وزیرا عظم آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر سردارتنویر الیاس خان نے کہا کہ میر واعظ کشمیر مولانا محمد یوسف شاہ اور ان کے خاندان نے کشمیری عوام کو دین اسلام سے وابستہ رکھنے اور انہیں آزادی کی نعمت سے ہمکنار کرنے کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں وہ کشمیری عوام کے سچے خواہاں تھے۔جنہوں نے ایک طرف انہیں اسلامی تعلیمات سے نواز نے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں تو دوسری طرف انہیں اتحاد اور یگانگت کا درس دیا۔ان کی نگاہ دوربین نے دیکھ لیا تھا کہ مسلمانوں میں جس چیز کی کمی ہے وہ اتحاد اور اتفاق ہے جس کے بغیر کوئی بھی قوم اپنے قومی مقاصد حاصل نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ میر واعظ کشمیر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد جموں و کشمیر کی تعمیر و ترقی میں گہری دلچسپی لی۔انہوں نے اسلامی ممالک کے دورے بھی کیے۔میر واعظ سیاسی و مذہبی حلقوں میں ممتاز مقام رکھتے تھے اور انہیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ قرآن مجید کا کشمیری زبان میں ترجمہ اور تفسیر ان کا ایسا بڑا کارنامہ ہے جسے قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔آپ نے اپنی زندگی درس و تدریس میں بسر کی اور کشمیر میں سیاسی بیداری کی مہم شروع کی اور ریاست میں دینی، سماجی اور روحانی خدمات کے ساتھ تحریک آزادی اور الحا ق پاکستان کے لیے بھی گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
