وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے ویژن اور گڈ گورننس کے یجنڈے کی تکمیل کے تسلسل میں ریاست کی تاریخ میں پرائیویٹ تعلیمی ادارہ جات کی مدرسہ شماری (آن لائن ایجوکیشن سینس 2024 حتمی مرحلے میں داخل- سینسس میں حصہ نہ لینے والے474پرائیویٹ تعلیمی ادارہ جات کی رجسٹریشن معطل کردی گئی ہے۔ آزادجموں وکشمیر پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز رجسٹریشن اتھارٹی (PEIRA) کے زیراہتمام نظامت ایجوکیشنل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (EMIS) کے تعاون سے ریاست میں پرائیویٹ تعلیمی ادارہ جات کا آن لائن سینسس تکمیلی مراحل میں ہے جس میں جملہ پرائیویٹ تعلیمی ادارہ جات کے کوائف، طلبہ و طالبات کی کلاس وائز، جینڈر وائز اور دیگر پہلوؤں سے جبکہ اساتذہ کی کوالیفکیشن وائز، جینڈروائز اور پروفیشنل ٹریننگ وغیرہ کے اعتبار سے تفصیل، ادارہ جات میں دستیاب تعلیمی سہولیات مثلاً عمارت، کلاس رومز، سائنس و کمپیوٹر لیبارٹریز، لائبریریز، بجلی، انٹرنیٹ، پینے کے صاف پانی، واش رومز، کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں کی سہولیات اور دیگر کوائف جمع کیئے جارہے ہیں تاکہ ریاست میں تعلیم کا مکمل منظرنامہ سامنے آسکے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے ان معلومات کو بروئے کار لایا جاسکے۔آزادجموں وکشمیرپرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز رجسٹریشن اتھارٹی(AJK-PEIRA) کے چیئرمین سید سلیم گردیزی سپیشل سیکرٹری ایلیمنڑی اینڈ سکینڈری ایجوکیشن کے مطابق اب تک ریاست بھر میں دو ہزار سے زائد رجسٹرڈ وغیر رجسٹرڈ پرائیویٹ تعلیمی ادارہ جات نے اتھارٹی کے ویب پورٹل کے ذریعے اپنا آن لائن ڈیٹا شیئرکیا ہے جس کی تصدیق طے شدہ میکنیزم کے ذریعے کی جارہی ہے جبکہ474رجسٹرڈادارہ جات نے مدرسہ شماری (Census) کے عمل میں حصہ نہیں لیا اور اپنا ڈیٹا ویب پورٹل کے ذریعے آن لائن شیئر نہیں کیا جن میں ضلع نیلم سے18ضلع مظفرآباد سے 126ضلع جہلم ویلی سے 27 ضلع باغ سے39 ضلع حویلی سے 6ضلع پونچھ سے 57 ضلع سدھنوتی سے 15 ضلع کوٹلی سے 96ضلع میرپور سے 43 اور ضلع بھمبر سے47 پرائیویٹ تعلیمی ادارہ جات شامل ہیں جن کی رجسٹریشن معطل کرتے ہوئے انہیں دو ہفتے کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ اپنا ڈیٹا آن لائن شیئرکرلیں ورنہ یہ معطلی رجسٹریشن کی منسوخی پر منتج ہوگی۔اس حوالے سے چیئرمین اتھارٹی کے دستخط سے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے جملہ متعلقین اور تعلیمی بورڈ میرپور کو بھی مطلع کردیا گیا ہے۔اتھارٹی کے دفتر سے جاری شدہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درست تعلیمی اعدادوشمار کی فراہمی رائج الوقت تعلیمی پالیسی اور اقوام متحدہ کے زیراہتمام طے کردہ اہداف Sustainable Development Goals (SGDs)کے علاوہ پرائیویٹ ادارہ جات کی رجسٹریشن کے قانون”دی آزادجموں وکشمیر پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز(پروموشن اینڈ ریگولیشن) ایکٹ 2007، اس کے ماتحت رائج الوقت قواعد 2015اور پرائیویٹ ادارہ جات کی رجسٹریشن کی شرائط کا بھی تقاضا ہے لیکن آن لائن مدرسہ شماری میں حصہ نہ لے کر وہ ان قواعد و ضوابط اور شرائط رجسٹریشن کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں جس پر ان کی رجسٹریشن معطل کرتے ہوئے ان ادارہ جات کو اندر 15ایام قانون اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کرنے کا موقع دیا گیا ہے جس سے استفادہ نہ کرنے کی صورت میں ایسے ادارہ جات کی رجسٹریشن مکمل طور پر منسوخ ہوجائے گی اور انہیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔علاوہ ازیں غلط اعدادوشمار فراہم کرنے والے ادارہ جات کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اعدادوشمار کا اندراج درست کریں ورنہ ان کے خلاف بھی کارروائی ضابطہ عمل میں لائی جائیگی۔مزید آں آئندہ غیر رجسٹرڈ ادارہ جات کا ڈیٹا سینسس میں موجود ہوگا۔مدرسہ شماری میں حصہ نہ لینے والے غیر رجسٹرڈ تعلیمی ادارہ جات کو رجسٹریشن کے لیے زیر غور نہیں لایا جائیگا اور نہ مستقبل میں کوئی غیر رجسٹرڈ ادارہ تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کا مجاز ہوگا۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
