سانحہ کنن پوش پورہ کے موقع پر انٹرنیشنل فورم فار جسٹس ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام سیمینار اور احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیاا

سانحہ کنن پوش پورہ کے موقع پر انٹرنیشنل فورم فار جسٹس ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام سیمینار اور احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیااوراقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں کشمیری خواتین پر بھارتی فوجیوں کے تشدد اور حملوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔مقبوضہ کشمیر کے علاقے کنن پوش پورہ میں 22 اور تئیس فروری 1991 کی رات بھارتی فوجیوں کے ماؤنٹین بریگیڈ کی راجپوتانہ رائفل بٹالین کے دہشت گرد فوجیوں کے کشمیری خواتین پر عصمت ریزی کے اجتماعی حملے کیخلاف انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے زیر اہتمام ہائیر سیکنڈری سکول سہیلی سرکار میں سیمینار اور ریلی کا انعقاد کیا گیا۔وزیر جموں وکشمیر لبریشن سیل محترمہ امتیاز نسیم سیمینار کی مہمان خصوصی تھیں جبکہ فورم کے وائس چیئرمین حریت راہنما مشتاق الاسلام نے صدارت کی۔ ڈائریکٹر لبریشن سیل راجہ سجاد لطیف خان، پاسبان حریت کے وائس چیئرمین عثمان علی ہاشم، پرنسپل ادارہ عامرہ یوسف، مسلم کانفرنس کی راہنما سمیعہ ساجد، مسلم لیگ ن خواتین ونگ کی راہنما سائرہ چشتی، مائرہ خان، حمیرہ الطاف، عائشہ ایمان، فاریہ اسلم، آمنہ طارق نے سیمینار سے خطاب کیا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کشمیری خواتین کی تحریک آزادی کشمیر میں جدوجہد لازوال ہے جنہوں نے تمام تر جبرواستبداد کے باوجود چٹان کی طرح کھڑی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ کشمیری خواتین نے اس تحریک میں جہاں اپنی عزتوں کی قربانی دی وہیں انکے شوہر، بیٹے اور بھائی شہید ہوئے۔ انکا کہنا تھا کہ تینتیس برس گزر جانے کے باوجود کنن پوش پورہ کی مظلوم خواتین کو انصاف نہیں ملا اور نہ ہی ان بھارتی فوجیوں کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی کی گئی ہے۔ کنن پوش پورہ کا سانحہ کشمیر کی تاریخ میں ایک اندوہناک واقع ہے۔ کشمیری خواتین نے بھارت کے تمام تر مظالم کے باوجود جدوجہد میں ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ مقررین نے کشمیری اسیر خواتین آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی اور دیگر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم کی حوصلہ مند خواتین ریاست کی آزادی کے لئے عظیم قربانیاں پیش کررہی ہیں۔ مقررین نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری خواتین پر مظالم کا فی الفور نوٹس لیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے دہلی سرکار کی ایماء پر کشمیری خواتین پر جنسی حملوں کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے زیر اہتمام سیمینار میں شریک شرکاء نے بھارتی فوجیوں کی دہشت گردی کیخلاف احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا کیا جس ”انصاف دو انصاف دو کنن پوش پورہ کی خواتین کو انصاف دو” ”کشمیری خواتین پر ظلم و ستم بند کرو بند کرو””بھارتیو غاصبو جموں کشمیر چھوڑ دو ” ”ہم کیا چاہتے آزادی” کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ ریلی میں شریک خواتین نے کشمیر کی آزادی کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔

Share This Post

More To Explore