وزیر صحت عامہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سید بازل علی نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

وزیر صحت عامہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سید بازل علی نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔جس میں سکریٹری صحت عامہ برگیڈیئر عامر رضا ٹیپو، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ آزاد کشمیر ڈاکٹر ممتاز احمد، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز (CDC) ڈاکٹر محمد فاروق، اور پروونشیل پروگرام منیجر ای پی آئی ڈاکٹر سردار منظور حسین؛چیف ڈرگ کنٹرولر محترمہ فوزیہ اشرف سمیت محکمہ صحت کے تمام سینئر افسران اور تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسران؛ ڈپٹی ڈرگ کنٹرولرز صاحبان نے شرکت کی۔ اجلاس میں آزادکشمیر بھر میں صحت عامہ کے موجودہ ڈھانچے، سروس ڈیلیوری، انسانی وسائل، انفراسٹرکچر، قوانین و ضوابط اور ادویات کی فراہمی کے حوالہ سے جائزہ لیا گیا۔تمام ڈی۔ایچ۔او صاحبان نے اپنے اپنے اضلاع سے متعلق تفصیلی رپورٹس/بریفنگ پیش کیں۔ ان رپورٹس کے مطابق طبی مراکز کی صورتحال؛بی ایچ یوز، آر ایچ یوز، تحصیل ہیڈکوارٹرز، دیگر طبی مراکز کی مکمل تعداد؛فعال و غیر فعال مراکز کی فہرست؛دستیاب سہولیات اور درکار وسائل؛انسانی وسائل (Human Resource)پرائیویٹ ہسپتالوں کی ریگولیشن کے لیے ہیلتھ کئیر کمیشن کا قیام،لیب ایکٹ کی بحالی،ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس وجملہ کیڈر کی منظور شدہ اور خالی آسامیوں کی تفصیلات،پیرامیڈیکل اور سپورٹنگ اسٹاف کی کمی؛ایڈمنسٹریٹو عملے کی ضرورت،ماہرین (سپیشلسٹس ڈاکٹرز) کی تعیناتی کا مسائل،نئی بھرتیوں متعلق سفارشات،ادویات اور میڈیکل سپلائز،سالانہ ادویات بجٹ کی موجودہ حیثیت؛ ادویات کی دستیابی، قلت اور ضروریات؛ہنگامی ادویات کی فراہمی؛کولڈ چین اور اسٹاک مینجمنٹ کے مسائل؛انفراسٹرکچر اور فسیلٹیز؛سرکاری عمارتوں کی مرمت، توسیع اور اپگریڈیشن کی ضروریات؛رینٹل فرسٹ ایڈ پوسٹس اور رینٹل میڈیکل مراکز کے مسائل؛بنیادی سہولیات (پانی، بجلی، جنریٹر، لیبارٹری آلات) کی عدم دستیابی؛زیر تعمیر منصوبوں کی موجودہ رفتار اور رکاوٹیں؛ٹرانسپورٹ اور ایمبولینس سروس؛ریاست بھر میں دستیاب ایمبولینسز کی تعداد؛ناکارہ یا مرمت طلب گاڑیوں کی تفصیل؛دور دراز علاقوں کے لیے مزید ایمبولینسز کی فوری ضرورت؛ریفرل سسٹم کو بہتر بنانے کی حکمت عملی؛ انتظامی و عملی مسائل؛عملے کی حاضری کے مسائل؛ دور دراز و مشکل علاقوں میں ڈاکٹرز کی تعیناتی چیلنج؛مالیاتی مشکلات؛ضلعی سطح پر رکاوٹیں اور حلقہ ممبر اسمبلی /وزیر حکومت سے فوری حل طلب معاملات؛ ڈرگ انسپکٹرز کی بریفنگ اور قانونی امور زیر بحث رہے اس کے علاوہ اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ڈرگ انسپکٹرز نے بھی اپنی تفصیلی رپورٹس پیش کیں جن کے مطابق ڈرگ لائسنسنگ کیسز؛نئے لائسنسوں کی درخواستوں کی تعداد؛تجدید (renewal) کے کیسز؛ادھورے یا زیر التواء کیسز کی تفصیل؛ ڈرگ کورٹ کے عدم قیام سے پیدا ہونے والے مسائل؛ صبط شدہ ادویات کے قانونی فیصلوں میں تاخیر؛جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خلاف کارروائی میں مشکلات؛ قانونی کارروائی کے التواء سے عوامی صحت پر اثرات؛ ڈرگ ریگولیشن کو مضبوط بنانے کے لیے تجاویز؛میڈیکل مارکیٹ مانیٹرنگ؛میڈیکل سٹورز کی چیکنگ؛اؤور پرائسنگ اور جعلی ادویات کے خلاف کارروائی؛ سیمپلز کی لیبارٹری ٹیسٹنگ کی صورتحال؛اجلاس کا مجموعی تجزیہ اور آئندہ کا لائحہ عمل؛اجلاس میں ریاست بھر کے صحت عامہ کے نظام کا جامع جائزہ پیش کیا گیا۔ تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران نے زمینی حقائق، عملی مشکلات اور فوری ضروریات کی نشاندہی کی جس میں غیر فعال طبی مراکز کو فوری طور پر فعال بنانا؛ خالی آسامیوں پر بھرتی کا عمل تیز کرنا؛ ادویات کی قلت دور کر کے بجٹ کا مؤثر استعمال؛انفراسٹرکچر کی مرمت اور اپگریڈیشن؛ایمبولینس اور ٹرانسپورٹ سسٹم کو مضبوط بنانا؛ڈرگ کورٹ کے قیام کے لیے عملی اقدامات؛ لائسنسنگ اور ڈرگ ریگولیشن کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنا شامل تھے۔وزیر صحت عامہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سید بازل علی نقوی؛سکریٹری صحت عامہ آزاد کشمیر اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ آزاد کشمیر ڈاکٹر ممتاز احمد نے محکمہ صحت کے متعلقہ حکام کو سختی کے ساتھ ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے تمام بیسک ہیلتھ یونٹس کو آئندہ دس روز کے اندر مکمل طور پر فعال اور مؤثر بنایا جائے۔جلد ہی تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال دھیرکوٹ میں اپریشن اور وارڈز کو فنکشنل کرنے کا افتتاح وزیر صحت عامہ آزاد کشمیر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات کی بروقت اور معیاری فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، جس میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیر صحت عامہ نے اعلان کیا کہ اس سلسلے میں وزیر صحت، سیکرٹری صحت عامہ اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ آزاد کشمیر خود سرپرائز وزٹس انجام دیں گے تاکہ بی ایچ یوز کی عملی حالت، دستیاب سہولیات، عملے کی حاضری اور سروس ڈیلیوری کا براہِ راست جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان دوروں کا مقصد صرف انتظامی بہتری نہیں بلکہ عوامی مفاد میں صحت کے بنیادی نظام کو مؤثر بنانا ہے۔وزیر صحت نے سختی سے تاکید کی کہ کسی بھی بیسک ہیلتھ یونٹ میں ناقص کارکردگی، سہولیات کی عدم دستیابی، عملے کی غیر حاضری یا دیے گئے اہداف میں کوتاہی کی صورت میں متعلقہ ضلعی ہیلتھ آفیسر مکمل طور پر ذمہ دار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ غفلت کے مرتکب افسران اور ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وزیر صحت عامہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت صحت کے بنیادی ڈھانچے کو فعال، مضبوط اور عوام دوست بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی،اور جلد اس ضمن میں نمایاں بہتری عوام کو نظر آئے گی۔وزیر صحت عامہ آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد ریاست آزاد کشمیر بھر میں صحت عامہ کے نظام کو مؤثر، شفاف اور معیاری خطوط پر استوار کرنا، جبکہ ادویات کی فراہمی، کوالٹی کنٹرول، اور نگرانی کے عمل کو مزید مضبوط بنانا ہے۔سٹینڈرڈ؛ سب سٹینڈرڈ؛ جعلی اور ناقص ادویات کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔وزیرِ صحت سید بازل علی نقوی نے واضح اور دوٹوک ہدیات دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان اور صحت کے تحفظ کے لیے جعلی، ناقص، غیر رجسٹرڈ اور ممنوعہ ادویات کی فروخت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔ انہوں نے ڈرگ انسپکٹرز کو ہدایت کی کہ تمام میڈیکل اسٹورز، فارمیسیز اور ڈسپنسریز کا باقاعدہ، مربوط اور غیر اعلانیہ معائنہ کیا جائے۔جہاں بھی غیر معیاری، غیر قانونی یا تاریخِ تنسیخ شدہ؛ایکسپائرڈ ادویات پائی جائیں، وہاں موقع پر فوری قانونی کارروائی کی جائے۔کارروائی میں لائسنس کی معطلی، جرمانے، اسٹور کی سیلنگ اور مقدمات کے اندراج جیسے اقدامات کیے جائیں۔اس مہم میں کسی قسم کا دباؤ، سفارش یا رعایت قبول نہیں کی جائے گی۔رجسٹرڈ اور مغیر رجسٹرڈ میڈیکل اسٹورز کی مکمل ڈیجیٹل فہرست تیاز کی جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر ضلع میں موجود میڈیکل اسٹورز، فارمیسیز اور ڈسپنسریز کی؛رجسٹرڈ دکانوں کی تازہ فہرست تیار کی جائیں۔غیر رجسٹرڈ دکانوں کی الگ فہرست تیار کی جائیں؛ان کے لائسنس، تجدید اور معائنے کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کی جائے تاکہ نگرانی کے عمل کو مرکزی سطح پر بھی مؤثر انداز میں مانیٹر کیا جا سکے۔ادویات کے معیار کی جانچ اور لیبارٹری نظام کو مضبوط بنانا؛ میرپور ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کو مکمل فعال کرنا ادویات کے کوالٹی کنٹرول کے حوالے سے ضلعی سطح پر کوالٹی کنٹرول لیبارٹری کو جدید آلات سے بہتر بنایا جائے گا۔سیمپلنگ کے معیار کو بین الاقوامی اصولوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔مشکوک ادویات کے سیمپلز کی فوری بنیادوں پر ٹیسٹنگ کر کے رپورٹ صحت کے دفتر کو بھیجی جائے گی۔تمام اضلاع کے ڈی ایچ اوز بنیادوں پر کوالٹی کنٹرول رپورٹس جمع کروائیں گے۔شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی کا نیا نظام بہتر کیا جائے۔وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ صحت عوامی اعتماد کی بحالی اور شفافیت کو اپنی ترجیحات کا مرکز بنا چکا ہے۔ اس سلسلے میں صحت کی سہولیات میں غفلت، بدانتظامی، یا عوامی شکایات پر فوری محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ ڈی ایچ او کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے ضلع میں صحت مراکز کے دورے باقاعدگی سے کریں اور رپورٹ براہِ راست دفترِ وزیرِ صحت میں جمع کروائیں۔انہوں نے کہا کہ ناقص کارکردگی کی اصورت میں متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وزیرِ صحت نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دوا خریدتے وقت اس کی رجسٹریشن نمبر، لائسنس نمبر، سیل اور معیار ضرور چیک کریں۔کسی مشکوک دوا، جعلی ادویات یا غیر معیاری میڈیکل اسٹور کی فوری اطلاع ضلعی ڈرگ انسپکٹر یا ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو دیں۔عوامی تعاون سے ہی اس مہم کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔میٹنگ میں شریک افسران نے یقین دہانی کروائی کہ حکومتی ہدایات پر پوری سختی، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صحت عامہ کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ماہرین کے مطابق اگر اجلاس میں طے شدہ فیصلوں پر عملی سطح پر سنجیدگی اور مؤثر انداز میں عمل ہوا تو آزاد کشمیر میں صحت عامہ کے نظام،ادویاتی فراہمی کے معیار،ادویات کی دستیابی و نگرانی کے ڈھانچے، عوامی صحت کے تحفظ کے میدان میں نمایاں اور دیرپا بہتری ممکن ہو سکے گی۔

Share This Post

More To Explore