سیکرٹری اطلاعات کل جماعتی حریت کانفرنس مشتاق احمد بٹ نے مظفرآباد سے جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 5 جنوری کشمیر کی تاریخ میں اہم ترین دن ہے اس دن دنیا بھر میں موجود کشمیری اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے حق خودارادیت کے حصول تک بھارت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سیکرٹری اطلاعات کل جماعتی حریت کانفرنس مشتاق احمد بٹ نے مظفرآباد سے جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 5 جنوری کشمیر کی تاریخ میں اہم ترین دن ہے اس دن دنیا بھر میں موجود کشمیری اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے حق خودارادیت کے حصول تک بھارت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ 5 جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کی قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے زیرِ نگرانی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کرایا جائے گا. جس کے ذریعے کشمیری عوام خود اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرسکیں گے مگر آج تک اس قرارداد پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔کشمیری عوام روزانہ اپنی جان و مال کا نذرانہ پیش کررہے ہیں ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کر رہا ہے۔جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے سراسر منافی ہے۔مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا اور دیرینہ مسئلہ ہے اس مسئلہ پر اقوام متحدہ کی مکمل اور واضح قراردادیں موجود ہیں،جن کے مطابق کشمیریوں کو رائے دہی کا حق حاصل ہے۔ مگر 75 سال گزرنے کے بعد بھی کشمیریوں کو یہ حق عملی طور پر نہیں دیا جا سکا.حالانکہ کشمیریوں کے بعد جن قوموں نے حق خودارادیت کی جدوجہد شروع کی انہیں اقوام متحدہ کے زیر سایہ اپنی منزل مل بھی گئی۔ 5جنوری1949کو منظور کی جانے والی قرارداد میں کشمیریوں کا یہ حق نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ یہ واضح کیا گیا کہ وہ آزادانہ طریقے سے ووٹ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔بھارت نے 1949ء سے آج تک اس قرارداد پر عمل درآمد نہیں ہونے دیا بلکہ مختلف حیلوں اور بہانوں سے اس معاملے کو ٹالتا رہا۔ بھارت دن بدن مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں پر ظلم و بر بریت کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔مختلف کالے قوانین کے ذریعے معصوم کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔بڑی تیزی کے ساتھ جائیدادیں ضبط کی جارہی ھے۔گھروں کو بلڈوز کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ظلم و بربریت میں اسرائیل سے بھی بازی لے گیا ہے۔ ان سارے جرائم اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود عالمی اداروں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ حق خودارادیت وہ حق ہے جو دیگر تمام بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کا سر چشمہ ہے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ کشمیریوں کا ان کا یہ حق اب تک نہیں مل سکا. 5 اگست 2019 کے بھارت کے غیر قانونی اور یک طرفہ اقدامات کا مقصد بھارت کے زیر قبضہ ریاست جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے تاکہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو نقصان پہنچائے اور ان کے اس جائز اور قانونی حق کو متاثر کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 5 جنوری کا دن اقوام متحدہ سمیت عالمی امن کے دعوی دار عالمی اداروں کے ضمیر جنجھوڑنے کا دن بھی ہے۔ یہ حقیقت واضح ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر حل نہ کیا گیا تو یہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے جس کی لپیٹ میں نہ صرف برصغیر بلکہ عالمی سطح پر بھی وسیع پیمانے پر نقصانات ہو سکتے ہیں۔ آج اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے یہ نہ صرف یہ عالمی امن کے لئے بہتر ہو گا بلکہ پاکستان بھارت سمیت جنوبی ایشاء میں امن سلامتی اور خوشحالی کا ضامن ہو گا۔

Share This Post

More To Explore