وزیر زراعت ولائیوسٹاک سردارمیراکبر خان نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کی آب وہوا زرعی ترقی اور خودکفالت کیلئے ساز گارہے۔قدرتی وسائل کی فراوانی ہونے کی بنیاد پر ریاست Biodiversityکی دولت سے مالامال ہے۔پورا سال ہر مہینہ میں کوئی نہ کوئی فصل،سبزی یا پھل تیار ہوتا ہے جو کہ Food Securityکو یقینی بناتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادکشمیر کے لوگوں کا مٹی سے ٹوٹا ہوا رشتہ بحال کیاجائے جس کیلئے محکمہ زراعت کی زرعی توسیعی سروس کا کلیدی کردار ادا کرنا ضروری ہے۔لہٰذا محکمہ کے تمام آفیسران واہلکاران اپنے فرائض جانفشانی سے ادا کرتے ہوئے زمینداران کی بھرپور راہنمائی کریں اور ہر طرح کی تکنیکی معاونت کی فراہمی یقینی بنائیں۔ا ن کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی موجودہ لہر سے نبردآزما ہونے کا واحد حل زراعت میں خود کفالت کی منزل طے کرنا ہے۔گھریلو سطح پر پھل اورسبزیات کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے خواتین کو کچن گارڈننگ کی جانب راغب کیا جانا ضروری ہے۔ریاست بھر میں کچن گارڈننگ کی تربیت ہاء دینے کے ساتھ ساتھ سبزیات کے بیج کی بروقت فراہمی کو بھی یقینی بنایا جانا مقصود ہے۔آزادکشمیر کے کم رقبہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کیلئے پھلوں اورسبزیات کی کاشت کی طرف بھرپورتوجہ دی جائے تاکہ نہ صرف گھریلو ضروریات پوری ہوں بلکہ ریاست کو اثمار وسبزیات کی پیداوار میں خود کفالت بھی حاصل ہو۔ وزیر زراعت کا مزید کہنا تھا کہ حکومت زرعی ترقی کی منازل طے کرنے کیلئے مربوط حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔زمینداران کی ہر طرح سے معاونت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ریاست کی عوام سے بھرپور اپیل ہے کہ اپنئے آباؤاجداد کے پیشہ کو اپنا

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
