تر جمان محکمہ سماجی بہبود نے واضح کیا ہے کہ سوشل پروٹیکشن پروگرام کے تحت جمع شدہ درخواستوں کی مستند ادارہ سے خود کار طریقہ کے مطابق چھان بین کروائی گئی ہے اور صرف ان ہی افرد کو سوشل پروٹیکشن پروگرام کے ذریعہ مالی اعانت کیلئے اہل قرار دیا گیا ہے

تر جمان محکمہ سماجی بہبود نے واضح کیا ہے کہ سوشل پروٹیکشن پروگرام کے تحت جمع شدہ درخواستوں کی مستند ادارہ سے خود کار طریقہ کے مطابق چھان بین کروائی گئی ہے اور صرف ان ہی افرد کو سوشل پروٹیکشن پروگرام کے ذریعہ مالی اعانت کیلئے اہل قرار دیا گیا ہے جو انتہائی غریب ہیں۔ 1 لاکھ 19 ہزار افراد میں سے تقریباً 23 فیصد (161، 18) درخواست دہندگان کو جانچ پڑتال کے بعد مطلوبہ معیار کے مطابق اہل قرار دیا گیا، جبکہ مزید 8 فیصد ایسے افراد جو سماجی تحفظ کے ایسے ہی کسی دوسرے پروگرام سے مستفید ہو رہے تھے، کو پروگرام ہذا کے لئے شامل نہیں کیا گیا۔ ترجمان نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہیکہ محکمہ سماجی بہبود کے اہلکاران اور جانچ پڑتال کرنے والے افراد نے منظور نظر افراد کو حق دار ٹھہراتے ہوئے فہرستیں جاری کی ہیں۔ ترجمان کے مطابق محکمہ نے ہر ممکن کوشش کی ہیکہ اہل اور مستحق افراد ہی اس پروگرام میں شامل ہو سکیں البتہ جن افراد کے کوائف مکمل نہ تھے کے کوائف مکمل ہونے پر ہی انہیں مستقبل قریب میں اس پروگرام کا حصہ بنانے کے اقدامات کیئے جائیں گے۔پروگرام میں باقاعدگی سے مستحقین کا اندراج اور جانچ پڑتال کی صورت میں غلط اندراج والے افراد کو خارج کیا جاتا رہے گا۔ اگر کسی طرح کی کوئی بد دیانتی شامل ہوتی تو اخبارات اور سوشل میڈیا پر اسکی تشہیر نہ کی جاتی بلکہ حکومت نے شفافیت کو یقینی بنانے کی خاطر وسیع پیمانے پر مستحقین کے کوائف کی تشہیر کئے جانے کی ہدایت کی تاکہ کوئی غیر حق فرد اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور صرف مستحق افراد ہی پروگرام سے مستفید ہوں۔ لہذا، اگر کسی شخص کو کسی فرد کی اہلیت پر اعتراض ہو تو وہ اپنی درخواست متعلقہ ضلعی دفتر میں جمع کروائے تا کہ اس پر تحت ضابطہ کارروائی ہو سکے۔ترجمان محکمہ سماجی بہبود نے کہاکہ سوشل پروٹیکشن پروگرام سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل مختلف من گھڑت اور بے بنیا د خبروں کی تردید کی ہیکہ سوشل پروٹیکشن پروگرام کے تحت جمع شدہ 1 لاکھ 19 ہزار درخواستوں میں سے 99 فیصد مستحقین کو سکروٹنی کی آڑ میں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ سوشل پروٹیکشن پروگرام کے تحت جمع شدہ درخواستوں کی مستند ادارہ سے خود کار طریقہ کے مطابق چھان بین کروائی گئی ہے اور صرف ان ہی افرد کو سوشل پروٹیکشن پروگرام کے ذریعہ مالی اعانت کیلئے اہل قرار دیا گیا ہے جو انتہائی غریب ہیں۔

Share This Post

More To Explore