آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی نے آرٹیکل 370 کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قرادادمتفقہ طورپرمنظور کر لی۔ وزیرقانون و پارلیمانی امور میاں عبدالوحید کی جانب نے ایوان سے متفقہ طورپر منظور ہونے والی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ کے 11 دسمبر 2023 کے فیصلہ کی بھرپور اور شدید مزاحمتی انداز میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرتے ہیں۔ کشمیری اپنے پیدائشی حق حق خودارادیت کے حصول کیلئے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ حکومت پاکستان اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے اور بھارتی حکومت کے تنازعہ جموں و کشمیر کے بین الاقوامی طور پر مسلمہ حیثیت کی برخلاق اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے مسترد کیے جائیں اور پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کر کے اس فیصلے کی مذمت کی جائے۔ اجلاس حکومت پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ دنیا بھر میں بالخصوص امریکہ چین برطانیہ روس اور یورپی یونین کے ممالک میں قائم سفارت خانوں کو بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے اور پانچ اگست 2019 کے بعد آج تک جموں کشمیر کے حوالہ سے مودی فاشسٹ حکومت کے یکطرفہ اقدامات کی مذمت اور مستردگی کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے سفارتی ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے۔ اجلاس موجودہ صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کرتا ہے،یہ ایوان اس موقع پر تحریک آزادی کشمیر کے تمام شہداء غازیوں بھارتی جبر استبداد اور ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے باشندگان جموں کشمیر بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں قید کشمیریوں اور سیاسی قیادت کی لازوال قربانیوں پر انہیں خراج عقیدت و خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
٭٭٭٭٭
مظفرآباد(پی آئی ڈی)12دسمبر2023
سپیکر آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی قیادت میں حکومتی و اپوزیشن ممبران اسمبلی نے اجلاس کے بعد مظفرآباد میں اقوام متحدہ کے مبصر کے پاس قانون سازاسمبلی کی جانب سے منظورکردہ قراردادجمع کروائی۔
مظفرآباد(پی آئی ڈی)12دسمبر2023
آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں ہندوستانی سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل370 کے بارے میں متعصبانہ اور فیصلے کے بعد لائحہ عمل بنانے اورکشمیر کاز کو جاندارانداز میں اجاگر کرنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی قائم کر دی گئی۔ کمیٹی ممبران میں سپیکر چوہدری لطیف اکبر،خواجہ فاروق احمد، راجہ محمد فاروق حیدرخان، سردارعتیق احمد خان، سردارعبدالقیوم نیازی، عبدالماجد خان، میاں عبدالوحید، صاحبزادہ حافظ حامد رضا اورمحترمہ تقدیس گیلانی شامل ہیں۔
مظفرآباد(پی آئی ڈی)12دسمبر2023
سپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس منگل کے روز منعقد ہوا جس میں ممبران اسمبلی نے آرٹیکل370 کے حوالہ سے ہندوستانی سپریم کورٹ کے متعصبانہ فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سیاہ پٹیاں باند ھ کر شرکت کی۔ ہندوستانی سپریم کورٹ کے متعصبانہ فیصلے کے خلاف ممبران اسمبلی خواجہ فاروق احمد، راجہ محمد فاروق حیدرخان، سردارعبدالقیوم نیازی، میاں عبدالوحید، وقار احمد نور،سردار میر اکبر خان،عبدالماجد خان، راجہ فیصل ممتاز راٹھور، دیوان علی خان، محمد اکبر چوہدری، چوہدری اظہر صادق، نثار انصر، چوہدری قاسم مجید، حسن ابراہیم خان اور صاحبزادہ حافظ حامد رضا کی جانب سے قراردادیں پیش کی گئیں۔ قانون ساز اسمبلی نے تمام ممبران سمبلی کی قراردادوں کر ایک قرارداد کی شکل میں متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
قرادادوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے قائدحزب اختلاف خواجہ فاروق احمد نے کہاکہ جب بھی الیکشن قریب آتے ہیں مودی کشمیر کارڈ کھیلتا ہے، بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت پاکستان آل پارٹیز کانفرنس بلائے اور سابق سفارتکاروں کو بھی آن بورڈ لیاجائے۔
سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف حکومت پاکستان فوری طورپر اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل سے رجوع کرے،آزادکشمیر سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے ریفرنس دائر کر کے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دلوایا جائے اور موجودہ صورتحال سے نمبرد آزما ہونے کے لیے کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔انہوں نے کہاکہ 5اگست 2019ء کو جو کچھ ہوا اس وقت کے ذمہ داران نے جو رویہ اختیار کیا وہ قطعاً مناسب نہیں تھا،ہندوستانی سپریم کورٹ کا فیصلہ دراصل مودی فاشزم کے عزائم کی تکمیل ہے۔آزادکشمیر کے آئین میں واضح طورپر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کی گئی ہے۔ ہمیں موجودہ خول سے باہر نکلنا پڑے گا،کشمیر کے حوالے سے ہمارے پاس بہت ساری دستاویزات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج فلسطین کے دارالحکومت پر اسرائیل کا قبضہ ہے مگر فلسطین کا سفیر ہر جگہ اپنی بات کرتا ہے،ہم تو بہت بہتر پوزیشن میں ہیں،یہاں منتخب صدر،وزیراعظم،قانون ساز اسمبلی،سپریم کورٹ،ہائی کورٹ اور ایک پورا نظم ونسق ہے۔پاکستان کے ساتھ ہماری وابستگی غیر مشروط ہے اور ہمیں پاکستانی ہونے کے حوالے سے کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔پرانی سیاست چھوڑ کر نئی شروعات کرنے کی ضرورت ہے،کشمیر کو سرحدی تنازعہ نہ بنائیں،انہوں نے کہاکہ ہماری سپریم کورٹ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتی ہے کیونکہ یہ ہماری آئینی حدود اور اختیار میں ہے۔انہوں نے کہاکہ ایوان کی خصوصی کمیٹی بنائی جائے جو دفعہ 370 کے حوالے سے ہندوستانی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر اقدامات تجویز کرے۔ایوان کے اندر اور باہر متفقہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے
سابق وزیراعظم سردارعتیق احمدخان نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، یہ فیصلہ تمام قوانین کو خلاف ورزی اور افسوسناک ہے، ہندوستان کی عدلیہ نے ہمیشہ کشمیریوں کے خلاف فیصلے دیے ہیں، اس فیصلیکے خلاف دنیا بھر میں احتجاج ہوناچاہیے، حکومت پاکستان کو یہ معاملہ سیکورٹی کونسل میں اٹھانا چاہیے، ایک طے شدہ منصوبے کے تحت مودی نے یہ اقدامات اٹھائے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان کو بھی دنیا میں اہمیت نہیں مل رہی ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسوقت قومی کشمیرپالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتما د میں لیاجائے۔ ایسا قانون قدرت کے خلاف ہے کہ قربانیاں رائیگاں ہوجائیں، کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جا سکتیں۔
سابق وزیراعظم سردارعبدالقیوم نیازی نے کہاکہ ہندوستانی سپریم کورٹ کے متعصبانہ فیصلے کے بعد حکومت پاکستان کو یہ معاملہ سلامتی کونسل میں لیکرجاناچاہیے،مودی کو جب الیکشن جیتنا ہوتا ہے تو وہ ایسے اقدامات کرتاہے،کشمیریوں اور اہل پاکستان کے دل مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں،ہمارے اوپر بڑی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کا ظلم وستم جاری ہے،بھارت نے آرٹیکل 370کے ذریعے آئینی ضرب لگائی،ہمیں مستقبل کو مدنظررکھتے ہوئے فیصلے کرنے ہیں۔
جموں وکشمیر پیپلز پارٹی کے سربراہ سردارحسن ابراہیم نے کہاکہ ہندوستان کے پانچ اگست اوراسکے بعد کے اقدامات تشویشناک ہیں، موقع ہے کہ حکومت پاکستان کشمیریوں کے دل میں جگہ بنائے، سب نے ملکر مشاورت سے چیزیں آگیلیکرجانی ہیں اور موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کریں ہیں، تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ہم سب ایک ہیں۔
وزیرقانون و پارلیمانی امورمیاں عبدالوحید نے کہاکہ کل کا دن کشمیریوں کے لیے سیاہ ترین اور المناک دن ہے، ہندوستان کی کینگروکورٹ نے تمام قوانین کو پاوں تلے روندتے ہوئے مودی حکومت کے فیصلے کو برقراررکھا جس کی پوری کشمیری قوم مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عدالتوں کے ذریعے تحریکوں کے فیصلے نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنی جوازیت دینی ہے، شہدا کے خون سے غداری کے مرتکب نہیں ہوسکتے۔
ممبراسمبلی صاحبزادہ حافظ حامدرضا نے کہاکہ ہندوستانی سپریم کورٹ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، کل کا دن کشمیریوں کیلئے سیاہ ترین دن ہے، جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے اپنے حق کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اس حوالہ سے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیارہیں، انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کے تمام صوبائی دارلحکومتوں میں کشمیرکانفرنسز کا انعقاد کروایاجانا چاہیے۔
مظفرآباد(پی آئی ڈی)12دسمبر2023
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کے اجلاس میں متعد د قراردادیں پیش کی گئیں۔
سینئر موسٹ وزیر /وزیر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن وقار احمد نور، وزراء حکومت میاں عبدالوحید، سردار میراکبر خان، عبدالماجد خان، راجہ فیصل ممتاز راٹھور،دیوان علی خان چغتائی،محمد اکبر چوہدری، چوہدری اظہر صادق،نثار انصر ابدالی، چوہدری قاسم مجید کی جانب سے پیش کر دہ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370منسوخ کرنے کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ہندو انتہا پسند مودی سرکار کا 05اگست2019ء کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔بھارتی حکومت، ادارے نے ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ غداری کی، تاریخ دہرائی، کسی ایک موقع پر بھی بھارتی عدالت نے کشمیری عوام کے حق میں فیصلہ نہیں دیا،بھارتی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370پر آج کا فیصلہ سنا کر بھارتی اسٹیبلشمنٹ کا عضو ہونے کا ثبوت دیا۔ جموں کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے بھارتی آئین کے مطابق جموں کشمیر کو باقی بھارتی ریاستوں کے برابر قرار دیا گیا ہے، بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کشمیر کو(Union Territory) کی بجائے بھارتی ریاست کا درجہ دے کر انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔ جس کا یہ ایوان شدید ترین مذمت کرتاہے۔ یہ فیصلہ عین مودی حکومت کی خواہش کے مطابق دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ آف انڈیا نے اقوام متحدہ کی قراردادوں،سابق بھارتی حکومتوں کے اقدامات اور اکثریتی کشمیریوں کی خواہشات اور حقائق کے بر عکس سنایا ہے۔مودی کے دور میں بھارت کی سپریم کورٹ مودی کورٹ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جموں کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ لوگ کبھی بھی بھارت کو اپنا ملک تسلیم نہیں کر سکتے۔کشمیریوں کو بھارتی سپریم کورٹ پر کبھی بھی اعتبار نہیں رہا،اہل جموں کشمیر اپنی آ زاد ی کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔یہ ایوان مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اقوام عالم سے مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے مظلوموں کے لئے اقدامات اٹھائے۔نیز یہ ایوان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کشمیر کو کسی صورت بھارت کا نہ پہلے حصہ مانتے تھے نہ آئندہ مانیں گے۔انشاء للہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد جاری و ساری رکھیں گے۔
سابق وزیرا عظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر کا یہ اجلاس بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ جس میں عدالت نے 05اگست2019ء کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو پذیرائی نہ بخشتے ہوئے بھارتی حکومت کے 05اگست 2019ء کے فیصلہ کو درست قرار دیتے ہوئے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو ہندوستانی ریاست کا حصہ قراردیاہے۔ہندوستان اور پاکستان دونوں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اس تنظیم کے رکن ہیں۔ جس کے تحت نہ تو ان دونوں ممالک کی حکومتیں اورنہ ہی ان کی عدالتیں کوئی ایسا فیصلہ صادر کرنے کی مجاز ہیں،جو ان قوانین پر اثر انداز ہوتے ہوں۔ہندوستان کی حکومت کا 05اگست2019ء کا اقدام اور 11دسمبر2023ء کو ہندوستانی سپریم کورٹ کا فیصلہ UNSCکی قراداد کی سنگین خلاف ورزی ہے۔یہ ایوان حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور حریت قیادت کو مل بیٹھنے کا موقع مہیاکرے اور بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے حوالے سے مسئلہ کشمیر پر پڑنے والے مضمرات کا جائزہ لے کر اس معاملہ کو عالمی سطح پراٹھایا جائے۔
قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد کی جانب سے پیش کر دہ قرا رداد میں کہا گیا کہ 11دسمبر 2023کو بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 370کی Abrogationکو بھارتی مقبوضہ کو جموں و کشمیر میں درست قرار دیے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا 30ستمبر 2024ء تک مقبو ضہ جموں کشمیر اسمبلی میں الیکشن کرانے کی ہدایت دینے کو مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے مسلمہ حق جسے اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کر رکھا ہے کے منافی قرار دیا ہے۔اوراُس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔یہ ایوان اقوام عالم سے مطالبہ کرتاہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو کشمیری عوام کے مسلمہ حقوق کی خلاف ورزی اور بھارتی حکومت کے بین الا قوامی مواعید کی سرا سر خلاف ورزی قرار دے اور بھارتی حکومت کو پابند کرے کہ وہ ریاست جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرا ردادوں جس کا وہ بھی ایک فریق ہے پر عمل درآمد کرے۔بھارتی سپریم کورٹ کا11-12-2023کو دیئے گے فیصلے کو کشمیری عوام کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے۔
ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم کی جانب سے پیش کردہ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس آرٹیکل 370کے حوالے سے بھارت کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی پرزور مذمت کرتا ہے اور اس فیصلہ کو عالمی قوانین سمیت بھارت کے اپنے آئین و قانو ن کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔اس متعصبانہ فیصلے نے بھارتی جمہوریت سمیت بھارت میں عدلیہ کی صورت حال کو مزید بے نقاب کیا ہے جو ہندوتوا کے زیر سایہ فیصلے دے رہی ہے۔مزید یہ کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈا پر موجود ہے اور سات دہائیوں سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہ ملنا اقوام متحدہ اور اقوام عالم کی ناکامی ہے۔یہ اجلاس اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی،غیر اخلاقی اور غیر آئینی اقدامات کا نوٹس لے جو اقوام متحدہ کی مختلف قراردادوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔ایسے فاشسٹ ملک کے احتساب سے دائمی و پائیدار عالمی امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے وگر نہ اقوام عالم کی خاموشی اور اس طرح کے فیصلوں کی تو ثیق تصور ہوگی۔یہ اجلاس مزید یہ سمجھتا ہے جس طرح نازی جرمنی کی عدالتوں نے نسل کشی کی راہ ہموار کی تھی آج بھارتی عدالتیں بھی کشمیریوں کی نسل کشی کی راہ ہموار کر رہی ہے۔اگر اس سلسلہ کو نہ روکا گیا تو جنوبی ایشیاء سمیت دنیا کا امن خطرہ میں ہے۔یہ اجلاس اس عزم کا بھی اعادہ کرتا ہے کہ جو تحریک 19جولائی 1947کی قرارداد سے ہمارے آباو اجداد نے شروع کی تھی اس کی تکمیل اور کشمیر کی حق خود ارادیت کے حصول تک جدو جہد جاری رکھیں گے۔اس طرح کے متعصبانہ فیصلے کشمیری قوم کے جذبہ حریت کو ختم نہیں کر سکتے۔یہ اجلاس اس موقع پر شہداء کشمیرسمیت تمام قائدین کی قربانیوں کو بھی سلام عقیدت پیش کرتا ہے۔
ممبر اسمبلی حافظ حامد رضا نے قرارداد پیش کر تے ہوئے کہا کہ آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ جس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے سے متعلق درخواستیں مسترد رکتے ہوئے آرٹیکل 370منسوخ کرنے کی مودی سرکار کے 05اگست 2019کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے، کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔اس معزز ایوان کی رائے میں بھارتی سپریم کورٹ کا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے مودی سرکار کے اقدام کو برقرار رکھا، متعصبانہ فیصلہ ہے جو مودی کی ہندوتوا پالیسیوں کو دوام بخشنے کے مترادف ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی طور پر ایک تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس کو اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے بھی تسلیم کر رکھا ہے۔ لہذا بھارت کو کشمیر کے متنازعہ علاقہ کے تعین کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس معزز ایوان کی رائے میں بھارتی حکومت اور بھارتی سپریم کورٹ نے ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ غداری کی تاریخ دہرائی ہے۔ کسی ایک موقع پر بھی بھارتی عدالت نے کشمیریوں کو ریلیف نہیں دیا اور بھارتی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370کے بارہ میں فیصلہ سنا کر بھارتی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ جس کو ڈیڑھ کروڑ کشمیر ی عوام یکسر مسترد کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے۔ تنازع کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ ایوان اقوام متحدہ، عالمی برادری اور دنیا کی مہذب اقوام سے مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ کشمیر ی استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔
سابق وزیرا عظم سردار عبد القیوم نیازی نے قرارداد پیش کر تے ہوئے کہا کہ یہ ایوان مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے بارے میں بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی شدید مذمت کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ اس فیصلے سے بھارت کی سپریم کورٹ کا مکروہ چہرہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔بھارت کے تمام ادارے حتی کے سپریم کورٹ بھی بھارتی فوج کے زیر اثر ہے جس نے مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔بھارتی سپریم کورٹ سے کشمیریوں کو کوئی امید نہیں تھی ہمیں پتہ تھا کہ ایسا ہی فیصلہ آئے گا کیوں کہ بھارت کے تمام ادارے کشمیریوں کے انسانی حقوق کو پامال کرنے میں براہ راست ملوث ہیں۔یہ معزز ایوان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ کشمیری بھارت سے آزادی چاہتے ہیں اور وہ تحریک آزادی کو ہر حال میں جاری رکھتے ہوے اس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے یہ ایوان حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دفتر خارجہ کو متحرک کرے اور تمام بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اسکے حقیقی تناظر میں اجاگر کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے کشمیری قیادت سے فوری مشاورتی عمل شروع کرکہ مستقبل کی حکمت عملی ترتیب دی جاے یہ ایوان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ کشمیریوں نے اپنی حقیقی منزل پاکستان کے لیے پہلے بھی مصائب مشکلات پریشانیوں کو جھیلا ہے اور آگے بھی کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔یہ ایوان سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے اوپر پیش رفت اور 5 اگست کے اقدامات کی واپسی تک کسی بھی قسم کے مذاکرات نہ کرنے کی پالیسی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اس بات کا حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان تمام اقدامات کی واپسی تک کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں ہونی چاہیے کہ ان تمام اقدامات کی واپسی تک کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں ہونی چاہیے۔

