صدر آزادجموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی ایوان صدر کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں تفصیلی ملاقات۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آزادی کے بیس کیمپ سے مسئلہ کشمیر کو متحد ہو کر اُجاگر کیا جائے گا جبکہ اس سلسلے میں اندرون و بیرون ملک کشمیری ہر فورم پر مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کے خلاف اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا رول ادا کریں کیونکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں مودی کی ریشہ دوانیاں عروج پر ہیں اور وہاں کشمیری عوام پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے تو ایسے وقت میں ہم سب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ بھارت کے مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے واشگاف الفاظ میں بے نقاب کیا جائے کیونکہ بھارت نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ خود بھارت اور کینیڈا سمیت دنیا بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جس سے بھارت ایک عالمی دہشت گرد کے طور پر سامنے آیا ہے۔ لہذا ایسے وقت میں کشمیریوں کو متحد ومتفق ہو کر مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف جارحانہ انداز میں آواز اُٹھانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس موقع پر صدر آزادجموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور سابق وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے آزادکشمیر کی سیاسی صورتحال پربھی تفصیلی بات چیت کی۔ اس موقع پر صدر آزادجموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور سابق وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کے درمیان باہمی دلچسپی سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
