سپیکرقانون ساز اسمبلی آزادجموں وکشمیر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت بھارتی سپریم کورٹ کے متعصبانہ فیصلے کے بعد لائحہ عمل بنانے کے حوالہ سے قائم کردہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس سپیکر چیمبر میں منعقد ہوا

سپیکرقانون ساز اسمبلی آزادجموں وکشمیر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت بھارتی سپریم کورٹ کے متعصبانہ فیصلے کے بعد لائحہ عمل بنانے کے حوالہ سے قائم کردہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس سپیکر چیمبر میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے ممبران قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد، سابق وزرائے اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان، سردارعتیق احمد خان اور سردار عبدالقیوم نیازی، وزیر قانون و پارلیمانی امور میاں عبدالوحید، وزیرخزانہ عبدالماجدخان، سردارحسن ابراہیم،حافظ حامد رضا جبکہ وزیرحکومت امتیاز نسیم، مشیرحکومت نثارہ عباسی اور سیکرٹری اسمبلی چوہدری بشارت حسین نے شرکت کی۔ اجلاس تمام ممبران نے اظہارخیال کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ متعصبانہ فیصلے کویکسرمسترد کیا۔ اس موقع پر بھارتی سپریم کورٹ کے متعصبانہ فیصلے کے خلاف نیشن وائیڈاحتجاج اوراس ناانصافی کے خلاف ہرفورم پر بھرپوراحتجاج و مظاہرے کرنے جبکہ آل پارٹیز کانفرنس بلاکر مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ قانون ساز اسمبلی کے جاریہ سیشن کو کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کے طور پر چلایاجائے گا۔ کمیٹی کے اجلاس نے فیصلہ کیا گیا کہ ممبران اسمبلی آج (بدھ کو) دارلحکومت میں ہونے والے پاسبان حریت کے احتجاجی مظاہرے میں بھرپور شرکت کریں گے اور بھارتی سپریم کورٹ کے متعصبانہ فیصلے کے خلاف بھرپور آواز بلند کی جائیگی

وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ پانچ اگست 2019 کے فیصلے کا تسلسل ہے ،کشمیری بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں ،وزیراعظم پاکستان کل بروز جمعرات آزادجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کریں گے ۔اگر بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں غزہ جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی تو پھر ایل او سی نہیں رہے گی ،کشمیریوں کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے ۔بھارتی عدالت نے جس طرح افضل گورو کو پھانسی کی سزا سنائی تھی کشمیریوں کو اسی فیصلے کی توقع تھی ۔وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے ان خیالات کا اظہار کل جماعتی حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کے کنوینر محمود احمد ساغر اور سیکرٹری جنرل شیخ متین کی قیادت میں حریت قائدین کے ہمراہ جموں کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کیا ۔اس موقع پر موسٹ سینئر وزیر کرنل(ر) وقار احمد نور ،وزراء حکومت اظہر صادق ،چوہدری قاسم مجید ،سردار امجد یوسف بھی موجود تھے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ کے لوک سبھا بل سے ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کشمیر کے حصے الگ کر کے اس کو تقسیم در تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور پھر وہاں جعلی انتخابات کا ڈھونگ رچانا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت ،حریت قائدین اور سیاسی قیادت کے ساتھ ملکر بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹھوس لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے اس بزدلانہ فیصلے کے خلاف کشمیری بھرپور احتجاج کریں گے ۔وزیراعظم پاکستان کل جمعرات کو مظفرآباد میں آزادجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کریں گے ہم ملکر بھارت کے اس بزدلانہ فیصلے کو ناکام بنائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ جو ممبران اسوقت آزادکشمیر کے ایوان میں نہیں ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھے ہیں،یہ بیس کیمپ تحریک آزادی کشمیر کیلیے ہے بطور وزیراعظم میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آزادکشمیر کے تمام وسائل کو تحریک آزادی کشمیر کی طرف موڑ دیا جائے گا ۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں جو ہوا اسکو چھوڑ دیں ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے قوموں کی زندگی میں جب تحریکیں چلتی ہیں تو اتار چڑھاؤ آتے ہیں حکومت پاکستان اور آزادکشمیر کی تمام سیاسی قیادت کو اکٹھا کیا جائے گا ،آئندہ اڑھتالیس گھنٹوں میں وزیراعظم پاکستان سے ساری کشمیری سیاسی و حریت قیادت مظفرآباد میں ملے گی اس بار بھرپور تیاری کے ساتھ اقدامات کئے جائیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں کو اپنی قیادت پر اعتماد کرنا چاہیے جب تک حریت قیادت موجود ہے اور جب تک میری روح اور جسم کا تعلق موجود ہے میں اس تحریک کے ساتھ خود کو وابستہ رکھوں گا آپ کو میرے اقدامات کو دیکھنا ہو گا ۔وزیراعظم نے کہا کہ نسل نو کی نظریاتی تربیت کی جائے گی ،آزادکشمیر میں بڑے پیمانے پر اس حوالے سے تحریک آزادی کے سلسلے میں عوام میں بڑے پیمانے پر مہم شروع کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا اس پر مل بیٹھ کر ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوے آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کریں گے ،ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ میں نے عوام کے ٹیکس کے پیسے پر پہرہ دیا ہے جس صورت میں حکومت ملی اسکو ٹھیک کرتے ہوے مجھے کافی وقت لگا 24 ارب روپے خرچ کئے اور اللہ کے فضل سے پانچ پیسے کی کرپشن نہیں ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ہندو توا کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے کشمیری بھارت کے اس عمل کو ناکام کریں گے انشاءاللہ اگلے پانچ دن میں مکمل حکمت عملی سے آگے بڑھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جلد اس سلسلے میں کل جماعتی کانفرنس بھی بلائی جائے گی جس میں جملہ سیاسی قیادت جن میں نیشنلسٹ بھی شامل ہونگے کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلیے جدوجہد کا اعادہ کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ آزادی کی تحریکوں میں مواقع سے فایدہ اٹھانا پڑتا ہے یہ حریت پوری استقامت سے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے حکومت حریت قائدین کی زیر قیادت اپنی منزل حاصل کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ اگر غزہ کی تاریخ کشمیر میں دہرانے کی بھارت نے کوئی بھونڈی کوشش کی تو پھر ایل او سی نہیں رہے گی اسکو کراس کرتے ہوے زیادہ دیر نہیں لگے گی ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر محمود احمد ساغر نے کہا کہ آزادکشمیر کی حکومت ،حکومت پاکستان اور سیاسی قیادت سمیت ڈائسپورہ کے ساتھ ملکر بھارتی سپریم کے فیصلے کے خلاف ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ تحریکوں میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں لیکن کشمیریوں نے بھارت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے ہیں ہم نے نہ ہندوستان کو تسلیم کیا ہے نہ ہم تسلیم کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سب ملکر تحریک آزادی کو مضبوط سے مضبوط تر کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت اربوں روپے کی لاگت سے جیل بنا رہا ہے جس میں وہ صرف کشمیریوں کو قید رکھے گا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے تمام تر غاصبانہ اقدامات کے باوجود کشمیریوں کا حوصلہ بلند ہے ہم وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوارالحق کی زیر قیادت حکومت کے ساتھ ملکر بھارت کے ہر اقدام کا مقابلہ کریں گے اور اسے ناکام بنائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت یسین ملک کو بھی پھانسی دینے چاہتا ہے ہمیں خدشہ ہے کہ اس سلسلے میں بھی فیصلہ جلد ہو گا ،بھارٹ جو حربہ مرضی آزما کے وہ کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت سے محروم نہیں کر سکتا ۔اس سے قبل وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوارالحق سے کل جماعتی

Share This Post

More To Explore