نظیر بھٹو کی دہشت گردی اور لاقانونیت کے خلاف قومی جنگ میں جام شہادت نوش کرنے پر معزز ایوان کی جانب سے متفقہ خراج عقیدت اور چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کو بطور وزیر خارجہ اقوام متحدہ سے لیکر بھارتی شہر گوہا میں مسئلہ کشمیر پر دو ٹوک موقف اختیار کرنے پر بھی تحسین پیش کرتا ہے۔ یہ معزز ایوان شہداء کشمیر شہداء فلسطین کی عظیم قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف سرحدوں کی محافظ شہداء افواج پاکستان کی طرف سے پیش کیئے جانے والے جانوں کے نذرانوں کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ان کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل آصف منیر سے تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے۔ قرار داد منجانب وزیر سماجی بہبو دو ترقی نسواں سید بازل علی نقوی نے قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس 05 جنوری 1949 کی اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اہل کشمیر کے حق خود ارادیت کی تائید میں قراردادوں کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے اس امر پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ پون صدی گزرنے کے باوجود بین الاقوامی برادری اپنی ان متفقہ قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی۔جس کے نتیجے میں اہل کشمیر مسلسل بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ مقبوضہ ریاست میں کالے قوانین نافذ ہیں، لاکھوں سویلین شہید ہو چکے ہیں، ارب ہا ڈالرز کے اثاثے کاروبار اور جائیدادیں تباہ کر دی گئی ہیں، ہزاروں حریت پسند جیلوں میں بند ہیں اور صف اول کے قائدین جناب شبیر احمد شاہ محمد یاسین ملک، مسرت عالم، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، ڈاکٹر قاسم فلو، امیر حمزہ، ایاز اکبر، ڈاکٹر حمید فیاض و دیگر ساتھیوں سمیت جیلوں میں بدترین تشدد جھیل رہے ہیں جعلی مقدمات اور نمائشی عدالتی کارروائی کے ذریعے عدالتی قتل کی تلوار جن کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ نامور صحافیوں اور خرم پرویز جیسے انسانی حقوق کے حوالے سے جدو جہد کرنے والے افراد پر دہشت گردی کے مقدمات چل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھارتی مظالم کا محض تذکرہ بھی فوجداری جرم بنا دیا گیا ہے۔ نیز ریاستی دھشت گردی سے بڑھ کر آئینی دھشت گردی کا ارتکاب کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ریاست کی وحدت اور تشخص کو پامال کر دیا گیا ہے۔یہ اجلاس اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ تمام بھارتی منفی ہتھکنڈوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود اہل کشمیر حق خودارادیت کے حصول کے لئے اپنی جد و جہد جاری رکھیں گے۔ البتہ اس موقع پر اجلاس اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو متوجہ کرتا ہے کہ اس سنگین مسئلہ کے حل کے لئے بھارتی ریاستی دھشت گردی کے خاتمہ کے لئے بھارت پر موثر سفارتی دباؤ کا اہتمام کیا جائے۔ بے گناہ شہریوں کے قتل عام پر بھارتی اہلکاروں کو عالمی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے انہیں نشان عبرت بنایا جائے۔ کالے قوانین ختم کئے جائیں۔ ریاست کی وحدت اور تشخص کی بحالی کو یقنی بنایا جائے۔ تمام قائدین اور کارکنان کو رہا کیا جائے۔ کشمیر کے حوالے سے خصوصی نمائندہ کا تقرر کیا جائے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کرتے ہوئے کمیشن کے چیئر مین، او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کے چیئر مین اور دیگر انسانی حقوق کے عہدیداران کو مقبوضہ ریاست کا دورہ کرنے کا موقع دیا جائے اور اہل کشمیر کی قانونی اور حقیقی جدو جہد میں، مزاحمت کے تمام محاذوں پر ان کی امداد کی جائے۔ جس طرح عالمی برادری دیگر تحاریک آزادی کی ماضی میں امداد کرتی رہی ہے۔اجلاس توقع رکھتا ہے کہ اقوام متحدہ خطے کی تین نیوکلئیر طاقتوں کے درمیان اس سلگتے مسئلہ کو حل کرنے کے فوری اقدامات کا اہتمام کرے گی اور جنوبی ایشیا اور عالمی امن کے تحفظ کے لئے موثر لائحہ عمل طے کرے گی۔ معاون خصوصی محترمہ نبیلہ ایوب خان نے پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ 05 جنوری کو لائن آف کنٹر دل کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری یوم حق خود ارادیت مناتے ہیں۔ 05 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاکستان اور بھارت نے کشمیریوں کیلئے حق خود ارادیت یعنی رائے شماری کی قرار داد منظور کی تھی۔یہ وہ قرارداد ہے جس نے نہ صرف مسئلہ جموں کشمیر کو عالمی مسئلہ قرار دیا بلکہ پاکستان اور بھارت کو پابند کیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا مستقل اور پائیدار حل کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق نکالنا ہوگا۔ 05 جنوری کی اس قرارداد کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو انتخاب کا اختیار دیا جائے گا کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کا حصہ بنیں گے۔ یہ قراردار وہ بنیاد ہے جس پر مسئلہ جموں و کشمیر آج تک عالمی سطح پر زندہ اور کھڑا ہے۔ حکومت پاکستان کا مسئلہ جموں و کشمیر کے حوالے سے موقف اس قرارداد کے عین مطابق ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے جس کا قوام متحدہ کی 05 جنوری 1949ء کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے اور کشمیری عوام سے اس قرارداد کی روشنی میں پوچھا جائے تا کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ حکومت پاکستان اس قرار داد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر دور میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھنے کا نہ صرف عزم دہراتی ہےبلکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے لیکر او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر بھی مسلسل اس تنازع کو اٹھاتی رہتی ہے۔ ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں نے ہر دور میں پاکستان کو اپنا قابل اعتماد وکیل اور خیر خواہ سمجھا ہے لیکن 1990ء میں جاری تحریک آزادی جموں و کشمیر میں پاکستان کی طرف سے مداخلت نہ کرنے پر آج بھی پاکستان کی حامی مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت حیران ہے کہ اسلام آباد نے مقبوضہ کشمیر کو حاصل کرنے کیلئے پہل کیوں نہ کی جبکہ سرینگر میں بھارت کے پاؤں اکھڑ چکے تھے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں اس وقت کی بیورو کریسی کا کہنا تھا کہ بھارت واپسی کی تلاش میں تھا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے بعض چوٹی کے سیاستدانوں کا مانتا ہے کہ کشمیری پنڈتوں (کشمیری زبان بولنے والے ہندو) کو اس وقت کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے گورنر جگموہن نے اس لئے مقبوضہ وادی سے نکال کر جموں منتقل کیا کہ کسی بھی وقت مقامی حریت پسندوں کے ساتھ مل کر پاکستان سرینگر پر قبضہ کرلے گا۔ پاکستان نے عالمی سطح پر 05 جنوری کی قراردادوں کو بنیاد بنا کر آج تک جنوبی ایشیا کے دیرینہ تنازع کو زندہ رکھا ہے جس کو کشمیری عوام آج بھی عقیدت و احترام کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ سابق صدر پاکستان جنرل مشرف نے مسئلہ جموں و کشمیر کو مرحلہ وار حل کرنے کیلئے چار نکاتی فارمولا پیش کیا تھا جس کی آڑ میں بھارت نے نہ صرف مقبوضہ جموں دکشمیر میں عسکریت پسندوں کو شہید کر کے ان کی تعداد کم کی بلکہ لائن آف کنٹرول پر خار دار تاروں کی باڑ بھی لگادی۔ گو کہ سابق صدر جنرل مشرف نے مسئلہ جموں و کشمیر کوحل کرنے کیلئے پہلی بار آؤٹ آف با کسی حل ڈھونڈنے کی ایک مخلصانہ کوشش کی تھی لیکن بھارت کی حکومت پاکستان کے ان اقدامات کو مسئلہ جموں و کشمیر حل کرنے کے بجائے وقت گزار نے کیلئے استعمال کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اپنے فوجی قبضے کو محکم کرتی رہی اور اسی دور میں خالص فوجی مقاصد کیلئے جموں و کشمیر سے سرینگر کیلئے ریلوے لائن بچھانے کا منصو بہ بھی شروع کر دیا۔ پرویز مشرف کے دور میں لائن آف کنٹرول کے راستے پر سرینگر مظفر آباد بس اور تجارت کیلئے ٹرک سروس کے ساتھ ساتھ منقسم خاندانوں کو ملنے کا موقع ملا لیکن بھارت ان اقدامات کے پیچھے ایک اور منصوبے پر تیزی کے ساتھ کام کر رہا تھا جو 05 اگست 2019 کو دنیا کے سامنے آیا۔ یوں پرویز مشرف کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کی بحالی کیلئے کئے گئے اقدامات ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ 05 اگست 2019 ء کے بعد ایک بات واضح ہوگئی کہ بھارت مسئلہ جموں و کشمیر کو 05 جنوری 1949ء کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی منشاء کے مطابق حل کرنے کیلئے تیار نہیں۔ حکومت پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کول کر پانچ جنوری کو ہر سال بھر پور انداز میں یوم حق خود ارادیت کے طور پر منا کر نہ صرف مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو یقین دلانا چاہیے کہ وہ اپنی جدو جہد آزادی میں تنہا نہیں ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت، سیاسی و مذہبی جماعتوں اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے ساتھ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی چاہیے کہ 05 جنوری کو 05 فروری کی طرح جوش و خروش سے منائیں تا کہ دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی طرف دلائی جاسکے اور دنیا کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے مسائل کے ساتھ ساتھ ان کی مشکلات سے بھی آگاہ کیا جائے۔اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے اسلام آباد کے ساتھ ساتھ مظفر آباد میں موجود حکمرانوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس دن لوگوں کو با ہر ا کر دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جاری مظالم کی طرف مبذول کرائیں۔آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کو اس دن خصوصی اجلاس بلا کر بھارتی مظالم کے خلاف اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دینے کیلئے قرارداد منظور کرنی چاہیئے۔ وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق اور دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ہمراہ فوجی مبصر مشن مظفر آباد کے دفتر تک جاکر 05 جنوری 1949ء کی قرارداد پر عملدرآمد کیلئے یادداشت پیش کرنی چاہیے تا کہ عالمی برداری کو مسئلہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو۔

All reactions:

55

Share This Post

More To Explore