آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا شمار تحریک پاکستان کے اکابرین میں ہوتا ہے ہمیں ان کی خدمات کو یاد رکھنا چاہیے

آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا شمار تحریک پاکستان کے اکابرین میں ہوتا ہے ہمیں ان کی خدمات کو یاد رکھنا چاہیے۔ محترمہ فاطمہ جناح جیسے کردار صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ اپنی قوم اور اپنے ملک کیلیے وقف کر دیا جمہوریت کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔عوام کے ساتھ ان کی محبت فقید المثال تھی وہ کشمیر بھی تشریف لائیں۔وزیراعظم نے محترمہ فاطمہ جناح کی برسی کے موقع پر انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوے کہا کہ مظفرآباد میں خواتین کے لیے انہوں نے ہسپتال بھی قائم کیا تھا ہم مادر ملت کو سلام پیش کرتے ہیں موجودہ دور میں وہ خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں انہوں نے تحریک پاکستان کے دوران بانی پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور انہیں کی بدولت برصغیر کے گلی کوچوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تحریک پاکستان میں سرگرم ہوئیں۔انہوں نے کہا محترمہ نے 1940 میں اس تاریخی اجلاس میں شرکت کی جس میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔انہوں نے کہا کہ محترمہ خواتین کی تعلیم پر بہت زور دیتی تھیں انہوں نے 1955 میں خاتون پاکستان کے نام سے کراچی میں سکول کھولا جو بعد میں کالج اور پھر یونیورسٹی بنا۔وزیراعظم نے کہا کہ محترمہ کو آزادکشمیر کی تعمیر و ترقی اور تحریک آزادی کشمیر سے بڑی دلچسبی تھی ان کے کہنے پر ہی ریاست کے ایک عظیم بیٹے جناب کے ایچ خورشید نے آزادکشمیر کی صدارت کا منصب سنبھالا تھا۔انہوں نے کہا کہ محترمہ کو لحد میں اتارنے کا اعزاز بھی جناب کے ایچ خورشید کے حصے میں ہی آیا تھا۔وزیراعظم نے کہا محترمہ فاطمہ جناح نے کوہالہ کے مقام پر ایک پل کا افتتاح بھی کیا تھا۔انہوں نے کہا میڈیا کو چاہیے کہ وہ قوم کو محترمہ فاطمہ جناح کی خدمات سے آگاہ کرے جنہیں یاد رکھنا چاہیے انہیں کبھی بھولنا نہیں چاہیے۔انہوں نے کہا محترمہ سیاسی بصیرت میں اپنے بھائی قائداعظم محمد علی جناح کی حقیقی جانشین تھیں۔انہوں نے کہا کہ قائداعظم علیہ الرحمہ نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ وہ اپنی بہن کی سال ہا سال کی پرخلوص خدمات اور مسلمان خواتین کی آزادی کیلیے انتھک جدوجہد کی وجہ سے ان کے انتہائی مقروض ہیں۔ایک اور موقع پر بانی پاکستان نے کہا کہ جن دنوں مجھے برطانوی حکومت کے ہاتھوں کسی بھی وقت گرفتاری کی توقع تھی تو ان دنوں میری بہن ہی تھی جو میری ہمت بندھاتی تھی جب حالات کے طوفان مجھے گھیر لیتے تھے تو میری بہن میری حوصلہ افزائی کرتی۔

Share This Post

More To Explore