سیکرٹری الیکشن کمیشن /ترجمان آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے بحیثیت چیف الیکشن کمشنر حکومت وقت کو نئے حلقے بنانے کے لیے تحریر کیئے گئے مکتوب پر عام تاثر یہ پایا جارہا ہے کہ شاید الیکشن کمیشن Delimitation کی کارروائی کر رہا ہے اس سلسلہ میں ایک درخواست بھی بذریعہ واٹس ایپ موصول ہوئی ہے جو حقائق کے منافی ہے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن /ترجمان آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے بحیثیت چیف الیکشن کمشنر حکومت وقت کو نئے حلقے بنانے کے لیے تحریر کیئے گئے مکتوب پر عام تاثر یہ پایا جارہا ہے کہ شاید الیکشن کمیشن Delimitation کی کارروائی کر رہا ہے اس سلسلہ میں ایک درخواست بھی بذریعہ واٹس ایپ موصول ہوئی ہے جو حقائق کے منافی ہے۔ درج رہے کہ مکتوب، نام وزیر اعظم لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ عام انتخابات 2021 کے لیئے حلقہ بندی کرتے وقت ان حلقہ جات کی نسبت اعتراضات آئے تھے بالخصوص کرنا ہ سے عبد الرشید کرنائی ایڈووکیٹ اور بھیڈی کے حلقہ سے اُس وقت کے ممبر اسمبلی سید علی رضا بخاری نے ان حلقہ جات کے قیام کی نسبت استدعا کی تھی اسی طرح بھمبر کے بارہ میں بھی وہاں کے متعلقہ MLA صاحبان نے ذکر کیا تھا جن کا ذکر 2021 ء کے دوران حلقہ بندی کی نسبت کئے گئے فیصلہ جات میں موجود ہے اس لیے ان معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے یہ مناسب سمجھا کہ حکومت وقت سے تحریک کی جائے۔ اگر اسمبلی نئے حلقہ جات منظور کرتی ہے تو پھر حلقہ جات کا تعین کیا جا سکے۔ الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 ء کی دفعہ 16 کے تحت Delimitation کی کار روائی نہیں کر رہا اور نہ ہی چیف الیکشن کمشنر نے بطور Delimitation Commission حکومت کو حلقہ جات بنانے کی تحریک کی ہے۔ یہاں یہ امر درج رہے کہ 2016 ء میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے معرض وجود میں آنے کے بعد سال 2018ء میں اسمبلی نے 4 نئے حلقہ جات تجویز کیئے تھے اور 2021 ء کے انتخابات سے قبل تحت قانون جدید حلقہ جات کی روشنی میں حلقہ بندیاں کی گئی تھیں۔Delimitation کرنے کے لیے آزاد جموں و کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 کی دفعہ 16 و 17 اور آزاد جموں و کشمیر الیکشن قواعد کا باب نمبر 3 واضح ہے جس کی روشنی میں ہی Delimitation کی کارروائی کی جاسکتی ہے اس وقت کمیشن Delimitation کے بارہ میں کوئی کارروائی نہیں کر سکتا۔ لہذا عوام الناس کو بذریعہ پریس ریلیز آگاہ کیا جاتا ہے کہ اگر اسمبلی حلقہ جات منظور کرتی ہے تو ایسی صورت میں 2026 ء جو کہ الیکشن کا سال ہے میں ہی تحت قانون Delimitation کی جاسکتی ہے۔

Share This Post

More To Explore